مشتاق احمد یوسفی ایک عہد جو تمام ہوا

1,194

مشتاق احمد یوسفی کا تعلق بھارت کے شمال مغرب میں واقع ریاست راجستھان سے ہے۔ ان کا آبائی شہر جے پور، ضلع ٹونک تھا۔ راجستھان صنعت، علم و ادب اور فنون لطیفہ کے لحاظ سے بھارت کا زرخیز علاقہ ہے اور شاید یہ اس علاقے کی زرخیزی ہی ہے جس نے مشتاق احمد یوسفی کو دوسرے ادیبوں سے ممتاز کئے رکھا۔ یہ اردو زبان اور ادب کی خوش قسمتی ہے کہ مشتاق احمد یوسفی جیسا بے مثال ادیب اور دانشور اسے میسر آیا۔

مشتاق احمد یوسفی کی اصل تاریخ پیدائش خود انہوں نے بھی کبھی نہیں بتائی۔ ایک انٹرویو میں تاریخ پیدائش کے سوال پر یوسفی صاحب نے جواب دیا کہ میں آپ کو تاریخِ پیدائش کیوں بتائوں؟ یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔

اکثریت کی رائے ہے کہ مشتاق احمد یوسفی کی تاریخِ پیدائش 4 اگست 1923 ہے جبکہ کئی جگہوں پر 4 ستمبر 1923 بھی ملتی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے ابتدائی تعلیم جے پور میں حاصل کی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نمایاں پوزیشن میں فلسفے میں ایم اے کیا۔ آزادی پاکستان سے پہلے یوسفی صاحب پی سی ایس کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے طور پر ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ آزادی پاکستان کے بعد مشتاق احمد یوسفی کراچی آکر آباد ہوگئے اور مرتے دم تک وہیں کے ہو رہے۔ یوسفی صاحب نے یہاں آکر بینک میں ملازمت اخیتار کی اور اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔

مشتاق یوسفی کے والد کا نام عبدالکرین خان یوسفی تھا۔ لفظ یوسفی کی وضاحت کرتے ہوئےخود مشتاق احمد یوسفی نے بتایا کہ “ایک بار میرے والد پشاور گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے آپ کو پٹھان یوسف زئی کہا تو ان کا مذاق اڑایا گیا کہ آپ کیسے پٹھان لوگ ہیں، اس لئے کہ یہ تو صدیوں سے جےپور میں آباد تھے۔ لہٰذا وہ جب واپس آئے تو انہوں نے اپنے آپ کو یوسف زئی کہنا چھوڑ دیا اور اس کی جگہ یوسفی کہنے لگے اور میں نے خان کو بھی ہٹا دیا۔”

مشتاق احمد یوسفی کا پہلا باقاعدہ مضمون “صنف لاغر” کے نام سے ترقی پسند رسالے “سویرا” میں شائع ہوا تھا۔ اس کےبعد مضامین کا سلسلہ چل نکلا اور پھر مشتاق احمد یوسفی کی پہلی کتاب “چراغ تلے” 1961 میں شائع ہوئی۔ دوسری تخلیق “خاکم بدہن” 1970 میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔ تیسری کتاب “زرگزشت” کے عنوان سے 1976 میں اشاعت کے مراحل سے گزری اور اس کے بعد “آب گم” 1990 میں منظرعام پر آئی۔

ویسے تو اپنی چاروں کتابوں میں یوسفی صاحب نےاپنی زندگی کے مختلف حالات و واقعات کا ذکر کیا ہے لیکن “زرگزشت” مشتاق احمد یوسفی کی زندگی کے ان 25 برسوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو ان کی بینک کی پیشہ وارانہ زندگی سے متعلق ہیں۔

اگر یوسفی کے فکروفن کا جائزہ لیا جائے تو ان کی سب اہم خصوصیت جملہ سازی کا فن ہے جس میں یوسفی صاحب کمال مہارت رکھتے تھے۔ مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں مزاح دوسرے لکھاریوں سے اتنا الگ اور خالص ہے کہ انہیں کبھی بھی مزاح پیدا کرنے کیلئے کسی صورتحال کی منظر کشی کرنے کی ضرورت پڑی اور نہ ہی کبھی کردار نگاری کا سہارا لیا۔ مشتاق احمد یوسفی نے ہمیشہ فلسفیانہ غوروفکر کے ذریعے چھبتے ہوئے تبصرے سے مزاح پیدا کیا۔ خود مشتاق احمد یوسفی صاحب نے لکھا ہے کہ “عمل مزاح اپنے لہو کی آگ میں تپ کر نکھرنے کا نام ہے۔ لکڑی جل کر کوئلہ بن جاتی ہے اور کوئلہ راکھ لیکن اگر کوئلے کے اندر کی آگ باہر کی آگ سے تیز ہو تو پھر وہ راکھ نہیں بنتا، ہیرا بن جاتا ہے۔”

میاں بیوی کا ایسا خوبصورت رشتہ ہے کہ ہر مزاح نگار نے اس پر قلم کی ضرور چلایا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے بھی اس موضوع پر طبع آزمائی کی ہے لیکن دوسرے مزاح نگاروں سے کہیں بہتر، حقیقت کے قریب اور الگ انداز سے۔ کچھ مثالیں یہاں ملاحظہ کریں۔

“آپ نے بعض میاں بیوی کو ہواخوری کرتے دیکھا ہوگا۔ عورتوں کا انجام ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے ہوا خور رفتہ رفتہ حواخور ہو جاتے ہیں”

ایک جگہ اور لکھتے ہیں،

“مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے”

مشتاق احمد یوسفی نے “خاکم بدہن” کے مضمون “دست زلیخا” میں لکھا ہے کہ “حسِ مزاح دراصل انسان کی چھٹی حس ہے۔ یہ ہو تو انسان ہر مقام سے باآسانی گزر جاتا ہے۔”

مشتاق احمد یوسفی میں حسِ مزاح بدرجہ اتم موجود تھی اور یقیناً وہ اپنی زندگی کے آخری مقام سے باآسانی گزر گئے ہوں گے اوردعا ہے اللہ تعالیٰ یوسفی صاحب کی اب آنے والی تمام منزلیں بھی آسان کردے۔ آمین

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.