ہے ایک رمز جو تجھ پہ عیاں نہیں کرنی!

1,539

غلامی اور وفاداری دو الگ الگ چیزیں ہوتی ہیں۔ وفادار کو اختلاف کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن غلام کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا۔ غلام تو بس ہر حکم کا تابع ہوتا ہے، اسی لئے غلام ایک اچھا ملازم تو ہو سکتا ہے، ایک اچھا ساتھی نہیں۔ غلام آپ کو آپ کی غلطی پر بھی تحسین بھری نظروں سے دیکھتا ہے لیکن ایک وفادار آپ کو آپ کی غلطی پر ٹوکتا ہے اور نشاندہی کرتا ہے۔ ہمارے سیاسی بیابانوں میں تو وفاداری و غلامی کے معنی ہی بدل کر رکھ دئیے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ کےلئے لیڈر کی خوشنودی ضروری قرار پائی ہے۔ وزراء پارٹی لیڈروں کے قدموں میں اکثر بیٹھے پائے جاتے ہیں۔ پارٹی کے پڑھے لکھے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں رکھنے والے عہدیداران پارٹی لیڈر کے پیچھے ایسے ہاتھ باندھے اور سر جھکائے کھڑے ہیں، جیسے کل وقتی ملازم ہوں۔ پارٹی میٹنگز میں سب لوگ ہر سوال پر ایسے کٹھ پتلیوں کی طرح وہ جواب دیتے ہیں جو لیڈر کو سننا مقصود ہو، جیسے کوئی زندگی و ضمیر ہے ہی نہیں۔ کوئی سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ سوال کی اجازت نہیں ہے۔ پارٹی سے وفاداری پارٹی مالکان سے وفاداری پر مشروط ہے۔ مختصر کہ غلامی کو وفاداری کا چولا پہنا کر سامنے کر دیا گیا ہے۔

اختلافات تمام جماعتوں میں ہوتے ہیں لیکن اختلافات کی نوعیت اور اظہار کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ کوئی بھی جمہوری جماعت اختلافات سے پاک نہیں ہوتی اگر اختلافات نہ ہوں تو وہ جمہوری کیسے ہونگی؟ جمہوریت تو نام ہی اختلاف کا ہے۔ پاکستان کی تمام جماعتیں اختلافات میں گھری نظر آتی ہیں۔ بس نوعیت و اظہار کے طریقے میں فرق ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی بھی اختلافات کی زد میں رہی ہے۔ لیکن یہ اختلافات نظریاتی ہیں۔ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کے پرانے وفاداروں اور ساتھیوں کو ہمیشہ آصف علی زرداری کے طرزِ سیاست سے اختلاف رہا ہے۔ یہ اختلاف ہی تھے کہ آصف علی زرداری رضا ربانی کو ٹکٹ تک دینے پر رضامند نہیں تھے۔ جس پر بلاول اور آصفہ بیچ پر آئیں اور انہوں نے رضا ربانی کو سینٹ کا ٹکٹ دلوایا۔ اختلاف کی وجہ محض یہ تھی کہ چئیرمین سینٹ ہوتے ہوئے رضا ربانی کو آصف علی زرداری نے کئی دفعہ ملاقات کے لئے بلایا لیکن وہ نہیں گئے۔ جسے آصف علی زرداری نے انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ فرحت اللّٰہ بابر نے اپنی الوداعی تقریر میں غیر جمہوری طاقتوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا جس پر ان سے عہدہ واپس لے لیا گیا۔ اعتزاز احسن جو کہ پانامہ لیکس کے بعد فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلنا چاہتے تھے اور انہوں نے کوشش بھی کی لیکن پارٹی نے انہیں کالر سے پکڑ کر واپس گھسیٹ لیا۔ اس کو بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک جمہوری روش ہے، اختلافات ضرور ہیں لیکن کبھی ان کو انا کا مسئلہ عہدیداران کی جانب سے نہیں بنایا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف میں بھی ٹکٹوں کے معاملے پر اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات کوئی نظریاتی نہیں ہیں بلکہ دراصل یہ طاقت کے اختلافات ہیں۔ گراؤنڈ پر ورکرز کو تو شکایات ہیں ہی لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی ڈاواں ڈول نظر آتی ہے۔ پارٹی میٹنگ میں جہانگیر خان ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان اچھی خاصی گرما گرمی ہوئی۔ اس سے پہلے شاہ محمود ایک کارنر میٹنگ میں بیان دے چکے ہیں کہ اگر ٹکٹ جہانگیر ترین سے لینی پڑی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ دراصل وہ ملتان میں اپنے پسند کے لوگوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے لیکن ان کی بات نہیں رکھی گئی۔ اگر ان کی سن لی جاتی تو شہرِ اولیاء میں شکست ہی پاکستان تحریکِ انصاف کا مقدر ٹھہرنی تھی۔

اس جھگڑے میں عمران خان کا جھکاؤ جہانگیر ترین کی طرف رہا ہے۔ کیونکہ جہانگیر ترین نے پارٹی کے لئے بہت محنت کی ہے اور عمران خان ذاتی طور پر جہانگیر ترین سے بہت انسپائر ہیں کیونکہ جہانگیر ترین کینسر کے مرض میں مبتلاء تھے لیکن وہ یہ جنگ کامیابی سے جیت گئے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جہانگیر ترین ذاتی طور پر عمران خان کے بہت قریب رہے ہیں۔ ریحام خان سے اختلافات جب عروج پر تھے تب جہانگیر خان ترین ہی مشیر ہونے کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ شاہ محمود سے عمران خان کو گلہ یہ بھی ہیں کہ 2016ء میں جب تحریک انصاف دھرنے کی تیاریوں تھی تب شاہ محمود نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو وہ کر سکتے تھے۔

اب تذکرہ اس جماعت کا جس کی وجہ سے اتنی لمبی تمہید باندھی ہے۔ مسلم لیگ (ن)۔ مسلم لیگ کے اختلافات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ چند روز قبل چوہدری نثار نے ایک جلسے سے خطاب کیا اور نواز شریف و مریم نواز کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا۔ کل زعیم قادری صاحب نے حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے خوب لتّے لئے۔

مسلم لیگ میں اختلافات نظریاتی نہیں ہیں بلکہ اختلافات کی بنیادی وجہ یہ ہے، “میری کیوں نہیں سنی؟” چودھری نثار کے نواز شریف سے اختلافات نئے نہیں ہیں۔ بہت پرانے ہیں۔ ان کا رول مسلم لیگ میں اس پھوپھی کا رہا ہے جو ہر موقعے پر ناراض ہو کر بیٹھ جاتی ہے۔ یہ اختلافات تو کئی دفعہ ایسی نہج پر پہنچے کہ چودھری نثار پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے تھے کہ شہباز شریف فلائٹ لے کر پہنچے اور انہوں نے چوہدری نثار کو منایا۔

مسلم لیگ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے، ایک وہ جو نواز شریف کا حامی ہے اور ایک وہ جو شہباز شریف کے قریب ہے۔ چوہدری نثار نے میاں نواز شریف کو پانامہ پیپرز کے بعد درست مشورے دئیے جو انہوں نے سنے نہیں، اگر سن لیتے تو معاملات اس نہج تک نہیں پہنچتے۔ یہ اختلافات شروع میں کچھ مدھم تھے لیکن اس وقت شدت اختیار کر گئے جب نواز شریف نے نجی محفل میں چوہدری نثار پر طنز کئے اور وہ طنز چوہدری نثار جیسا اناپرست آدمی سنبھال نہیں پایا اور انہوں نے تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے۔ شہباز شریف نے اپنے تئیں کوشش کی کہ کسی طرح معاملات سدھر جائیں لیکن معاملات نہیں سدھرے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مریم نواز صاحب کا ایک میڈیا سیل ہے، جس کی اسٹریٹجی پر تمام وزراء عمل کرتے تھے اور سر جھکائے مریم نواز کے آگے کھڑے رہتے تھے لیکن جیسے دائیں ہاتھ کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے چوہدری نثار کو یہ قبول نہیں تھا۔ چوہدری نثار نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں مریم نواز کے خلاف بھی بیان دیا۔ جس پر نواز شریف سخت خائف ہوئے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد جب وزارتیں شریف خاندان کے دفاع کرنے کے پیمانے پر بانٹی گئیں تو چوہدری نثار صاحب کا غصہ اور اوپر پہنچ گیا۔

اختلافات کو بڑھانے میں یا اس آگ کو ٹھنڈا نہ کرنے دینےمیں ایک ایسے گروپ کا بھی ہاتھ ہے جو چوہدری نثار کے خلاف ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ چوہدری صاحب نے زیادتی کی ہے۔ ڈان لیکس کا معاملہ جب عروج پر تھا تو چوہدری نثار راولپنڈی سے پیغام لے کر نواز شریف کے پاس گئے۔ پیغام یہ تھا کہ پرویز رشید کا استعفٰی دلوایا جائے۔ جس پر نواز شریف نے کہا میں تو نہیں کہتا، آپ کہہ دیں اگر آپ کی مانتے ہیں تو دلوا دیں۔ پرویز رشید جو کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور مکمل طور پر نواز شریف کے ہر فیصلے پر سر تسلیمِ خم کرتے ہیں، انہوں نے استعفیٰ چوہدری نثار کے کہنے پر دے دیا۔ لیکن بات دل میں رکھ لی۔

پرویز رشید کے بیانات بھی خبروں کا حصہ ایک وقت میں رہے۔ اس کے بعد راولپنڈی سے ہی خواجہ آصف کے استعفے کا مطالبہ سامنے آیا، نواز شریف نے وہی جواب دیا خود کہہ لیں لیکن خواجہ آصف نے انکار کر دیا۔ چوہدری نثار کے ایک بیان پر مسلم لیگ ن نے لاتعلقی کا اظہار خواجہ آصف کے ذریعے کروایا تھا۔ جس پر وہ چوہدری نثار اور خواجہ آصف کے درمیان بول چال کافی عرصے سے بند تھی۔ ڈان لیکس کی جس رپورٹ کو منظرِ عام پر لانے کے دعوے کر رہے ہیں تو بات پھر ساری منظرِ عام پر آئے گی کہ کیسے ایکسٹینشن کے وعدے پر ڈان لیکس میں سے نام کلئیر کئے گئے اور کیسے اس وقت کے کمانڈر انچیف نے مریم نواز کو فون کر کے مبارکباد دی کہ ہم نے آپ کا نام ڈان لیکس میں سے نکال دیا ہے۔

زعیم قادری کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ ان کو شکایت یہ ہی ہے کہ انہیں پارٹی نے ٹکٹ نہیں دئیے اور ان لوگوں کو دئیے گئے جو مسلم لیگ کے کبھی حامی نہیں رہے۔ ہر عہد میں طاقتوروں کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔ وہ اس معاملے میں بنیادی طور پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو قصور وار سمجھتے ہیں کہ ان کو ٹکٹ نہ ملنے کے پیچھے ان کا ہی ہاتھ ہے۔ زعیم قادری نے اپنی پریس کانفرنس میں حمزہ اور شہباز شریف کو خوب للکارا۔ اب وہ آزاد انتخابات لڑنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کا خیال ہے کہ وہ انہیں منا لے گی جب کہ غالب امکانات یہ ہی ہیں کہ تیر اب کمان میں سے نکل چکا ہے۔ اب صلح کا وقت چلا گیا ہے۔ اگر انہوں نے ماننا ہوتا تو سعد رفیق کی آمد پر جو کہ زعیم قادری کے کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں، ان کی درخواست پر مان جاتے۔

چوہدری نثار اب آزاد حیثیت میں انتخاب لڑیں گے۔ جیت کا امکان محض ان کے آبائی حلقے سے ہی ہے۔ الیکشن کے بعد وہ ایک پریشر گروپ بنائیں گے جو کہ تحریکِ انصاف کے ساتھ مل کر بارگیننگ کی طرف جائیگا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق چوہدری نثار چند آزاد امیدواروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور یہ لوگ ہی پریشر گروپ کا حصہ بنیں گے۔ زعیم قادری اگر انتخاب جیت گئے جو کہ مشکل نظر آتا ہے تو وہ بھی اس گروپ کا حصہ بننا پسند کریں گے۔

انتخابات سر پر پہنچ چکے ہیں لیکن کسی جماعت نے انتخابی مہم کا آغاز ابھی تک نہیں کیا۔ کچھ لوگ جو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں انہیں اب بھی لگ رہا ہے کہ انتخابات وقت پر نہیں ہونگے۔ انہیں ان کی خام خیالی ہی لے ڈوبے گی جب انتخابات وقت پر ہونگے اور خدانخواستہ انتخابات وقت پر نہ ہوئے تو یہ اس ملک کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ غالب امکانات یہ ہی ہیں کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور ہونے بھی چاہئے کیونکہ یہ انتخابات اس جمہوری نظام کی مضبوطی کی وجہ بنیں گے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.