وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

1,312

تحریر کے لیے میں نے جو عنوان چنا ہے، یقینا ً اس کے ساتھ میرا نام لکھنا مناسب نہیں، لیکن جس شخصیت نے یہ جملہ لکھا قبلہ پر خوب جچتا ہے کہ ان کے قلم کے خواص اور سوچ کے دائرے تک پہنچنا خاکسار کے لیے سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔ پر کیا کیجئے صاحب، جب کوئی کسی کو چاہتا ہے تو اسی کے رنگ میں، الفاظ میں اور انداز میں ڈھلنے کی کوشش کرتا ہے۔

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی

کچھ لوگ تو اس منزل کو پہنچ جاتے ہیں لیکن کئی ایک کے سفر رہتی دنیا تک جاری رہتے ہیں، خیر! ابھی ہم کسی نہج پر نہیں پہنچے، تازہ تازہ محبت ہے، دیکھئے کس کل بیٹھے۔

بات ہو رہی تھی، ”وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں” سے متعلق۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب کے قلم سے نکلے شاہکار الفاظ دیکھئے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یادش بخیر! میں نے 1945 میں جب قبلہ کو پہلے پہل دیکھا تو ان کا حلیہ ایسا ہو گیا تھا جیسا اب میرا ہے۔ لیکن ذکر ہمارے یار طرح دار بشارت علی فاروقی کے خسر کا ہے، لہٰذا تعارف کچھ انہی کی زبان سے اچھا معلوم ہو گا۔ ہم نے بارہا سنا، آپ بھی سُنیے۔

”وہ ہمیشہ سے میرے کچھ نہ کچھ لگتے تھے۔ جس زمانے میں میرے خسر نہیں بنے تھے تو پھوپا ہوا کرتے تھے۔ اور پھوپا بننے سے پہلے میں انہیں چچا حضور کہا کرتا تھا۔ اس سے پہلے بھی یقیناً وہ کچھ اور لگتے ہوں گے مگر اس وقت میں نے بولنا شروع نہیں کیا تھا۔ ہمارے ہاں مراد آباد اور کانپور میں رشتے ناتے ابلی ہوئی سویوں کی طرح الجھے اور پیچ در پیچ گتھے ہوتے ہیں۔ ایسا جلالی، ایسا مغلوب الغضب آدمی زندگی میں نہیں دیکھا۔ بارے ان کا انتقال ہوا تو میری عمر آدھی ادھر، آدھی ادھر، چالیس کے لگ بھگ تو ہو گی۔ لیکن صاحب! جیسی دہشت ان کی آنکھیں دیکھ کر چھٹپن میں ہوتی تھی، ویسی ہی نہ صرف ان کے آخری دم تک رہی، بلکہ میرے آخری دم تک بھی رہےگی۔ بڑی بڑی آنکھیں اپنے ساکٹ سے نکلی پڑتی تھیں۔ لال سرخ۔ ایسی ویسی؟ بالکل خون کبوتر! لگتا تھا بڑی بڑی پتلیوں کے گرد لال ڈوروں سے ابھی خون کے فوارے چھوٹنے لگیں گے اور میرا منہ خونم خون ہو جائے گا۔ ہر وقت غصے میں بھرے رہتے تھے۔ جانے کیوں۔ گالی ان کا تکیۂ کلام تھی۔ اور جو رنگ تقریر کا تھا وہی تحریر کا۔ رکھ ہاتھ نکلتا ہے دھواں مغز قلم سے۔ ظاہر ہے کچھ ایسے لوگوں سے بھی پالا پڑتا تھا جنہیں بوجوہ گالی نہیں دے سکتے تھے۔ ایسے موقعوں پر زبان سے تو کچھ نہ کہتے لیکن چہرے پر ایسا ایکسپریشن لاتے کہ قد آدم گالی نظر آتے۔ کس کی شامت آئی تھی کہ ان کی کسی بھی رائے سے اختلاف کرتا۔ اختلاف تو در کنار، اگر کوئی شخص محض ڈر کے مارے ان کی رائے سے اتفاق کر لیتا تو فوراً اپنی رائے تبدیل کر کے الٹے اس کے سر ہو جاتے۔ ”

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مشتاق یوسفی صاحب کی ایسی رواں دواں تحریر اور بہترین اسلوب کہ پڑھتے جاؤ پڑھتے جاؤ اور شائبہ بھی نہ ہو کہ ایک ہی نشست میں کس قدر پڑھ بیٹھے ہیں، ذہن کے دریچے کتنے وا ہوئے ہیں، کتنے الفاظ کی لغت تیار ہو گئی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے بے ساختگی اور بے تکلفی سے اردو کے مزاحیہ ادب میں بڑے روشن اور بھرپور اضافے کئے۔ ان کے مزاح میں چھپے ہوئے طنز کے نشتر معاشرے کے ناسوروں میں جا کر چبھتے ہیں۔

طنز و مزاح کے امام مشتاق احمد یوسفی سے کسی کا بھی موازنہ زیب نہیں دیتا۔ لیکن ان کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی 1923کو بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم اے کیا اور پھر بینکاری کے شعبے کو ذریعٔہ معاش بنایا۔ وہ کئی بینکوں کے سربراہ رہے اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

مشتاق یوسفی صاحب نے بعض شعراء کے متعدد اشعار اور مصرعوں کو ہلکے سے ردوبدل سے اپنی تحریروں میں یوں استعمال کیا کہ اب وہ اشعار اور مصرعے اصل شعراء کے معلوم ہی نہیں ہوتے بلکہ بعض مصرعوں کو تو جوں کا توں قبضے میں لے لیا ہے۔
ایک مثال دیکھئے۔

بینک میں لکھتے سب انگریزی میں تھے، گفتگو اردو میں، لیکن گالی ہر شخص اپنی مادری زبان میں ہی دیتا:

زبانِ غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

یہ مصرع جب بھی سُنیں گے آتش یاد آئیں نہ آئیں، مشتاق یوسفی ضرور یاد آئیں گے۔ یعنی چوری اور دماغ زوری بھی۔

ابن انشا نے کہا تھا اگر ہم اپنے دور کے ادبی مزاح کا سوچیں تو صرف ایک ہی نام ہمارے ذہن میں آتا ہے، ڈاکٹر ظہیر فتح پوری بولے، ہم عہد یوسفی میں زندہ ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی کی پہلی کتاب چراغ تلے1961میں منظرعام پر آئی۔ اس کتاب سے ایک اقتباس پیش ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد اپنا سن پیدائش اس طرح بتاتے ہیں:
“یہ غریب الدیار عہد نا آشنائےعصر بیگانہ خویش نمک پرودہ ریش خرابہ حسرت کہ موسوم بہ احمد مد عو بابی الکلام 1888ء مطابق ذوالجحہ 1305ھ میں ہستی عدم سے اس عدم ہستی میں وارد ہوا اور تہمت حیات سے مہتم۔

اب لوگ اس طرح نہیں لکھتے۔ اس طرح پیدا بھی نہیں ہوتے۔ اتنی خجالت طوالت و اذیت تو آج کل سیزیرین پیدائش میں بھی نہیں ہوتی۔

(اسی طرح نو طرز مرصع کا ایک جملہ ملاحظہ فرمائیے:

“جب ماہتاب عمر میرے کا بدرجہ چہار دو سالگی کے پہنچا روز روشن ابتہاج اس تیرہ بخت کا تاریک تر شب یلدہ سے ہوا یعنی پیمانہ عمر و زندگانی مادر و پدر بزرگوار حظوظ نفسانی سے لبریز ہو کے اسی سال دست قضا سے دہلا۔

کہنا صرف یہ چاہتے تھے کہ جب میں چودہ برس کا ہوا تو ماں باپ فوت ہو گئے۔ لیکن پیرایہ ایسا گنجلک اختیار کیا کہ والدین کے ساتھ مطلب بھی فوت ہو گیا)۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پطرس کی ظرافت، رشید احمد صدیقی کی شرارت، کنہیا لال کا طنز اور شوکت تھانوی کی برجستگی ایک ساتھ یوسفی صاحب کے ہاں ملتی ہے۔ انہوں نے قارئین کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایسا نشہ فراہم کیا ہے کہ جو بندہ ان کو سمجھ کے پڑھ یا پڑھ کر سمجھ لیتا ہے، اس کا کسی اور مزاحیہ تحریر میں دل ہی نہیں لگتا۔

کچھ اقوال ملاحظہ فرمائیں :

  1. اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔
  2. مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
  3. بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔
  4. جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا۔
  5. آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا۔
  6. گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے۔
  7. ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے۔
  8. مرد عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی۔
  9. آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں۔
  10. قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے۔

یوسفی نے خاکم بد ہن (1969) کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ”حس مزاح انسان کی چھٹی حس ہے، یہ ہو تو انسان ہر مقام سے آسان گذر جاتا ہے”۔

خاکم بدہن بھی قاری اور اسکی تلخیوں کے درمیان ایک قہقہے کی مانند کھڑی ہو جاتی ہے۔ یوسفی نے کتاب (خاکم بدہن ) کے نو حصوں میں جتنا مزاح بھر دیا ہے، ممکن نہیں کہ کوئی اور بھر سکے۔

بھارت کے معروف اردو محقق اور نقاد ڈاکٹر محمد حسن ، مشتاق احمد یوسفی کے بارے میں لکھتے ہیں،

”یوسفی کی جس ادا پر میں بطورِ خاص فریفتہ ہوں، وہ ہے اس کی اتھاہ محبت۔ یوسفی اپنے کھیت میں نفرت، کدورت یا دشمنی کا بیج بوتا ہی نہیں۔”

اردو کے ممتاز مزاح نگاراور شاعرسید ضمیر جعفری کہتے ہیں کہ،

”یوسفی دور مار توپ ہیں۔ مگر اس توپ کا گولہ بھی کسی نہ کسی سماجی برائی پر جا کر پڑتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ کشتوں کے پشتے نہیں لگاتے۔ خود زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتے ہیں”۔

امجد اسلام امجد لکھتے ہیں:

”شامِ شعرِ یاراں” یوسفی صاحب کی کُل ملا کر پانچویں کتاب ہے۔ جو تقریباً 25 برس کے وقفے سے شائع ہوئی ہے۔ اس سے قبل ”چراغ تلے”، ”خاکم بدہن”، ”زرگزشت” اور ”آبِ گم” کے نام سے ان کی نثری تحریروں کے چاروں مجموعے اب طنز و مزاح کے حوالے سے اردو ادب کے کلاسیک کا درجہ حاصل کر چکے ہیں وہ افتادِ طبع کے باعث ایک Perfectionist (جس کا نزدیک ترین اور رائج الوقت اردو ترجمہ ”تکمیل پسند” ہے) واقع ہوئے ہیں سو وہ کسی تحریر کو چھپوانے سے پہلے اتنی بار اس پر ”نظرثانی” کرتے ہیں کہ جس کا شمار ممکن نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ آخر میں گھوڑا نہ صرف گھوڑا رہتا ہے بلکہ اس کا حسن اور ادائیں مزید دل کش اور نظر افروز ہو جاتی ہیں۔

مزاح وہی ہے جو قہقہوں یا مسکراہٹ کے پس پردہ ہو۔ یوسفی صاحب طنز کو شامل کر کے مضمون کو خشکی اور کڑواہٹ سے دور رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:

اگر طعن و تشنیع سے مسئلے حل ہو جاتے تو بارود ایجاد نہ ہوتی !

معاشرتی بے حسی پر یوسفی صاحب نے کہا۔

”اگر ایک پوری کی پوری نسل کو ہمیشہ کیلئے کسی اچھی کتاب سے بیزار کرنا ہو تو سیدھی ترکیب یہ ہے کہ اسے نصاب میں داخل کروا دیجئے”۔

مزاح نگاروں نے کئی خاکے لکھے اور خوب لکھے، لیکن جتنے خاکے لکھے وہ خواص پر لکھے۔ ہم جیسے عام آدمی کو گھاس بھی نہیں ڈالی، مشتاق احمد یوسفی صاحب کا ہر مضمون ایک عام آدمی کا ایسا خاکہ ہے جس میں کروڑوں انسانوں کی بلکہ پوری تہذیب وثقافت کی تصویر اور معاشرے کی عکاسی ملتی ہے۔

ہم نے بھی ایسی کوشش کی۔ مشتاق یوسفی صاحب کی پیروی کرنے کاموقع ملا ایک فیس بُک فورم ‘بزم یاران ِادب’ پر۔ جہاں ہر ہفتے کسی نہ کسی شخصیت کے بارے میں جاننے، ان کے بارے میں پڑھنے، لکھنے اور تبصرہ کرنا تھا۔ پھر اسی کی تقلید میں اپنی تخلیقات پیش کی جاتیں۔ مشتاق یوسفی صاحب کے حوالے سے ہفتۂ یوسفی منایا گیا، خاکہ نگاری کو موضوع بنا کر سب نے اپنی نگارشات پیش کیں، ہزاروں خاکوں میں سے 10 بہترین کا انتخاب کیا گیا۔ جن میں سے ایک میرا بھی تھا۔ بہترین خاکہ نگاری کے مجموعے کو کتابی شکل ‘نقش پائے یوسفی ‘ کے نام سے شائع کیا گیا اور مشتاق یوسفی صاحب کے ہاتھ سے تقریب رونمائی بھی کی گئی۔ ہم جو مشتاق یوسفی صاحب سے ملنے کےعرصے سے مشتاق تھے، لندن نہ جاسکےاور خواہش ادھوری رہ گئی۔

مشتاق احمد یوسفی 20 جون 2018 کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے اور ہماری خواہش ہمیشہ کے لیے ادھوری ہی رہ گئی۔ یوسفی صاحب کو ادب کی اعلیٰ خدمات کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور کمال فن سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.