شہداء ماڈل ٹاؤن کے زخم تازہ ہیں

1,211

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے سانحات برپا ہوئے ہیں جن پر انسانیت تڑپ اٹھی۔ جن میں سانحہ پشاورجس میں سیکنڑوں معصوم بچوں کودہشت گری کا نشانہ بنایا گیا، کراچی میں بلدیہ فیکٹر ی میں مزدوروں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اسی طرح 17 جون 2014 کو حکومتی دہشت گردی سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا درناک واقعہ پیش آیا جب 15 گھنٹوں تک Live درجنوں میڈیا کے کیمروں کے سامنے دن کی روشنی میں پاکستان کی عوام کو ریاست کے محافظوں کے ہاتھوں گولیوں سے چھلنی ہوتا ہوا پوری قوم نے دیکھا۔ ہاں اگر نہیں دیکھا تو چند قدموں کے فاصلے پر موجود اپنے آپ کو خادم اعلی کہلانے والے شہباز شریف نے نہیں دیکھا۔

یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ صاحب اقتدار کی طرف سے باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ جس میں بچوں، خواتین اور باریش بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بناناگیا۔ زخمیوں کیلئے آنے والے ایمبولینس پر بھی کالی وردی میں موجود انسانیت دشمنوں نے حملہ کیا، اور 14 لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔ لیکن اس کیس میں ابھی تک تک کوئی قابلِ ذکر گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

پاکستان کی تمام جماعتوں کی طرف سے اس حکومتی دہشت گردی پر مذمت کی گئی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری سے سیاسی و مذہبی اختلافات رکھنے والی جماعتیں بھی اس سانحہ پر عوامی تحریک کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔ سانحہ میں شہید ہونے والی تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجدکے یہ الفاظ کہ میری ماما اور پھوپھو کو کیوں مارا، میری ماماکا کیا قصور تھا، میری ماما نے آپ کا کیا بگاڑا تھا۔ اس بیٹی کے یہ الفاظ آج بھی کارکنوں کے زخموں کو تازہ کر دیتے ہیں۔ ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتے ہیں۔

کچھ میڈیا پرسن نے یہ بھی کہا زبان خلق کو نکارہ خدا سمجھو کے تحت یہاں سے ہی شریف برادران کی ذلت و رسوائی کا آغاز ہوا۔ اس سانحہ میں کتنے گھروں کے چراغ گل ہوئے، کتنے خاندانوں کی روشنی چھین لیں گئیں۔ کتنے لوگوں کو معذور کر دیا گیا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ایسے سانحات جن کے قاتل معلوم ہوں ان کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔

وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا
درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رُلانے والے

جب یہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا تو پاکستان کیا دنیا بھر میں عوامی تحریک کے کارکن پر یہ ظلم و ستم کے پہاڑ سے کم نہ تھا۔ تحریک کے ہر کارکن کے گھر صف ماتم بچھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے انتہائی حکمت کے ساتھ کارکنوں کے جذبات کو کنٹرول کیا۔ اور اس سانحہ کے کیس کو قانونی طریقہ سے چلانے کا فیصلہ کیا اور کئی بار اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ہمارا مطالبہ دیت کی بجائے قصاص ہے اور ان حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ہمیں انصاف نہیں ملے گا لیکن ہم اس کیس کو زندہ رکھتے ہوئے انصاف کی امید قائم رکھیں گے۔ عوامی تحریک نے اپنے کارکنوں کی شہادت کو نہ بھولتے ہوئے ان کے خاندانوں کے ساتھ آج بھی کھڑے نظر آتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں اور کتنی جماعتیں ہیں جنہو ں نے اپنے کارکنوں کی شہادت کے بعد ان کو اپنا کارکن ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ کئی حکومتی روکاوٹوں کے باوجود اس کیس کو 4 سال تک زندہ رکھنا عوامی تحریک کی کامیاب حکمت عملی نظر آتی ہے۔

آج بھی جب جون کا ماہ آتا ہے کارکنوں کے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ اس جون کو وہ خون کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ یہ ایک سانحہ ماڈل ٹاؤن ہی نہیں اس ملک میں کتنے ایسے خون ہوئے ہیں جن کا کھوج حکمرانوں کے گھروں سے جا ملتا ہے۔ آج اپنے ماتحت اداروں سے انصاف کو اپنے حق میں خرید تے نظر آتے ہیں۔ لیکن کب تک ؟ خون کا بدلہ تو حکمرانوں کو دینا ہی ہو گا اس دنیا میں نہ سہی تو قیامت کے روز اس سے بچ نہیں سکیں گے۔

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    جلاد آزاد ،عدالتیں خاموش اور ادارےمفلوج۔ایک ہم ہیں کہ برسوں سے چلاتے ہوے تھکنے کا نام نہیں لے رہے کہ ہم ایک مسلم معاشرے اور ملک میں رہ رہے ہیں۔۔۔مسلمان اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کا دن دھارے خون کرکے اسلام کا داعی ہے۔ یا للعجب۔

تبصرے بند ہیں.