پی ٹی آئی حکومت اور تعلیم

1,416

پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت اپنی میعاد پوری کرکے رخصت ہوگئی ہے۔ اب اپنی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو حمایت کی دعوت دے رہی ہے۔

تو کیا پی ٹی آئی حکومت، جو تعلیم کو اپنا ترجیح اول قرار دیتی تھی، کی کارکردگی تعلیم کے شعبے میں واقعی قابل رشک تھی اور کیا واقعی اس نے پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں بجٹ میں سب سے زیادہ رقم تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کی تھی؟ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

اساتذہ کی غیر تسلی بخش حاضری، دقیانوسی نصاب، سکولوں کی کم تعداد، سکولوں میں ضروری سہولتوں کی کمی، بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، خدمات اور سہولتوں کی فراہمی میں صنفی اور علاقائی عدم توازن اور سرکاری سکولوں کی نجی سکولوں کے مقابلے میں فروتر کارکردگی صوبے کے تعلیمی شعبے کے بڑے بڑے مسائل ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت نے ان میں سے کچھ پر قابل قدر کام کیا ہے جبکہ بعض پر اس کی کارکردگی اتنی تسلی بخش نہیں رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے سال میں تعلیم ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس نے تعلیم کے شعبے کے لیے منصوبہ 2020-2015 بھی تیار کیا تھا۔ سب سے زیادہ کام اس نے تعلیمی شعبے میں وسائل کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر کیا ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ویب سائٹ کے مطابق اس حکومت نے 30 ارب روپے سے زیادہ تعمیر و ترقی اور وسائل کی فراہمی پر خرچ کیےہیں۔

ویب سائیٹ کے مطابق اس نے سکولوں میں 14000 نئے کمرہ ہائے جماعت اور 16000چاردیواریاں تعمیر کی ہیں، 11000 سکولوں میں بجلی اور 16000 سکولوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی ہے، 20000 بیت الخلا ءاور 6000 سکولوں میں شمسی توانائی کے منصوبے لگائے ہیں۔ سکولوں میں پلے ایریاز لگائے گئے ہیں، انٹرایکٹیوبورڈز فراہم کئےگئے ہیں، سکولوں کی سائنس لیبارٹریوں کو سامان فراہم کیا گیا ہے اور سکولوں کو غیرملکی ڈونرز کے تعاون سے والدین و اساتذہ کی تنظیم کے ذریعے خرچ کرنے کے لیے Autonomy budget فراہم کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سینکڑوں سکولوں کی اپگریڈیشن کی ہے، تعیناتیوں، ترقیوں اور تبادلوں میں سیاسی مداخلت کم ہوئی ہے۔ سکولوں میں آزاد مانیٹرنگ ںظام اورہائیر سیکنڈری سکولوں میں بائیو میٹرک سسٹم کے بدولت اساتذہ کی حاضری بہتر ہوئی ہے۔ محکمے میں سزا و جزا کے قانون کے تحت کام چوروں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے تو 145 ملین روپے اچھی کارکردگی اور نتائج دینے پر پرنسپلز، اساتذہ اورطلباء کوبطور انعام بھی دئیے گئے ہیں۔

تاہم آبادی کے تناسب سے سکولوں کی کم تعداد، خدمات اور سہولتوں کی فراہمی میں صنفی اور علاقائی عدم توازن اور سرکاری سکولوں کی نجی سکولوں کے مقابلے میں فروتر کارکردگی جیسے مسئلے اب بھی توجہ اور مزید وسائل کے منتظر ہیں۔

سرکاری، نجی اور دینی مدارس کے مختلف، متناقص اور کٹر نصاب کی وجہ سے ملک میں انتشار فکری اور قومی یک جہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ پورے صوبے میں مارچ 2014 تک یکساں نصاب نافذ کریں گے لیکن اپنے آخری برس تک بھی پی ٹی آئی یہ نہ کرسکی۔

پی ٹی آئی کی سرکردگی میں قائم خیبر پختونخوا حکومت نے ان پانچ سالوں کے دوران جب بھی کوئی بجٹ پیش کیا تو پی ٹی آئی سربراہ اور اس کے دیگر زعماء و وزراء نے ہمیشہ اصرار کیا کہ ان کی حکومت نے صوبائی بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا سب سے بڑا حصہ تعلیم کے لیے ہی مختص کیا ہوا ہے۔

اگرتعلیم کے لیے زیادہ پیسے بجٹ میں مختص کرنے کا مطلب سیاسی قیادت اور حکومت کی تعلیم سے زیادہ وابستگی اور اخلاص ہے تو پھر اپنے پیش رووؑں کے مقابلے میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ اور مکمل صوبائی بجٹ میں اس کی شرح میں مسلسل کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف اپنے اس وعدے اور دعوے کہ تعلیم اس کی ترجیح اول ہے، کے ساتھ انصاف نہیں کرسکی ہے۔

اگرچہ افراط زر کی وجہ سے اورمعمول کے مطابق ہر سال بجٹ اور صوبائی ترقیاتی بجٹ (اے ڈی پی) کے حجم میں اضافہ ہوتا رہا ہے تاہم 2013 سے جب سے پی ٹی آئی کی حکومت شروع ہوئی ہے اس کے دعووں کے برعکس تعلیم کے لیے مختص بجٹ کی مقدار اور پورے بجٹ اوراے ڈی پی میں اس کے فیصدی حصے میں مسلسل کمی ہوتی آئی ہے۔

اپنے آخری بجٹ میں اے این پی کی زیرقیادت حکومت نے، جس نے پی ٹی آئی کی طرح تعلیم کو اپنا ترجیح اول قرار دینے پرکبھی اتنا زور نہیں دیا، کل صوبائی بجٹ کا 27 فیصد تعلیم کے تمام اخراجات (ترقیاتی اخراجات و اخراجات جاریہ) کے لیے مختص کیا۔ جبکہ پی ٹی آئی، جس نے ہمیشہ تعلیم کو اپنا ترجیح اول قرار دیا ہے، کے دور حکومت میں یہ شرح تھوڑے سے اضافے سے 27.9 پر چلی گئی۔ لیکن اگلے دو سالوں میں یہ س شرح 26.4 اور24.5 پر نیچے آگئی۔ 2016 میں یہ شرح پھر تھوڑے سے اضافے سے 26.3 ہو گئی اور سال رواں میں، جو پی ٹی آئی کا آخری بجٹ ہے یہ شرح دوبارہ کم ہوکر 24.5 پر آگئی ہے۔

اپنے پہلے بجٹ میں پی ٹی آئی نے تعلیمی اے ڈی پی کو عوامی نیشنل پارٹی حکومت کے آخری بجٹ2012 کے 22 ارب کے مقابلے میں 29 ارب روپے تک پہنچایا۔ لیکن اپنے بڑے بڑے دعوٶں کے برعکس اگلے تین سالوں میں یہ بالترتیب 26.1 ارب، 22.1 ارب اور 21.7 ارب تک نیچے آگیا۔ اس سال2018-2017 کے صوبائی اے ڈی پی میں تعلیم کا حصہ 20.3 ارب روپے ہے جو تعلیم کے شعبے کے 142 منصوبوں، جن میں 98 جاری اور44 نئے ہیں کے لیے مختص ہیں۔ یہ رقم اب تک پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے تعلیم کے لیے مختص شدہ رقوم میں سب سے کم رقم ہے۔

پورے اے ڈی پی میں تعلیم کے لیے مختص رقم کی فیصد شرح میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ اے این پی حکومت نے 2012 میں اپنے آخری بجٹ میں پورے اے ڈی پی کا 22.7 فیصد تعلیم کو دیا جسے پی ٹی آئی نے اپنے پہلے بجٹ میں 25.2 تک بڑھا دیا۔ تاہم اگلے تین سالوں میں یہ شرح 18.7, 12.7 اور 13.5 فیصد ہو گئی جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے آخری اور رواں مالی سال میں یہ شرح 9.8 فیصد کی مایوس کن سطح پر آگئی ہے۔

اور اگر ترقیاتی بجٹ میں غیرملکی حصہ میں زیادہ اضافہ اس دوران نہ ہوا ہوتا تو ترقیاتی بجٹ میں تعلیمی بجٹ کی شرح میں کمی اور بھی زیادہ ہوتی۔ اس سال کے اے ڈی پی میں غیر ملکی حصہ 127 فیصد کے اضافے کے ساتھ پچھلے سال کے 36 ارب روپے سے بڑھ کر 82 ارب ہوگیا ہے۔ تعلیم کو بھی اس میں سے 6.7 ارب روپے مل چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے قائدین جب کہتے ہیں ان کی حکومت نے تعلیم کے لیے سب شعبوں سے زیادہ فنڈز مختص کیے ہیں تو وہ تعلیم کے پورے بجٹ (جاری و ترقیاتی اخراجات) کے اعداد و شمار دیتے ہیں اور دانستہ اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ تعلیم کا شعبہ تو ابتدا ہی سے ملازمین اور انفراسٹرکچر کے حساب سے سب سے بڑا محکمہ ہے( صوبے کے تمام پانچ لاکھ ملازمین میں سے آدھے سے زیادہ اس محکمے میں کام کرتے ہیں) جسے قدرتی طور پر ہر حکومت میں اخراجات جاریہ کے لیے زیادہ رقم ملتی رہی ہے۔

اس سال تعلیم کا پورا بجٹ پچھلے سال کے 132 ارب روپے (جن میں سے 11 ارب روپے اخراجات جاریہ اور 21 ارب ترقیاتی بجٹ کے لیے تھے) کے مقابلے میں 148 ارب روپے ہے جن میں 127.9 ارب اخراجات جاریہ کے لیے اور 20.3 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لے ہے۔

بجٹ میں ہر سال سکیمیں تو رکھی جاتی ہیں لیکن کم ہی تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ چناچہ سکیموں کو ملتوی کرنے کی وجہ سے تشنۂ تکمیل سکیموں کی تعداد یا throw-forward-liability میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے بجٹ 2014-2013 میں پورا صوبائی اے ڈی پی 983 اور تعلیم کا اے ڈی پی 97 منصوبوں پر مشتمل تھا جن میں 609 منصوبے یا 61 فیصد پورے اے ڈی پی میں جبکہ 61 منصوبے یا 62 فیصد تعلیم کے شعبے میں جاری منصوبے تھے۔ اس سال پورے صوبائی منصوبے 1632 ہیں جن میں 72 فیصد جاری ہیں جبکہ تعلیم کے شعبے میں کل منصوبے 142 ہیں جن میں 98 جاری منصوبے ہیں یعنی جاری منصوبے اب 69 فیصد پر آگئے ہیں۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف کسی شعبے کو زیادہ فنڈز کی فراہمی ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کا صحیح اوربروقت استعمال بھی یقینی بنانا ہوتا ہے ورنہ وسائل اور وقت بھی ضائع ہوتے ہیں اور کام اور مسائل میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

طاہرعلی خان ایک ماہر تعلیم اور کالم نگار ہیں جو امن رواداری اور ترقی کو عزیز رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    چونکہ میں خود پختون خوا کا باسی ہوں میری براہ رات صوبسے وابستگی کے سبب اپ کی نا مکمل تجزئے کو مسترد کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ نہ پی ٹی آئ کا ممبر ہوں نہ کسی اوز جمعے کا کارندہ۔ جو کچھ پانچ سالوں میں پی ٹی آئ نے ہر شعبہ حیات میں کر دکھایا وہ سیاسی میدان میں نیا ہونے کے باوجود کسی معجزے سے ہرگز کم نہیں۔ آپکی ننئت پر آپکے تجزئے کو پڑھنے کے بعد شک بطور فرض کرنا اپنا حق سمجھتا ہوں۔

تبصرے بند ہیں.