17 جون اور 14 خون: کہاں ہے قانون؟

1,004

سانحہ ماڈل ٹاؤن ملکی تاریخ کا ایک ایسا دہشتگردانہ واقعہ ہے کہ جس کی نظیر گزشتہ 70 سالوں میں نہیں ملتی۔ آج اس واقعہ کو 4 سال بیت گئے ہیں لیکن اس نظام کے تحت انصاف ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ ہمارا نظام صرف اور صرف امیروں اور جاگیرداروں کو انصاف فراہم کرتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن جہاں پوری دنیا نے کیمرے کی آنکھ سے ظلم ہوتا دیکھا، ظلم کی اس داستان کو سینکڑوں لکھاریوں نے قلم بند کیا، درجنوں صحافیوں نے خود اس سانحہ کی کوریج کی، عدالتوں میں سینکڑوں افراد نے گواہیاں دیں لیکن ہمارے نظامِ انصاف کے لیے یہ سب کچھ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی داستان دوسری داستانوں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہ سانحہ برپا کرنے والے طالبان نہیں تھے نہ ہی دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے دہشتگرد تھے بلکہ اس سانحے میں قتل و غارت کرنے والے ہمارے برائے نام محافظ فورسز کے سپاہی تھےاور جسٹس باقر نجفی رپورٹ کے مطابق اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ وزراء تھے۔ یہ سانحہ دوسرے ساںحات سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس سانحہ کے لواحقین نے انصاف کے لیے ہر فورم کا استعمال کیا۔ قارئین آپکے خیال میں انصاف طلب کرنے کے لیے مظلومین کتنے پلیٹ فارمز کا استعمال کر سکتے ہیں؟

انصاف کے لیے ایف آئی آر کا درست اندراج؟ انصاف کے لیے دھرنا و احتجاج؟ انصاف کے لیے ملک کے نامور اداروں سے اپیل؟ انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر، روزانہ کی بنیاد پر پیشیاں اور ثبوتوں کے انبار؟

جی ہاں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین انصاف کے لیے ان سب پلیٹ فارمز کا استعمال کر چکے ہیں اسکے باوجود انصاف کا نام و نشان نہیں۔

ہمارے ملک پاکستان میں نظامِ عدل و انصاف کتنا شفاف ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک ایف آئی آر درج کروانے کے لیے دھرنا دینا پڑے پھر بھی درج نہ ہو اور آرمی چیف کو مداخلت کرنا پڑے۔

آخر سانحہ ماڈل ٹاؤن برپا کرنے والے کون لوگ ہیں اور کیوں انکے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ کہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل وہی تو نہیں جنہوں نے پاکستان کو لوٹ کھایا، یا پھر قاتل کہیں وہ تو نہیں جن کے کاروبار اور فیکٹریاں ملک دشمن ممالک میں ہیں۔

اگر تو یہ وہی لوگ ہیں تو پھر انصاف اتنی آسانی سے نہیں ملے گا جب تک ادارے انکے ماتحت ہیں۔ انکا دورِ حکومت تو ختم ہو چکا لیکن انکا اثر و رسوخ ابھی باقی ہے۔ اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اپریل کے مہینے میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر ماڈل ٹاﺅن شہداء کے لواحقین نے چیف جسٹس سے انصاف کی فراہمی اور ازخود نوٹس کی اپیل کی تو چیف جسٹس نے بھی متاثرین کی بات سنتے ہوئے نوٹس لے لیا اور پنجاب حکومت سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی وجوہات اور تفصیلات بھی طلب کیں۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں شہید ہونے والی خاتون کی بیٹی بسمہ نے چیف جسٹس سے ملاقات کی اورچیف جسٹس سے کہا 4 سال گزر گئے لیکن ابھی تک انصاف نہیں ملا۔ جس پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بسمہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی ضرورت نہیں، انصاف ملے گا۔

بعد ازاں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواست پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی روزانہ کی بنیاد پرسماعت کرنے اور انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی چھٹی منسوخ کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق ہائیکورٹ میں زیر التواء مقدمات دو ہفتےمیں نمٹانے کا حکم بھی دیا، اس کے علاوہ جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا کرایڈووکیٹ جنرل پنجاب کواسی دن شام تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

ان سب معاملات کے بعد اب جون کا آدھا مہینہ بھی گزرنے کو ہے نا وہ شام آئی اور نا ہی وہ دو ہفتے گزرے۔ بظاہر حالات سے لگ رہا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ اب نئی نویلی حکومت میں ہی ہوگا۔

موقوف ہے کیوں حشر پہ انصاف ہمارا
قصہ جو یہاں کا ہے تو پھر طے بھی یہیں ہو

حافظ محمد زبیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ کالم نگاری کا شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.