فریب

1,794

سینے سے لگے گھٹنوں پر ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے وجود میں لرزتی جنبش کے ہلکے ہلکے آثارنمودارتھے، ذہن میں بیشمار خیالات یکسر اس کی دماغی صور تحال کو بے چین کر رہے تھے، چہرہ بالکل سپاٹ تھا، آنکھوں میں ڈر اور خوف کے ملے جلے جذبات اس کی روح کو مزید بے چین کر رہے تھے، پلنگ کی پٹی سے سہارہ لیے بیٹھی وہ سامنے دیوار پر لگے صفر روشنائی والے برقی بلب کو تسلسل کے ساتھ گھورے جا رہی تھی۔

اچانک دروازے کی ناب کے گھومنے کی آواز نے اس کی ذہنی اور جسمانی ابتری کو قرار بخشا۔ دروازے سے اندر داخل ہونے والا ایک چوبیس سالہ نوجوان تھا۔ نہایت ہی نفیس لباس میں ملبوس آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا کمرے میں داخل ہوا۔ لبوں پہ مسکراہٹ اور چہرے پر مسرت سجائے گرمجوشی سے بولا،

‘اتنی سی دیر تھی۔ دیکھو میں آ گیا، مَنا ل۔’

دھیرے سے اس کے وجود میں جنبش ہوئی اور آنکھیں نوجوان کے چہرے پر آ کر ٹک گئیں۔

’میں سہم گئی تھی معصب، مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔‘

‘میں یہاں نیچے ریسپشن تک ہی تو گیا تھا، مَنال۔’

دھیمے دھیمے قدم اٹھاتا وہ پلنگ کے ایک طرف بیٹھ گیا۔ اپنا دایاں ہاتھ اس کے بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے نہایت نرم لہجے میں بولا، ’اب بے چین نہ ہو، مَنال، میں آپ کے پاس ہوں۔’

منال اپنے والدین کی پہلوٹی کی اولاد تھی۔ اس کی پیدائش اپنے والدین کی شادی کے چار سال بعد ہوئی تھی۔ اولاد کی نعمت کے لیے اس کے ماں باپ نے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔ جس نے جو وظیفہ بتایا وہ کیا، جس نے کسی پیر کا بتایا یہ اس کے پاس پہنچ گئے، ہر ڈاکٹر کو دکھا دیا لیکن اللہ کے کام اللہ ہی جانے۔ مَنال کے ماں باپ کی شادی کے چوتھے سال ہونے والا یہ جنم ان کے پاؤں زمین پر لگنے نہیں دیتا تھا۔ مٹھائیاں بانٹی گئیں، خوشیاں منائی گئیں، خوب خیرات کی گئی۔ منال کے بعد دو مزید پھول اس گھر کے آنگن میں کھلے۔

مَنال پیدائشی طور پر خو بصورت نین نقش کی حامل تھی۔ چمکتی آنکھیں، تیکھا ناک، سیب سے سرخ گال اور صراحی دار لمبی گردن۔ چھ سال کی عمر میں مَنال کو سکول داخل کروا دیا گیا۔

وقت کی تیز گاڑی نے ہر جاندار کی طرح مخصوص نشوونما کے مراحل سے گزار کر خوبصورت کلی کو لڑکپن سے جوانی کے کھلتے گلاب کی شکل دے دی۔ جوانی کے اس احساس نے شدت تب اختیار کی جب معصب نے پہلی بار مَنال سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

معصب کا خاندان کچھ مہینے پہلے ہی اس علاقے میں شفٹ ہوا تھا۔ مَنال کو پہلی بار دیکھتے ہی معصب اُس پر فریفتہ ہو گیا اور اپنا دل اس معصوم کھلتے کنول کے ہاتھوں ہار گیا۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ پہلی جھلک کی محبت کے نتائج بہت حیران کن اور تباہ خیز ہوتے ہیں کیوں کہ میرا ماننا ہے محبت کبھی بھی ایک جھلک دیکھنے سے دل کے آنگن کو سرسبز نہیں کرتی۔ یہ تو وہ احساس ہے جو آہستہ آہستہ جسم میں سرائیت کرتا ہے۔ دھیرے دھیرے اپنی تڑپ اور جنوں کو آشکار کرتا ہے اور پھر رمکے رمکے روح تک کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ محبت بھی رائی کے دانے کی طرح دل کی زمین پر قدم رکھتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ پہاڑ میں تبدیل ہوتی ہے۔ ایک ننھے پودے کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ تناور اور مضبو ط درخت میں تبدیل ہوتا ہے۔ دل کی سرزمین کا ایک جھلک میں زرخیز ہو جانا فریب، مکاری اور دغا تو ہو سکتا ہے، محبت نہیں۔

اور فریب محبت کے بہت قریں ہے۔ محبت کاعشق کے درجے پر فائز ہو جانا یا فریب کھا جانے میں بس ایک باریک پردے کا ہی تو فرق ہے۔

قریں سے قریں ہوتے جسموں نے ہوس کو اِس نہج تک پہنچا دیا جہاں سے واپسی کی کوئی راہ ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں سے جسم کے داغ دار ہونے کے ساتھ ساتھ روح پر بھی نہ مٹنے والے داغ کی چھاپ پڑ جاتی ہے۔ جہاں سے جسم کے گھاؤ بھر جانے کے بعد بھی روح پر لگے کلنک کے ٹیکے ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔

ان لمحات کے بعد دوبارہ معصب کبھی مَنال کی زندگی میں نظر نہیں آیا۔ وہ جا چکا تھا۔ دور بہت دور جہاں وہ دوبارہ کس پہلی نظر کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہوگا۔

‘کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے’۔ اذل سے اب تک انسان وہی خصوصیات اورعادات اپنائے ہوئے ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے اِختیار کیے ہوئے تھا۔ وہی لالچ، ہوس، مفاد پرستی، کینہ.. ان کے شکار ہم کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ آج بھی انہی عادات کی رضاَئے پروری میں عصمت تار تار ہو گئی تھی۔

آج پھر ہوس محبت کے تیر سے شکار کر گئی۔ شکاری پھر سے اَنہی خصوصیات کا دلدادہ تھا۔ شکار ہونے والا پھر سے ایک کھلتا کنول تھا!

مصنف جامعہ پنجاب میں ابلاغیات کے طالبِ علم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    باہمی رضامندی سے کیا جانے والا فعل فریب کے زمرے میں کیسے آ سکتا ہے؟

  2. فریب | Urdu One

    […] by Urdu One | جون 27, 2018 | بلاگ | 0 comments […]

تبصرے بند ہیں.