میو قوم اور انقلاب 1857ء

1,981

1857ء میں میرٹھ سے انگریزوں کے خلاف آزادی کی لہر اٹھی تو دلی کے جنوب میں واقع اور ہریانہ کے ساتھ مشرقی راجستھان کے الور اور بھرت پور اضلاع میں پھیلے ہوئے میوات کے عوام نے اس جنگ میں اس جوش خروش سے حصہ لیا کہ انگریزوں کو ہر طرف میو دکھائی دینے لگے۔ دلی پر قبضہ اورہندوستان پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد سب سے پہلے جس قوم کوسبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا وہ میو قوم تھی۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ یہ سب کیا دھرا میووں کا ہے۔

3 اپریل 1957ء کو منگل پانڈے کی پھانسی کے بعد فوجیوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑی تو 29، 30 اپریل کو انبالہ چھاؤنی کے فوجیوں نے بیرکوں کو آگ لگا دی. 6 مئی کوبیرک پورچھاؤنی میں نیٹو انفنٹری کی 34 ویں بٹالین نے بغاوت کر دی۔ ان حالات پر قابو پانے کے لئے انگریزوں نے ہندوستانی فوجیوں کو خوفزدہ کرنے کے انہیں ذلت آمیز سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ منصوبے کے مطابق میرٹھ کے 90 فوجیوں کو حکم عدولی کے جرم میں 10، 10 سال کی قید با مشقت سنائی گئی اور انہیں ذلیل کرنے کے لئے انکی وردیاں پھاڑ کر، ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر سارے شہر میں پریڈ کراتے ہوئے گھمایا گیا۔ اس ناقابل برداشت واقعہ نے میرٹھ کے جانباز فوجیوں کے سینے میں آگ لگا دی اور پھر بغاوت کا آتش فشاں پھٹ پڑا۔

10 مئی 1857ء کو جس بہادر نے بغاوت کے نقارے پر پہلی چوٹ لگائی وہ چاند خاں میواتی تھا۔ چاند خاں میواتی کے پہلی گولی چلانے کی دیر تھی کہ سارا فوجی علاقہ دین دین کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یہ خبر میوات پہنچی تو میوات کا پورا علاقہ انگریزوں کے لئے قبرستان بن گیا۔ میوات کا ہر گاؤں انگریزی فوج کے لئے ایک زبردست میدان جنگ ثابت ہوا۔ مٹکاف کے مطابق ایک ایک گاؤں کو زیر تسلط رکھنے کے لئے 5، 5 پلٹن اور توپ خانوں کے دستوں کے ساتھ جانا ہوتا تھا۔ میواتی کسانوں نے تلوار، خنجر، بندوق اور لاٹھیوں سے جس جنگی مہارت کا ثبوت دیا وہ انگریز فوجیوں کیلئے حیران کن تھا۔ جس دیہاتی یلغار کو وہ غیر مہذب لوگوں کا مجمع سمجھ کر چٹکیوں میں مسل دینے کا ارادہ رکھتے تھے, انہی لوگوں نے انہیں اپنے سپاہیوں کی لاشیں پیچھے چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعات تھے کہ انگریزوں نے میوات کے میووں کو سب سے پہلے کچلنے کا فیصلہ کیا۔

جنرل ولسن، کیپٹن ہڈسن، برگیڈیر جنرل شاورس اور کیپٹن ڈرمنڈ وغیرہ انگریزی فوجی افسران نے دلی میں ایک خفیہ میٹنگ کی اور صورت حال پر غور کرتے ہوئے ہندوستانیوں کو سبق سکھانے کا منصوبہ بنایا۔ جب انتقام اور سزا کی ابتدا کا سوال آیا تو سب نے بالاتفاق یہ فیصلہ کیا کہ ہندوستان کی سب سے خطرناک قوم میو کے مسکن میوات کو تہس نہس کر دیا جائے۔

انگریزوں نے میواتیوں کو اپنا دشمن اول سمجھا۔ کیونکہ اس جنگ میں انہیں سب سے زیادہ زک اسی قوم نے پہنچائی تھی۔ روہیل کھنڈ کو آزاد کرانے والا چھوٹی میوات بریلی کا میو بخت خاں تھا۔ جس نے دلی میں انگریزوں کو ہندوستان چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ اگر غدار اپنا کام نہ دکھاتے تو ہندوستان سے انگریز کا دانہ پانی کب کا اٹھ چکا ہوتا۔ یہ بخت خاں ہی تھا جس نے آخری وقت مقبرہ ہمایوں میں رو پوش بادشاہ ظفر کے سامنے بادشاہ کے سمدھی، انگریزوں کے جاسوس، غدار وطن مرزا الٰہی بخش کو ڈانٹ کر کہا تھا کہ ’’ہم جا کی مونڈی پہ پنہاں دھر دیاں او بادشاہ بن جاوے‘‘۔ ہوا یہ تھا کہ سقوط دہلی کے بعد آخری وقت جب بادشاہ لال قلعہ سے نکل کر مقبرہ ہمایوں میں چھپا بیٹھا تھا توجنرل بخت نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ دلی کوچھوڑ کر کسی اور جگہ چل کر جنگ جاری رکھے کہ ہندوستان صرف دلی کا نام نہیں، ادھرمیجر ہڈسن نے مرزا الٰہی بخش کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ بادشاہ کو دہلی سے باہر نہ جانے دے۔ بادشاہ بچ کر نکل گیا تو دہلی کی فتح بیکار اور بے مقصد ہو جائے گی۔ بادشاہ کی گرفتاری بہت ضروری ہے۔ الٰہی بخش فوراً مقبرہ ہمایوں پہنچا اور بادشاہ کو انگریزوں سے ملاقات پر آمادہ کرنے لگا۔ اتنے میں جنرل بخت بھی پہنچ گیا۔ اس نے بادشاہ کو دہلی سے بھاگ جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہندوستان بہت بڑا ہے۔ ہم کہیں بھی جا کر انگریزوں کے خلاف جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔

الٰہی بخش نے بات بگڑتے دیکھی تو بادشاہ کو ڈرایا کہ جنرل بخت آپ کو کٹھ پتلی بنا کر خود بادشاہت کرے گا۔ اس کے جواب میں جنرل بخت نے یہ تاریخی فقرہ کہا جسے عشرت رحمانی نے اپنی کتاب تاریخِ جنگ آزادی میں نقل کیا ہے کہ ’’ہم جاکی مونڈی پہ پنہاں دھر دیاں او بادشاہ بن جاوے۔‘‘

جنرل بخت کے 1400 ہزار میو برگیوں نے مغلوں کو جنگ جیت دی تھی مگران کے اپنوں کی غداری نے جیت کو ہار میں بدل دیا۔ جب انگریز کشمیری دروازے پر دباؤ ڈال رہے تھے تو یہ میوات بڑ کا کالے خاں گولہ انداز میو تھا جس نے انگریزوں کے چھکے چھڑا دئے تھے اور انہیں دفاعی پوزیشن پر مجبور کر دیا تھا۔ راج محل کی نگرانی بھی میووں کے سپرد تھی، جنہوں نے انگریزوں کے لئے کام کرنے والے جاسوسوں کی بار بارنشان دہی کی۔

پنگواںکا سالار صدرالدین میو، میجر حور خاں میواتی، اندور کا سعادت خاںمیواتی، الہ آباد کا مولوی لیاقت علی میواتی، پیلی بھینت کاعلی میواتی، رائے سینا کا علی حسن خاں میواتی، لال بہادر خاں میواتی، بڑ کا، کالے خاں گولہ انداز، جنرل بخت اور بہت سے میو کردار ایسے تھے جن کے ہاتھوں انگریزوں کو گہرے زخم لگے تھے۔

1803ء کی لسواڑی کی جنگ کے دوران میووں کی لوٹ کو انگریز نہیں بھولے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ دلی میں جنرل بخت کی کمان میں جو فوج لڑ رہی تھی اس میں کثیر تعداد میو مجاہدین کی تھی۔ دلی کی فتح کے بعد جس قوم نے دیر تک انگریزوں سے لوہا لیا وہ میو ہی تھے۔

انگریزوں نے گوڑ گانواں کو مرکز بنا کر میوات پر مختلف جانب سے حملے کئے۔ انگریزوں کا پہلا حملہ دہلی کے انگریز اسسٹنٹ کلکڑ کی کمان میں رائے سینا پر ہوا۔ یہ کالے خاں گولہ انداز کا علاقہ تھا۔ اس لڑائی میں انگریزوں کو شکست ہوئی اور کلے فورڈ اپنے 60 سپاہیوں سمیت مارا گیا۔ اگرچہ اس لڑائی میں کالے خاں گولہ انداز بھی شہید ہو گیا تھا مگر انگریزوں کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت میں میوات پر دسیوں جگہ پر حملے کئے جانے لگے تاکہ میو متحد ہو کر نہ لڑ سکیں۔ عورتیں، بچے، بوڑھے جو بھی دکھائی دیتا انگریزوں کے ظلم کا نشانہ بن جاتا۔ 27 نومبر کو کیپٹن رامسے نے پنگواں پر حملہ کیا۔ یہ سالار صدرالدین میو کاعلاقہ تھا۔

ساورس نے لڑائی میں تقریباً 25 گاؤں کو خاکستر کر دیا، بے شمار لوگ شہید ہوئے، لاکھوں کی فصلیں تباہ ہوئیں مگر میواتی سر سے کفن باندھ کر ڈٹے رہے۔ شاورس کی فوج کئی دن تک سوہنا اور تاؤڑو کے علاقے میں رہی۔ اس نے بابر کی طرح میوات کے سینکڑوں گاؤں نذر آتش کیے۔ اس کے سامنے جو بھی آیا قتل کر دیا گیا۔ انگریزی فوج نے کئی مہینے تک میوات میں موت کا کھیل کھیلا۔ اگرچہ سوہنا، تاؤڑو، رائے سینا، روپڑا کا، گھاسیڑہ، پننگوا اور مہو وغیرہ مقامات پر میووں نے ڈٹ کر انگریزی فوج کا مقابلہ کیا مگر بہتر ہتھیار، تربیت یافتہ منظم فوج اور غداران وطن کی مدد سے کامیابی انگریزوں کو ملی۔ سوہنا میں غداروں کی کافی تعدا تھی۔ یہ لوگ میو اور گوجر انقلابیوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کر رہے تھے۔ نوح میں 52 اور فیروزپورمیں 14، معتبر و معروف افراد سمیت کافی لوگوں کو پھانسی دی گئی۔ ہزاروں افراد کو قید میں ڈالا گیا۔

میووں نے نوح، رائے سینا، گھاسیڑہ، روپڑا کا، کوٹ، ہتھین، دوہا، نو گانواں، ریاست الور فیروزپور، پننگواں، مہو اور گنگوانی کے محاذوں پر توپوں اور دور مار رائفلوں کے مقابلے میں روایتی ہتھیاروں، تلوار اور برچھوں سے انگریزوں کو بھاری نقصان پہنچایا مگر توپ اور تلوار کا کیا مقابلہ، برچھا اور دور مار رائفل کی کیا نسبت۔ رہی سہی کسر غداروں نے پوری کر دی۔

انگریزوں نے اقتدار میں آ کر بہت سے میووں کی زمینیں ایکٹ مجریہ 1857ء، 1858ء کے تحت بحق سرکار ضبط کرلیں۔ میووں کے بہت سے گاؤں بشمول جھاڑ سا، کھیڑلی، جلال پور، دیولا، شکراوا، گھاگس، پرگنہ نوح کی زمینیں باغیوں کی مدد کے جرم میں ضبط کر لی گئیں، اسی طرح رائے سینا، سانپکی، ننگلی، نون ہیڑا، بائی کا ڈنڈا، ہریا ہیڑا، شاہ پورننگلی، دوہا، میوا ن پٹی، نوح، ڈونڈا ہیڑی وغیرہ گاؤں کی زمینیں میووں سے چھین کر اپنے حامیوں بھونڈسی کے راجپوتوں، سوہنا کے کائستھ اور نوح کے خان زادوں کو انعام میں دے دیں۔ میوات کے علاقے کو، الور، بھرت پور ریاستوں، گوڑگانوا اور متھرا ضلعوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ دلی کے قریب دیہی علاقے کے کئی گاؤں کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ 5، 6 گاؤں کو وائسرائے ہاؤس (راشٹر پتی بھون)کی تعمیر کے لئے زمین بوس کر کے ان کی قابل زراعت زمین پرآر۔ کے۔ پورم، ساؤتھ ایکسٹینشن اور کناٹ پیلس وغیرہ بسا دئے گئے۔ انگریزوں نے انتقام کے طور پر میوات میں تعمیر و ترقی کا کوئی کام نہ کیا۔ برقی، ریلوے، پانی، ہسپتال تو کجا کوئی پرائمری اسکول بھی نہ کھولا گیا۔

میوات میں پہلے ہائی اسکول میوبرین کا قیام 1923ء میں ہو سکا۔ الور اور بھرت پور کے میو تو اس سے بھی محروم تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میو گاہے بگاہے انگریز اور مالیاتی افسران کے ساتھ مار پیٹ کر دیتے تھے اور انگریزی اور ریاستی پولیس نیز فوج کے خلا ف ہتھیار اٹھا لیتے تھے۔ انگریزوں نے میو قوم سے بھر پور بدلہ لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ بہادر میو قوم اور مجاہدین کو انگریزوں نے شکست نہیں دی۔ انہیں غداروں نے مروایا۔ ولیم کیپ نے لکھا ہے، حقیقت تویہ ہے کہ “ہندوستان میں ہماری بحالی کا سہراہمارے ہندوستانی دوستوں کے سر ہے، جن کی ہمت و شجاعت نے ہندوستان کواپنے ہموطنوں سے چھین کر ہمارے حوالے کر دیا۔”

میووں پر انگریزی فوج میں بھرتی پر پابندی لگا دی گئی جو پہلی جنگ عظیم تک جاری رہی۔ جب ہٹلر کے خوف سے انگریزوں کی نیندیں اڑ گئیں تو انگریزوں کو میو یاد آئے۔ آزادی کی جنگ میں میو قوم نے جو قربانیاں دیں، ایسی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اگرچہ مورخوں نے میو قوم کی ان قربانیوں کو تاریخ میں جگہ دیتے وقت نہایت بخل سے کام لیا اور اپنے قبیلے کی شان بڑھانے کے لئے آزادی کے عظیم میو ہیروز کو میو لکھنے کے بجائے بے دھڑک اپنے قبیلے میں شامل کر لیا۔

بھونری کے عظیم سپہ سالار، جنرل بخت خاں جس کے نام سے انگریزوں پر لرزہ طاری ہوتا تھا، بڑ کے بے خطا نشانہ باز کالے خاںتوپچی جس کے خوف سے انگریز وں کی جان جاتی تھی، پیلی بھینت کے علی خاںمیواتی، رائے سینا کے علی حسن خاں میواتی، الور کے لال بہادر خاں میواتی، مولوی لیاقت علی خاں الہ آباد، میجر حور خاںمیواتی، پنگواں کے دراز قد و قامت کے مالک، وجیہ و جمیل سالار صدرالدین اور اندور کے سعادت خاں میواتی کے کارناموں کو جنگ آزادی کا کوئی مورخ فراموش نہیں کر سکتا۔ میو قوم کی بہادری اور عظیم کارناموں کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد انگریزوں نے سب سے پہلا جو کام کیا وہ میو قوم کو سبق سکھانا اور ان بہادر میو جانبازوں کی تلاش تھی جنہوں نے جنگ آزادی میں انگریز لشکروں کو ناکوں چنے چبوائے۔ ان کے نام اورچہرے انہیں ازبر تھے۔ بخت ان کو نہ مل سکا مگر بڑ کا کالے خاںگولہ انداز، رائے سینا کاعلی حسن خاں میواتی، پیلی بھینت کا حسن خاں میواتی، پننگواں کاخوبرو سالارصدر الدین اور دوسرے میو جانبازوں کی تلاش میں کتنی ہی انگریزرجمنٹین بھیجی گئیں۔ جب سارا ہندوستان انگریز کے قدموں میں ڈھیر تھا تب بھی جی دار میو روایتی تلواروں سے انگریزوں کی توپوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.