ایف بی آر نے عوام کی چاندنی کروادی

1,741

یوں تو ایف بی آر ایک ایسا بھروسے والا ادارہ ہے جس سے ہر صاحبِ جائیداد شخص خوفزدہ رہتا ہے کیونکہ ٹیکس دینے کا عوام کا بالکل بھی موڈ نہیں۔

یہ ایک طرح سے صحیح بھی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ٹیکس دو یا کسی نالی میں پیسے بہا دو ایک برابر ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس عوام پر تب لاگو ہوتا ہے جب قومی خرچے بڑھ جاتے ہیں اور ملک کو مالی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے مزید رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ملک میں ایسی انتظامیہ اور حکمران ہیں جو ملکی خزانے سے ناقص اور بے تکے منصوبوں کے نام پر اربوں روپے نکال لیتے ہیں اور لاکھوں کے منصوبے اپنی کمیشن ڈال کر اربوں کے بنا دیتے ہیں۔ اسی کرپشن کی وجہ سے عوام ٹیکس دینا بیوقوفی سمجھتی ہے۔

ایف بی آر کی شان دیکھو ملک میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کروادی اور پورے ملک کے چوروں لٹیروں اور کرپٹ لوگوں کو دعوت عام دی کہ آؤ میرے لال اپنے غیر قانونی اثاثوں کو قانونی بناؤ۔

اگر کسی شخص نے ڈکیتی یا فراڈ سے زمینیں جائیدادیں بنائی ہیں اور اب سکون کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو صرف چند ہزار روپے ٹیکس دے اور کروڑوں کی غیرقانونی جائیداد اپنے نام کروالے۔

جولائی 1920 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ کبھی اس طرح کی سکیمیں بھی لانچ کرے گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ جن بیچارے غریبوں کا مال لوٹا گیا، وہ پاکستان کے اداروں سے اس طرح کی امید ہرگز نہ رکھتے تھے۔

وہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی ادائیگی کا رجحان بڑھانے کی خاطر ایف بی آر یہ حربے آزما رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سکیم سے بمشکل 10 فیصد لوگ ہی مستفید ہو پائیں گے باقی تو اسی سوچ میں ہوں گے کہ کہیں یہ اک سازش نہ رچائی گئی ہو۔

جو بھی ہو جتنے بھی لوگ اس سکیم کے سے بہرہ مند ہوجائیں گے ان کی تو چاندنی ہو ہی جائے گی۔

عثمان بٹ صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.