بیوائوں کا عالمی دن اور پاکستانی بیوائوں کا حال

1,947

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بیوہ خواتین مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ ہر سال تئیس جون کو بیوائوں کا عالمی دن مناتی ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں بیوائوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

اہلِ مغرب ہر معاملے میں ہم سے آگے رہنے کی کوشش کرتے ہیں دوسری طرف ہم اپنی آخرت سنوارنے کے چکر میں ارد گرد کے لوگوں کی دنیا جہنم بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اہلِ مغرب سالوں پہلے بیوائوں کے حقوق کے لیے مناسب قانون سازی کر چکے ہیں جبکہ ہم ابھی تک اسی مغالطے میں ہیں کہ ہم سے زیادہ عورت کو حقوق کبھی کسی معاشرے اور تہذیب نے نہیں دیے۔ وہ الگ بات ہے کہ ہر سروے رپورٹ میں ہمارے سمیت کئی مسلم ممالک کا شمار عورتوں کے لیے بد ترین سمجھے جانے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس کا جواب ہم یہ دے دیتے ہیں کہ یہ سروے رپورٹ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ہم اپنی اس خیالی جنت سے نہیں نکلیں گے اور اپنے مسائل کو نہیں سمجھیں گے تب تک ہم ان کے حل کی طرف بھی نہیں بڑھ سکیں گے۔

اگر ہم اپنی آنکھوں پر لگی ‘سب اچھا ہے’ کی عینک اتار کر دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ پاکستان میں بیوہ خواتین کس حال میں رہ رہی ہیں اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس معاشرے میں ایک عورت کے نصیب سے مراد بس ایک “اچھا شوہر” سمجھا جاتا ہو، اس معاشرے میں “نصیب” کی وفات کے بعد عورت کا کیا حال ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

بیٹیوں کی کم عمری میں شادی کرنا ہم اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ کم عمری میں شادی کے جتنے فوائد ہیں اس سے زیادہ نقصانات ہیں لیکن جس معاشرے میں عورت کی پیدائش کا مقصد ہی شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا بنا دیا گیا ہو وہاں ‘شادی کے وقت لڑکی اور لڑکے کی مناسب عمر کیا ہونی چاہئیے’ پر بات کرنا ہی فضول ہے۔ کم عمری کی شادی کی وجہ سے اکثر لڑکیاں تئیس چوبیس سال کی عمر میں ہی تین چار بچوں کی ماں بھی بن چکی ہوتی ہیں اور بیوہ بھی ہو چکی ہوتی ہیں۔ ہر سال بچہ پیدا کرنے کے باعث کئی بیماریاں بھی ان کی جان کو چپکی ہوتی ہیں۔ اب ان حالات میں ان کی زندگی کا پہیہ کیسے چلے گا؟ اپنی ضروریات کے لیے دوبارہ اپنے ماں باپ اور بھائیوں پر بوجھ بن جاتی ہیں اور بوجھ کوئی کتنی دیر اٹھا سکتا ہے؟

شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیوہ اس کے گھر میں ہی رہے گی یا واپس اپنے والدین کے گھر جائے گی، یہ فیصلہ کرنے کا اختیار بھی اسے نہیں ہوتا۔ کئی گھروں میں بچے چھین کر عورت کو گھر کے باہر کر دیا جاتا ہے کہ اب تمہارا کردار ختم۔۔ اپنی راہ پکڑو۔ ماں باپ جو سالوں پہلے بیٹی کے بوجھ سے خود کو آزاد کر چکے ہوتے ہیں، ان پر یہ بوجھ دوبارہ آن پڑتا ہے۔ نہ بیٹی کو مناسب تعلیم دلوائی ہوتی ہے، نہ ہی گول روٹی پکانے کے علاوہ کوئی ہنر سکھایا ہوتا ہے، ایسی بیوہ کیسے اپنے پائوں پر کھڑی ہوگی؟ جن کی بیٹی ڈگری یافتہ ہوتی ہے، اتنے سال گھر بیٹھے رہنے کی وجہ سے سب کچھ بھول بھال چکی ہوتی ہے اور اسے باہر جا کر کام کرنے کی عادت بھی نہیں رہتی۔ کوئی نوکری ڈھونڈ بھی لے تو اس کا دھیان پیچھے بچوں میں ہی لگا رہتا ہے جس سے اس کا کام متاثر ہوتا ہے۔ بچوں سے دھیان ہٹا بھی لے تو ہم ہی اس کے باہر آنے جانے پر منہ بھر بھر کر باتیں کر دیتے ہیں۔

اسلام نے بیوہ عورتوں کو کئی حقوق دیے ہیں جن میں دوسری شادی، خاوند کی جائیداد میں حصہ، بچوں کی حقِ ملکیت کے علاوہ کئی دیگر حقوق بھی شامل ہیں لیکن اسلام کے پیروکاروں نے ان خواتین سے یہ سب حقوق لے کر انہیں بس سانس لینے کی اجازت دی ہے۔

اسلام کے ابتدائی دور میں بیوہ عورت کی دوسری شادی کچھ مشکل نہیں ہوتی تھی لیکن پھر رفتہ رفتہ مولویوں کے بیان کردہ حوروں کے قصے سن سن کر کم عمر، خوبصورت اور باکرہ دلہنوں کی مانگ بڑھنے لگی اور اب حال یہ ہے کہ بیوہ عورت سے شادی کا سوچنا بھی گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی دوبارہ شادی بھی ہو تو ان کا امیدوار کوئی ایسا رنڈوا ہوتا ہے جس کا ان سے شادی کا مقصد اپنے بچوں اور بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال کروانا ہوتا ہے۔ وہ ان سے شادی بھی اس شرط پر کرتا ہے کہ خاتون اپنے بچے ساتھ نہیں لائیں گی۔

بیوہ خاتون شوہر کی جائیداد میں حصۃ مانگے تو بات مار پیٹ سے شروع ہوتی ہے اور زندہ جلانے پر ختم ہوتی ہے. گرچہ کچھ بیوائیں بہت اچھے حال میں بھی رہتی ہیں لیکن اس میں ان کی قسمت کا ہاتھ ہو تو ہو، ہمارا ہاتھ ہرگز نہیں ہوتا. بیوہ خواتین کو معاشرے پر بوجھ بنا دیا گیا ہے۔ اگر بس ہم اپنی خواتین کو مناسب تعلیم دے کر اپنے پیروں پر کھڑا کر دیں تو وہ در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچ جائیں لیکن ہمارے ہاں عورت کی ہر مشکل کا حل بس شادی ہے۔ حکومت کو شادی رجسٹر کروانے کے لیے دلہا اور دلہن کے لیے سولہ سالہ تعلیم لازمی قرار دے دینی چاہئیے۔ ہاتھ میں ڈگری ہوگی تو مشکل وقت میں سلائی مشین سے بہتر ساتھ دے گی لیکن ہمیں آج بھی ڈگری سے زیادہ بھروسہ سلائی مشین پر ہے۔

ملک بھر میں بچوں کے سکول اور کالج کے اوقات صبح آٹھ سے پانچ بجے ہونے چاہئیے تاکہ جو مائیں آٹھ گھنٹے کی نوکری کرتی ہیں انہیں یہ پریشانی نہ ہو کہ ان کا بچہ گھر پر ان کا انتظار کر رہا ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں ڈے کئیر سینٹرز، پرائمری و سیکنڈری سکول کے اوقات آٹھ سے پانچ ہیں۔ والدین دفتر جانے سے پہلے اپنے بچے کو اس کے سکول چھوڑتے ہیں اور دفتر سے واپسی پر لے کر گھر آ جاتے ہیں۔ بچے سکول میں ہی صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا بھی کھاتے ہیں. ماں باپ کو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ گھر جا کر کچھ پکانا ہے اور بچے کو کھلانا ہے.

بیوہ عورتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کے علاوہ ہمیں بھی بطور معاشرہ اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان کے لیے کچھ نہیں بھی کر سکتے تو صرف اپنا منہ بند رکھ کر ہی ہم ان کی زندگی بہت حد تک آسان کر سکتے ہیں۔

ان بیوائوں کے ساتھ ساتھ ان سینکڑوں عورتوں کو بھی نہ بھولیں جو کہ شوہر کے ہوتے ہوئے بھی بیوہ کی سی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے شوہر کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، زندہ ہیں کہ مردہ ہیں، انہیں کچھ نہیں پتہ۔ بس اتنا پتہ ہے کہ سالوں پہلے کچھ لوگ آئے تھے اور ان کے شوہر کو اٹھا کر لے گئے تھے۔ اپنے شوہر کی تصویر ہاتھ میں پکڑے وہ در در بھٹکتی ہیں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ نہ پولیس ایف آئی آر کاٹتی ہے، نہ سیاست دان سنتے ہیں اور نہ ہی میڈیا انہیں ہاتھ پکڑاتا ہے۔ بیوائوں کے اس عالمی دن پر کوئی ان بیوائوں کی بھی عرضی سن لے۔ کم از کم انہیں اتنا ہی بتا دیا جائے کہ ان کا شوہر کس حال میں ہے، اس دنیا میں ہے بھی یا دوسری دنیا میں پہنچایا جا چکا ہے؟

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. محمدیاسین کہتے ہیں

    ایک بہترین اور مدلل تجزیہ۔۔ خواتین کے مسائل اجاگر کرکےآپ یقینا خدمت خلق کررہی ہیں۔۔ اللہ تعالیٰ استقامت دے ۔ آمین

  2. حسین ثاقب کہتے ہیں

    کیا بیواوں میں رنڈوے بھی شامل ہیں؟

  3. Addi کہتے ہیں

    آپ کا یہ جملہ دیکھ کر اپنا ذاتی تجربہ بتانا چاہوں گا

    ان کی دوبارہ شادی بھی ہو تو ان کا امیدوار کوئی ایسا رنڈوا ہوتا ہے جس کا ان سے شادی کا مقصد اپنے بچوں اور بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال کروانا ہوتا ہے۔
    میں ایسی بیوہ عورت کو بھی جانتا ہوں جس نے ایک رنڈوے سے شادی کی، اس رنڈوے کے چھوٹے بچوں پر ظلم کیا، اور اپنے پیار کے جادو میں اس رنڈوے کو اپنے بچوں سے دور کردیا۔

  4. عدنان احمد کہتے ہیں

    بے شک آپ نے اکثریتی مظلوم بیواؤں کا دکھ بہت بہت عمدہ بیان کیا ہے۔ آج کل غریب کنواری لڑکی کی شادی مشکل سے ہورہی ہے، جس وجہ سے پیسوں والا رنڈوا بڈھا جوان کنواری لڑکی سے شادی کر لیتا ہے آرام سے۔ وہ پھر کیوں کسی بیوہ سے کرے۔ ۔
    یہی ہماری مقبول ترین سوچ ہے۔

  5. Kashif ahmed کہتے ہیں

    آپ نٕے بہت اہم موضوع پر روشنی ڈالی اللہ آپکو عجر عطا فرماے

  6. Kashif ahmed کہتے ہیں

    اجر

تبصرے بند ہیں.