سیلفی ایک لا علاج مرض ہے!

1,210

دُنیا ترقی کی مَنازل طے کرنے میں مصروف ہے اور ہم جَدید دور کی ایجاد کردہ “سیلفی” بڑے اِنہماک سے دوسروں کے ساتھ لینے میں مشغول ہیں۔ جہاں روز بروز ہمارا اپنا اِسٹیٹس گِرتا جا رہا ہے وہاں فیس بُک پر اِسٹیٹس اَپ ڈیٹ کر کے نہ جانے ہم کس خوش فہمی میں مُبتلا ہیں۔ گویا اگر فیس بُک پر اِسٹیٹس اَپ ڈیٹ ہوگیا تو ہمارا شمار ایک باعزت، اہل علم افراد میں ہونے لگ جاۓ گا۔

اگر کوئی شخص اپنی بے تُکی سیلفی کے بجائے سادہ سیلفی کھینچ کر اپنے ہی سوشل مِیڈیا اکائونٹ پر پوسٹ کر دے تو ایک خاص “مہذب طبقے” کے لوگ جِن کو حَسد کی بیماری چاٹ رہی ہے وہ اِس تصویر پر تَہمتوں کی برسات کر کے اپنی ہی آخرت تباہ کر دیتے ہیں۔

زندگی بہت خوبصورت ہے۔ ہم زندگی کے ہر گذرتے دِن کو یادگار بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اِن ہی لمحات کو تصویر کی شَکل میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ اگر ماضی میں دیکھنا ہو تو تصاویر میں جھانک لیتے ہیں، یوں ماضی کی گذری ہوئی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ پہلے کے دور میں بنائو سِنگھار کر کے تصاویر لی جاتی تھیں مگر اب زمانہ بدل چکا ہے کیونکہ اب سیلفی کے لیے تیار ہوا جاتا ہے۔ جب سیلفی مُتعارف نہیں کرائی گئی تھی تو تصویر لینے والا تصویر میں نہیں آ سکتا تھا۔ لیکن سیلفی کے ذریعے نہ صرف تصویریں ہاتھ کے ہاتھ دیکھی جاسکتی ہیں بلکہ تصویر لینے والا بھی با آسانی تصویر میں آسکتا ہے۔ کیمرے یا اِسمارٹ فون سے اُتاری گئی ایسی تصاویر جِن میں تصویر لینے والا صاف نظر آ رہا ہو، سیلفی کہلاتی ہے۔

سیلفی کا بُخار اب سَرطان بن چکا ہے وہ بھی لا علاج! یہ سیلفیاں خود پَسندی کے جراثیم اِتنی تیزی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں کہ اب جراثیم بھی شرما گئے ہیں کہ کیا ہم اتنے بُرے ہیں۔ مجھے تو اب تک ٹھیک سے سیلفی بنانا نہیں آئی کیونکہ میں ایک “سیلف میڈ” انسان ہوں۔ میرے والدین اِن جاں لیوا بیماریوں سے واقف تھے۔ اسی لیے انہوں نے مجھے بَچپن میں ہی حفاظتی ٹِیکے لگا دیے گئے تھے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ سیلفی بنانے کا خَبط مَردوں کی نِسبت خواتین کو زیادہ ہوتا ہے۔ مجھے تو اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ آخر ہم اپنی بُھونڈی تخلیقات کے ذریعے معاشرے کی کونسی تصویر دُنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ اگر ٹویٹر پر عالمی ٹرینڈز دیکھیئے اور پھر پاکستانی ٹرینڈز دیکھیئے۔ یَہود و نصارٰی جِن کو ہم اپنا دُشمن تصور کرتے ہیں وہ مَسائل اور ان کے حَل پر گفتگو کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دے کر اِن پر اظہارِ خیال کرتے ہیں، ماحولیاتی مسائل کو کس طرح حل کرنا ہے اتفاق اور عدم اتفاق کے خوبصورت مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کے اِمتیاز کو واضح کرنے کی دِلکش بحثیں ہوتی ہیں، نسل پرستی، تہذیبی، علاقائی تفاخر کے تصادم سے بچنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں “گو نواز گو”، “رو عمران رو”، میں تو کہوں گا”، “تِیر چلے گا، بَلا چلے گا” اس جیسے بے تُکے ٹرینڈز چلتے ہیں۔ جہاں ہم دِل کھول کر دوسروں کے عُیوب کی دِلیرانہ نمائش کرتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے کو ہاہاہا قہقہوں کے سبب آنسوں نکلتے ہوۓ اِمُوٹِیکون بھی بھیج کر اپنی حاسدانہ، عدم تحفظ کا شکار شخصیت کا پوری دُنیا کو تعارف کراتے ہیں۔ یہ سب کر کے خُوب اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم کس سِمت میں جا رہے ہیں۔ نہ جانے ہم اپنی کونسی چھپی ہوئی جَبلت کو تسکین پہنچانے کا سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں احساس اِس وقت ہوگا جب ہماری اخلاقیات کا پَارہ انسانی اِقدار کے نقطہ اِنجماد سے گِر جاۓ گا۔

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.