چسکے باز قوم کا ایک متحرک انٹرنیٹر

1,196

مجھ سے ملیے۔ میں ایک چسکے باز قوم کا متحرک انٹرنیٹر ہوں۔

انٹرنیٹر کو انٹرٹینر نہ سمجھ لیجیے گا۔ انٹرنیٹمنٹ اور انٹرٹینمنٹ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا نواز شریف اور عمران خان میں فرق ہے۔ یعنی انٹرنیٹمنٹ ایک نشہ ہے جبکہ انٹرٹینمنٹ ایک ضرورت۔ دونوں نامناسب انداز میں استعمال کیے جائیں تو مت مار کر رکھ دیتے ہیں۔

آپ کو شاید ایسے سمجھ نہ آئے۔ چلیے میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے پاس ہمہ وقت انٹرنیٹ کا پیکج موجود ہوتا ہے جس کی مدد سے میں ہر وقت سوشل میڈیا پر سوشل ہوتا رہتا ہوں۔ سوشل ہونے کے چکر میں کبھی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہوں تو کبھی اس کے گلے جا پڑتا ہوں۔ اچھا خاصا شغل رہتا ہے۔ میرا وقت اچھا گذر جاتا ہے اور اگلا بندہ اپنا بلند فشار خون سنبھالتا رہ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مجھے شوق ہے کہ جو بھی چیز یا بات سامنے آئے میں اسے فوراً سوشل میڈیا کی زینت بنا دوں۔ فیس بک پر میرے پونے تین ہزار فرینڈز ہیں۔ ان میں سے میں ذاتی طور پر کسی کو بھی نہیں جانتا۔ جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ وہ میرے قریبی دوست ہیں۔ میری ہر پوسٹ پرلائک کرتے ہیں اور بے تحاشہ کمینٹ کرتے ہیں۔ میرا دل خوش ہو جاتا ہے۔ ان کے دم قدم سے زندگی حسین ہو جاتی ہے۔ اسی چکر میں غلطی سے شب عروسی کی بھی ایک تصویر فیس بک پر لگا بیٹھا تھا۔ نئی نویلی دلہن کے غصہ کرنے پر جب تک میں وہ تصویر فیس بک سے ہٹاتا اس پر ایک سو تین دل والے لائکس آ چکے تھے۔

میری ماں جب کبھی مجھے کھانے کے لیے بلاتی ہے تو پہلے میں کھانے کی تصویر بناتا ہوں اور اسے فوراً فیس بک پر ڈال دیتا ہوں۔ پہلا لقمہ لینے سے پہلے پہلے اس پر تین سو لائکس آ جاتے ہیں۔ اسی سے مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ کھانا بہت لذیذ ہو گا۔ پھر میں چٹخارے لے لے کر کھاتا ہوں۔ کبھی کھانے میں نمک کم یا تیز بھی ہو جائے تو مجھے محسوس نہیں ہوتا۔ آخر گیارہ سو دوست ایویں تو لائک نہیں کر سکتے نا۔ کھانے کے بعد میری ماں جب مجھ سے پوچھتی ہے کہ کھانا کیسا لگا تو میں ان کو وہ انیس سو لائکس دکھاتا ہوں جو کھانے کی تصویروں پر آ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ کھانا بہت مزے کا تھا۔

جب کبھی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ باہر سیروتفریح کے لیے جاتا ہوں تو میرا موبائل فون ہر وقت میرے ہاتھ میں رہتا ہے۔ میں مختلف مقامات پر “چیک ان” کرتا اور تصویریں لیتا ہوں اور پھر جلدی سے فیس بک پر ڈال دیتا ہوں۔ میرے فیس بک والے دوست اسی انتظار میں ہوتے ہیں۔ بس پھر فوراً لائکس اور کمینٹس شروع ہو جاتے ہیں۔ میرے گھر والے جب مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو میں انہیں جھڑک دیتا ہوں۔ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس وقت میرے فیس بک دوست میری پوسٹ کی تعریف کر رہے اور معلومات حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کو بے خبر تو نہیں رکھا جا سکتا نا۔

شام کو سب گھر والے اکھٹے بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں کونے کے صوفے میں اپنا موبائل لیے پڑا ہوتا ہوں۔ اس وقت کسی نہ کسی گروپ میں چیٹنگ چل رہی ہوتی ہے۔ کسی نہ کسی کی شامت آئی ہوتی ہے اور کافی سارے لوگ مل کر کسی ایک کی عزت اچھال رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں پیچھے رہ جانے کا مطلب ہے کہ آپ کے کمینٹ پر لائک نہیں ملیں گے چناچہ تیز تیز کمینٹ کرنا پڑتے ہیں۔ اب آپ کو کیا پتا کہ لائکس سمیٹنے کے لیے کتنی محنت کرنا پڑتی ہے۔ انگلیاں تھک کر رہ جاتی ہیں۔ اور پھر گھر والے مجھے پکارتے رہ جاتے ہیں مگر میرے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ آپ خود بتائیں۔ بھلا فیس بک فرینڈز کو چھوڑ کر میں گھر والوں کی فضول باتوں میں سر کھپاتا پھروں؟

رات کو سونے کے لیے اپنے کمرے میں جاتا ہوں تو میری بیوی مجھ سے باتیں کرنا چاہتی ہے۔ احمق کہیں کی۔ اس کو کیا پتا کہ فیس بک پر اپنی مخالف سیاسی جماعت پر کیچڑ اچھالنا ہوتا ہے مجھے۔ اگر میں اپنے مخالف سیاسی لیڈر کی مضحکہ خیز تصویریں نہ شیئر کروں تو لوگ لائک نہیں کرتے۔ پھر مجھے اپنے مخالفوں کو گالیاں بھی تو دینی ہوتی ہیں۔ اور ظاہر ہے گالیاں دینے کے بعد گالیاں کھانی بھی پڑتی ہیں۔ اب آپ خود بتائیں کہ گالیاں کھانے کے بعد کس کا موڈ خوش گوار رہ سکتا ہے؟ اسی لیے میں بیوی کو جھڑک دیتا ہوں اور وہ بے چاری کروٹ لے کر روتی رہتی ہے۔ ویسے بھی مجھے بیوی کی اتنی ضرورت نہیں ہے۔ پندرہ بیس لڑکیوں سے میری دوستی ہے اور ان سے ہر وقت “ان باکس” میں بات ہوتی رہتی ہے۔ بلکہ تین لڑکیوں نے تو مجھے اپنا “واٹس ایپ” نمبر بھی دیا ہوتا ہے۔

تین دن پہلے میرا موبائل فون خراب ہو گیا۔ زندگی ایک دم ویران ہو گئی۔ بالکل وہی حالت ہو گئی جیسے کسی ہیروئن کے عادی کو ہیروئن کا نشہ نہ ملنے پر ہوتی ہے۔ اس حالت میں میں نے اپنی بہنوں پر ہاتھ اٹھایا۔ بیوی کو جوتا دے مارا۔ ماں کو بے نقط سنا دیں اور باپ کی کھڑے کھڑے بے عزتی کر ڈالی۔ میرے گھر والے میرا یہ روپ دیکھ کر سہم گئے۔ وہ جانتے ہیں میں بے روزگار ہوں اور نیا موبائل نہیں لے سکتا۔

اوہو میں بتانا بھول گیا تھا کہ میں نوکری نہیں کرتا۔ ہمارے گھر میں تین کمانے والے موجود ہیں۔ ایک میرا باپ اور دو میری بہنیں۔ ایک بھائی چھوٹا ہے اور وہ پڑھ رہا ہے۔

ہاں تو میری حالت دیکھ کر میرے گھر والوں نے مشورہ کیا اور میرے باپ اور بہنوں نے اپنی کمائی میں سے پیسے نکال کر تیسرے دن مجھے ایک نیا اسمارٹ فون لا دیا۔ موبائل فون ہاتھ میں آتے ہی میری طبیعت بحال ہو گئی اور میں چہکنے لگا۔ پھر میں نے فیس بک پر اسٹیٹس لگایا “انٹرنیٹر از فیلنگ الائیو ود فور تھاؤزنڈز ادر”

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. ali raza کہتے ہیں

    salam sir

    i hope you wil b fine. your story are well . good effort sir carry on.. wish u all the Best.
    regard
    Ali

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

تبصرے بند ہیں.