محبوبہ مفتی کی حکومت گرانے کا اصل مقصد کیا ہے؟

2,539

آخر کار وہی ہوا جس کا پچھلے تین سال سے خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ جب سے کشمیر میں بھارتیا جنتا پارٹی اور محبوبہ مفتی کی جماعت PDP کے درمیان موقع پرست مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی، یہ خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ قطب شمالی اور قطب جنوبی کو یک جا کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکے گی۔ گذشتہ منگل کو خود بھارتیا جنتا پارٹی نے اس خطرہ کو صحیح ثابت کردیا اور بڑی عجلت میں اس مخلوط حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا جس کے بعد محبوبہ مفتی کے استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا کیونکہ ان کی PDP سے کانگریس اور نیشنل کانفرنس دونوں نے حکومت بنانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

بلا شبہ محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت کا خاتمہ PDP کے لئے مایوسی سے کہیں زیادہ بھارتیا جنتا پارٹی کے لئے ناکامی ہے۔ 2014 میں ہندوستان میں برسر اقتدار آنے کے بعد، بھارتیا جنتا پارٹی 2015 میں پہلی بار اسی مخلوط حکومت کے کندھے پر سوار ہو کر کشمیر کے ایوان اقتدار میں داخل ہوئی تھی، جہاں اس سے پہلے اس کا سایہ بھی داخل نہیں ہوا تھا۔ کشمیر میں داخلہ کے موقع پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کے بارے میں اس کے سامنے صرف ایک منصوبہ تھاکہ حریت پسندوں کی تحریک کو دھشت گرد تحریک قرار دے کر فوج کی قوت کے بل پر اس کا قلع قمع کر دیا جائے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب برہان وانی کو قتل کیا گیا اور نوجوان کشمیریوں پر اندھا دھند چھرے برسانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اسی زمانہ میں کشمیر کے دانشوروں اور یونیورسٹی کے طلباء کو ہندوستانی فوج نشانہ بنا رہی تھی۔

Mehbooba-Mufti-becomes-PDP-President-sixth-time-in-a-row

بلاشبہ بھارتیا جنتا پارٹی پچھلے تین سال کے دوران محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت کی آڑ میں کشمیر میں دھشت گردی کے صفائے کے لئے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی رہی۔ اس دوران سارا زور حریت پسندوں کے خلاف فوج اور مسلح پولس کی منظم کاروائیوں پر رہا ہے، جس کے دوران تین سو سے زیادہ کشمیری نوجوان شہید ہوئے او ر ان کاروائیوں میں ہندوستان کے ڈھائی سو فوجی بھی مارے گئے۔ ان کاروائیوں کا دوہرا مقصد تھا۔ ایک جانب حریت پسندوں کے خلاف آپریشنز دوسری طرف کشمیر میں لائین آف کنٹرول کی منظم خلاف ورزی کے لئے ہندوستانی فوج کو بھر پور سہولت فراہم کی جائے۔

ہندوستانی فوج کی ان کارروائیوں کی وجہ سے وادی کشمیر کے عوام میں سخت بے چینی بڑھ رہی تھی جو محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت کے لئے پریشانی کا باعث تھی۔ اسی پریشانی کے پیش نظر محبوبہ مفتی نے مفاہمت اور مصالحت کی پالیسی اختیار کی اور دعوی ٰکیا کہ انہوں نے گیارہ ہزار کشمیری نوجوانوں کو رہا کرایا ہے اور ان کے خلاف دھشت گردی کے مقدمات واپس لئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسی صورت حال کے پیش نظر رمضان المبارک کے دوران فوج کی کارروائیاں معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی اس کا ایک جواز یہ بھی پیش کیا تھا کہ جون میں ہونے والی امر ناتھ یاتر ا کے دوران حملہ کا خطرہ کم ہوسکے گا۔ پچھلے دس برس کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ فوجی آپریشنز کو معطل کرنے کا۔ ہندوستانی حکومت کے نزدیک یہ تجربہ کامیاب ثابت نہیں ہوا کیونکہ ان کے بقول اس دوران حریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں۔ ایک کشمیری فوجی افسر کو جو عید منانے گھر جا رہا تھا، اغوا کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

محبوبہ مفتی نے زور دیا تھا کہ فوجی آپریشنز کی معطلی کو عید کے بعد بھی توسیع دی جائے لیکن بھارتیا جنتا پارٹی کی قیادت نے محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت کو گرانے اور بڑے پیمانہ پر حریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اس لئے اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔ چنانچہ مخلوط حکومت کے خاتمہ اور گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ کشمیر میں بڑے پیمانہ پر فوجی آپریشنز شروع کر دیے گے ہیں اور اس کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھر پور کارروائیاں شروع کرنے کا منصوبہ ہے اور ممکن ہے وہ فوجی کارروائی بھی شروع کی جائے جسے ہندوستانی سرجیکل آپریشنز کہتے ہیں۔

MehboobaMufti-kxyG--621x414@LiveMint

بھارتیا جنتا پارٹی کی قیادت کو پچھلے ایک عرصہ سے اس بات پر پریشانی تھی کہ محبوبہ مفتی کی مخلوط حکومت میں بھارتیا جنتا پارٹی کی شمولیت کی وجہ سے ہندو اکثریت کے صوبے جموں او ر ادھر لداخ میں پارٹی میں ناراضگی بڑھ رہی تھی اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لئے اور اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے لئے حالات سازگار بنانے کے لئے نریندر مودی نے مخلوط حکومت کے خاتمہ کا اقدام لازمی سمجھا۔

بتایا جاتا ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی کے رہنمائوں کو خطرہ تھا کہ محبوبہ مفتی کی جماعت فروری میں عام انتخابات کے اعلان سے پہلے ستمبر یا اکتوبر میں مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے چنانچہ بھارتیا جنتا پارٹی کی قیادت نے بہتر یہی سمجھا کہ اس صورت حال سے دوچار ہونے کے بجائے پہلا اقدا م خود کیا جائے۔

غرض محبوبہ مفتی کی حکومت گرانے کا مقصد جہاں کشمیر میں بڑے پیمانہ پر حریت پسندوں کے خلاف کاروائی اور لائن آف کنٹرول پر فوجی آپریشنز شروع کرنا ہے وہاں اس کا مقصد اگلے عام انتخابات کی تیاری ہے۔ کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف آپریشنز اور لائن آف کنٹرو ل پر آپریشنز کا منصوبہ عام انتخابات کی حکمت عملی سے وابستہ ہے جس کا اثر صرف کشمیرہی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ملک بھر میں یہ تاثر دیا جائے گا کہ بھارتیا جنتا پارٹی کشمیر، لائین آف کنٹرول اور ملک کی سلامتی کے معاملہ میں نڈر اور مضبوط اقدامات کی اہل ہے۔

محبوبہ مفتی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد کشمیر میں گورنر راج جو پچھلے چالیس سال میں آٹھویں بار نافذ ہوگا، بھارتیا جنتا پارٹی کی حکمت عملی میں بلا شبہ بے حد ممد ثابت ہوگا۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.