حکومت نہیں خود کو بدلو

2,188

الیکشن کے اس سال میں پوری ملک میں سیاسی بحث چھڑ گئی ہے اور تمام سیاسی کارکنان اپنے اپنے لیڈر کی تشہیر کے لئے میدان میں آچکے ہیں اور ہر طرح سے اپنے لیڈر کا دفاع کر رہے ہیں جس میں سوشل میڈیا واضح طور پر مقبول ہے۔ اگر کہا جائے کہ سوشل میڈیا پر عالمی سیاسی جنگ چھڑ چکی ہے تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ تمام کارکنان چاہے وہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہوں یا ن لیگ سے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نئی حکومت آنے سے شاید اس قوم کے تمام کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

ہر کوئی کسی نہ کسی طرح سیاست سے وابستہ ہے۔ مجھے بھی سیاست سےوابستگی کا بڑا جنون ہے تو میں نے سوچا کیوں نہ مسائل کی تلاش کی جائے جو آنے والی حکومت کو حل کرنا ہیں۔ جومسائل مجھے نظر ائے ان میں سے چند اہم مسائل یہ ہیں، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، اور بے روزگاری۔ آپ کوئی بھی ٹی وی چینل دیکھ لیں، صحافی اور تجزیہ کار آپ کو یہی مسائل اُجاگر کرتے ہوئے نظرآئیں گے، لیکن اگر غور کیا جائے تو کیا ہم عوام ہی ان مسائل کی وجہ نہیں؟

کیوں نہ پہلے مہنگائی پر بات کرلی جائے۔ جناب اگر کبھی آپ کا بازار جانا ہو تو سبزی فروش ہو یا پھل فروش جائز قیمت سے کہیں زیادہ پیسے لیتا ہے۔ اگر گاہک قیمت پر کوئی بات کر بھی دے تو دکان دار غصہ ایسےکرتا ہے جیسے اس سے اسی کا حق چھینا جا رہا ہو۔

اب آئیں لوڈ شیڈنگ پر۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ بجلی کی بچت کی جاتی اور اس کو اپنے مستقبل کے لئے بھی محفوظ کیا جاتا مگر افسوس کہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ بجلی کا بے دریخ استعمال کرنا تو کوئی پاکستانیوں سے سیکھے۔ پوری گلی محلے میں دن کے وقت بھی کنڈے ڈالے بلب جلتے رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو کنڈے ڈالنے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔ چونکہ عوام کو زیادہ بِل آتا ہے تو وہ کنڈے ڈالنا بھی اپنا حق سمجھتی ہے۔ جب عوام بجلی چوری کرے گی تو بجلی کی مہنگی قیمت کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ تو ہوگی۔

اب آتے ہیں بے روزگاری پر جو کہ آئندہ دنوں میں بھی ایک سنگین مسئلہ بننے جا رہا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر نوجوانوں نے بڑی بڑی ڈگریاں تو حاصل کر لی ہیں مگر پریکٹیکلی ان کے پاس کوئی ایسا ہنر نہیں ہے مگر مسئلہ یہ نہیں۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان بھی کم وقت میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے چکر میں سیکھنے کےلئے چھوٹے مواقع بھی کھو دیتی ہے۔ ہم نے بچوں کو کتابی کیڑا بنا رکھا ہے۔ کیا اس میں ہمارے اساتذہ کی غلطی نہیں، جو بچوں کو کتابی کیڑہ بنا رہے ہیں؟

مہنگائی سے لیکر لوڈ شیڈنگ تک کے ہم خود ذمہ دار ہیں اور سوچ یہ ہے کہ نئی حکومت آئی گی تو تبدیلی لائے گی، جو عوام جرم کو اپنا حق سمجھ کر کرے اس کو حکومت بدلنے کی نہیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

.سلمان جاوید بھٹی صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا ٹی وی کے مانیٹرنگ ڈیسک سے وابستہ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. Khan کہتے ہیں

    bhatti sahib jis country main ap jaise likhari hun wahan sewaye afsos karny k aur kuch nahi ho sakta apny aysa fazool article likha hy kah appki azmat ko salam karny ko dil karta hy kash ap jaise funkar chup rahny ki adat daal lain aur zakhmun per namak na chikain anyway abhi ap bachy hain long way to go just keep trying

    1. Aqsa کہتے ہیں

      mujhe nhi lgta kuch glt likha ha inho ne agr ap khud ko azem likhari smjhte ha to ap is se behtr likhye hmare mulk ka almya yhi to ha k agr koi acha likh de to tanked krne wale phle a jate ha chae khud kuch ata jata na ho

  2. Aqsa کہتے ہیں

    bilkul thik kaha apne agr hr bnda apni trf se koshish kre to hme kbhi ye masael paesh hi na ae keep it up good work good going

  3. سلمان جاوید بھٹی کہتے ہیں

    ہم اپ کی رائے کو بھی عزت دیتے ہیں، شاید میں بہت بڑا فنکار بھی ہوں سکتا ہو، مگر میرے پیارے بھائی ایک بات یاد رکھنا جیسی عوام ویسی ہی حکمران،، اور اس قوم کے زخمی پر جتنا بھی نمک چھڑک دیں، قوم سو رہی ہے، اور ایسا کریں اپ بھی سو جائے کیوں کہ حق اور سچ کی بات میں لکھتا رہوں گا، موجودہ صورتحال کی ذمہ دار عوام اور صرف عوام ہے۔

  4. سلمان جاوید بھٹی کہتے ہیں

    شکریہ، اقصیٰ آپ نے قوم کے لئے میرے دل میں موجود درد کو سمجھا۔

  5. سلمان جاوید بھٹی کہتے ہیں

    دراصل یہی وہ وجہ ہے کہ میں ہمیشہ لوگوںمیں خود کی خامیوں پر لکھتا ہو، اور انشاءاللہ لکھتا رہوں گا۔

تبصرے بند ہیں.