سمندر کنارے بسنے والے پانی سے محروم کیوں؟

483

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اسی اعتبار سے کراچی کی آبادی بھی پاکستان کے دیگر شہروں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان کے اس شہر کو منی پاکستان کہا جاتا ہے۔ اس شہر میں پاکستان بھر سے لوگ روزگار کی تلاش میں ہجرت کر کے آتے ہیں اور یہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کا یہ شہر مسائل کے اعتبار سے بھی سب سے آگے ہے۔ ٹرانسپورٹ ہو، لوڈشیڈنگ یا اسٹریٹ کرائم تمام مسائل کا انبار اس شہر میں موجود ہے۔ لوڈشیڈنگ کے بعد کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا بحران ہے۔ کچھ علاقوں کی حالت زار دیکھ کر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید انتظامیہ یزید سے متاثر ہے۔

کراچی کو پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ حب ڈیم ہے۔ حب ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد  تک کم ہوچکی ہے۔ پانی کی سطح میں کمی کے باعث کراچی میں پانی کی قلت میں اضافے کا امکان ہے۔ حب ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول تک پہنچنے کے قریب ہے۔ واضح رہے کہ پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچنے کے بعد شہر کو پانی فراہم کرنے کیلئے پمپنگ سسٹم کی ضرورت پڑے گی بصورت دیگر شہر کو پانی کی فراہمی بند ہوجائے گی۔ یوں تو کراچی میں کام کرنے والے تمام ادارے ہی جمہوری دور کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ لیکن واٹر بورڈ ایک ایسا ادارہ ہے جس میں سب سے زیادہ سیاسی بھرتیاں کی گئی تھیں۔ لہذا واٹر بورڈ کا عملہ پانی کی کمی سے بے خبر سکون کی نیند سو رہا ہے۔ اور تاحال کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے پمپنگ کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

ایک جانب تو ڈیموں کی کمی اور واٹر بورڈ کی نااہلی ہے توو دوسری جانب کراچی کے شہریوں کو نامعلوم افراد پر مشتمل ٹینکر مافیا کا سامنا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر کراچی میں سالانہ 7 ارب روپے سے زائد کا پانی فروخت ہورہا ہے، سرکاری ہائیڈرنٹس سے تقریبا ً 5 ہزار ٹینکرز پانی فروخت کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر سرکار کے پاس فروخت کرنے کیلئے پانی ہے تو وہ پانی بوند بوند کو ترستے کراچی کے عوام کو کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری ہائنڈرنٹس سے کئی زیادہ پانی غیر قانونی ہائیڈرنٹس فروخت کرتے ہیں۔ یہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس شہر کے مختلف علاقوں میں انتظامیہ کے گٹھ جوڑ سے قائم کئے جاتے ہیں اور پھر شہریوں کے حصے کا پانی چوری کر کے انہیں کو ہزاروں روپے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

کراچی میں بلدیاتی حکومت اور سندھ حکومت کی جانب سے پانی کے منصوبوں کا آغاز کیا جاتا ہے پر ناجانے یہ منصوبے مکمل کیوں نہیں ہو پاتے۔ اس وقت شہر میں اربوں روپے لاگت سے زیر تعمیر پانی کے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، ان منصوبوں کی تکمیل میں کیا رکاوٹ ہے اس حوالے سے حکومتی حلقوں کا ایک بہانہ سامنے آتا ہے اور وہ فنڈز کی کمی۔ ایسی صورت حال میں شہر میں موجود ٹینکر مافیا اور ان سے گٹھ جوڑ کرنے والے افراد کی چاندی ہوگئی ہےجبکہ شہریوں کو کربلا کی یاد تازہ کرائی جارہی اور بار بار صبر کا درس دیا جارہا ہے۔

اس وقت غیر قانونی پانی کی فروخت سے کروڑوں روپے کا کاروبار شہر میں جاری ہے۔ کراچی کو یومیہ 12سو ملین گیلن سے زائد پانی کی ضرورت ہے اور واٹر بورڈ صرف 600 ملین گیلن پانی فراہم کرتا ہے۔

ضلع ملیر میں ایک درجن سے زائد غیر قانونی ہائیڈرنٹس ہیں جبکہ بلدیہ ٹائون، اورنگی ٹائون، اسکیم 33، کورنگی اور مختلف علاقوں میں بھی درجنوں چھوٹے ہائیڈرنٹس قائم ہیں۔ کراچی واٹر بورڈ کے مطابق شہر میں قانونی 6 ہائیڈرنٹس ہیں، جن سے یومیہ 5000 کے لگ بھگ ٹینکرز مختلف علاقوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ اگر شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کیا جائے تو جا بجا ہائیڈرنٹس نظر آتے ہیں۔ 6ہائیڈرنٹس کو قانونی تصور کرلیجئے توباقی درجنوں ہائیڈرنٹس کس کی ایما پر کھلے عام پانی چوری کر کے فرخت کر رہے ہیں؟شہریوں کو ان کے حصے کا ہی پانی 1500 سے لیکر کر 3500 روپے فی ٹینکر فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ ظلم صرف شہری علاقوں تک ہی محدود نہیں بلکے پاکستان کے بزنس حب کراچی کی صنعتی علاقوں میں بھی پانی کی شدید قلت ہے اور صنعتی علاقوں میں ٹینکر ز کے ریٹ شہری علاقوں سے زیادہ ہیں۔

آخر اس مافیا کو کنٹرول کیوں نہیں کیا جارہا؟ آخر پانی کے منصوبے تاخیر کا شکار کیوں ہیں؟تحقیقات کیوں نہیں کی جارہی؟آخر ڈیموں پر سیاست کیوں کی جارہی؟ آخر شہریوں کو پانی کی بوند بوند کیلئے کیوں ستایا جارہا ہے؟ آخر کیوں؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.