عید، ٹرے اور رومال

1,138

عید پر تحفے دینا برصغیر کی بلکہ پورے عالم کے مسلمانوں کی ایک اچھی روائت ہے۔ اس پر مسرت موقع پر دوست رشتہ دار سب ایک دوسرے کے ساتھ تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ہمیں بھی تحائف لینا بہت پسند ہے مگر ایک شرط کے ساتھ کہ ہمیں کسی کو تحفہ دینا نہ پڑے۔

پہلے ہم بھی خوب تحفے دیا کرتے تھے مگر اب ایسا کرنا ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس پر پیسے خرچ ہوتے ہیں۔

اب یہ تحائف کا تبادلہ ایک وبال جان سے کم نہیں رہا۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں پر اب یہ ایک کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی لئے شائد ہمیں تحفے دینے سے جیسے نفرت سی ہو گئی ہے۔ اب ہم اپنے لئے خود ہی تحفہ خرید لیتے ہیں۔

ایک وقت تھا، ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ اس عیدالفطر پر ایک گھر سے ایک پیکٹ سویوں کا ایک تھال میں رکھ کر اور اس کے ساتھ سوا روپیہ بھی ہوتا تھا، اوپر سے خوبصورت رومال سے ڈھانپ کر اپنے قریبی رشتہ دار کے گھر بھیجا جاتا تھا۔ وہی سویوں کا پیکٹ اور سوا روپیہ آخر کار گھومتے گھامتے اسی پہلے گھر پہنچ جاتا تھا۔ جس کو بھیجا گیا اس نے وہی بس ٹرے اور رومال کی تبدیلی کے ساتھ واپس کر دیا جیسے کہ آج کل تبدیلی لانے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ اصل وہی ہے بس ٹرے اور رومال بدلہ ہے، یعنی امیدوار قیام پاکستان والے ہی ہیں بس متوقع جیتنے والی پارٹی کے ٹرے میں چلے گئے، اور اس پارٹی نے اس ٹرے پر نیا رومال ڈال دیا اپنی طرف سے۔ آپ اسے پارٹی کا جھنڈا بھی کہہ سکتے ہیں۔

معاف کیجئے گا آج کل چونکہ سیاست ہی سیاست پر بحث ہو رہی ہے تو ہماری یہ خالص غیر سیاسی باتیں عبدالقادر حسن کی طرح سیاسی ہو گئیں۔ بحر حال ہم بات کر رہے تھے تحفے تحائف کے تبادلے کی تو یار لوگوں نے بھی یہ سلسلہ شروع کیا کہ دوست کے بیٹے یا بیٹی کو ایک ہزار کا تحفہ لے کر دیا اور امید باندھ لی کہ وہ دو نہیں تو کم از کم پندرہ سو تو ضرور دے گا۔ اور ایسا ہی ہوتا رہا۔ ادھر ادھر دیکھا تو بھی یہی ماجرہ نظر آیا۔

کچھ چالاک اور ضرورت سے زیادہ عقلمند خواتین و حضرات نے تو یہ وطیرہ بھی بنا لیا کہ پہلے روزے ہی عیدی اور تحائف بھیج دئے۔ اب ہم مجبور ہو جاتے کہ اس احسان کے بوجھ تلے سے نکلیں اور ہم پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ ہماری اپنی عید تحفے بانٹ بانٹ کر کرکری سی ہو جاتی  ہے ۔ پھر ہمیں ایک دنیا دار بزرگ ملے انہوں نے ہمیں ایک گر سکھایا۔ اگلی ہی عید پر ہم نے وہ گر آزمایا۔ ہم نے تمام کاروباری تحفوں کا تبادلہ روک لیا۔ تحفوں کو ای سی ایل میں ڈال دیا اور اپنے وزیر داخلہ کو کڑی ہدائت کر دی کہ چاہے کوئی زلفی ہو یا بخاری نیازی کے ساتھ جانا چاہے یا کسی میاں کے ساتھ ہرگز ہرگز اجازت نہیں دینی۔ بس جی پھر تو جیسے ہمارا مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ وہ عید گزری اور آج کی آئی کوئی بھی گرہ کاٹنے والا ہمارے گھر میں داخل نہیں ہو سکا اور ہم بڑے مزے سے اپنے ہی خرچے پر اپنی عید مناتے ہیں۔ اور اپنی زوجہ محترمہ کو ہی دیکھ کر یہ شعر پڑھ دیتے ہیں کہ

عید مبارک تب ہوتی ہے
تیری زیارت جب ہوتی ہے

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.