الیکشن 2018 سے کراچی میں وفاقی سیاست کی شروعات

1,566

پاکستان میں الیکشن کوئی پہلی مرتبہ تو ہونے جا نہیں رہے مگر لگتا ایسا ہی ہے۔ ایسا جوش و خروش نظر آرہا ہے جو پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی بڑی وجہ تو سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان ہی ہےجس نے الیکشن کے ہر مرحلے کو دلچسپ و قابل توجہ بنا دیا ہے۔

ٹی وی چینلوں پر ہونے والی بحث جب کلپ کی صورت میں سوشل میڈیا پر شیئر ہوتی ہے تواکثر وائرل ہی ہو جایا کرتی ہے۔ سیاسی لوگ بھی حیران و پریشان ہیں کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہوتے جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیں۔ سیاسی عمل کا اگلا مرحلہ ہمارے سامنے ہے یعنی ٹکٹوں کی تقسیم جو پہلے کے الیکشنوں میں آسانی سے ہو جایا کرتی تھی۔ مگر اب ایسا نہیں رہا۔ تمام سیاسی پارٹیاں ہی ٹکٹوں کی تقسیم میں اندرونی کشمکش کا شکار نظر آتی ہیں۔ پھر سونے پہ سہاگا یہ کہ سوشل میڈیا نے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو عجب مخمصے میں ڈال رکھا ہے وہ جس کا نام بھی فائنل کر کے سامنے لاتے ہیں سوشل میڈیا پر شور سا مچ جاتا ہے۔

مسلم لیگ نون میں چوہدری نثار حسب معمول خفا خفا سے نظرآتے ہیں جنہیں منانا اب میاں نواز شریف کے بس کی بات نہیں رہی۔ چوہدری نثار کی خواہش تھی کہ انہیں ٹکٹ خود ہی دیا جائے تو وہ لیں گے ورنہ ٹکٹ لینے کیلئے نہیں جائیں گے۔ یہ ان کا خاص انداز ہے جس پر مسلم لیگ نون کے سوشل میڈیا ورکرزانہیں اکثر آڑے ہاتھوں لیتے نظر آتے ہیں۔ آخر کار وہ آزاد امیدار کے طور پر ہی کھڑے ہوگئے۔

پی ایم ایل نون کے مرکزی رہنماؤں کی کراچی میں فعالیت گویا وفاقی پارٹیوں کی شہری سندھی میں پہلی مرتبہ اتنی سرگرمیوں کی علامت بن کر ابھری ہے۔ پی ایم ایل نون سندھ کے سوشل میڈیا ونگ کے فعال رکن شیخ ریحان المعروف جیدار بڈھا پٹواری کے مطابق شہباز شریف کا کراچی سے انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کرنا بھی ایک اچھا شگون رہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ مسلم لیگ نے بھی کراچی کو اہمیت دی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی قومی اور صوبائی سیٹیں بھی نکل آئیں تو کیا کہنے۔ پھر مسلم لیگ نے کراچی کو میٹرو بس کا پروجیکٹ بھی تو دیا ہے۔ یہ بھی ان کے کریڈٹ پر جاتا ہے۔ شہباز شریف کے پاس بہت کچھ ہے کراچی والوں کیلئے بشرط یہ کہ کراچی کا ووٹر انہیں ووٹ دے کر کراچی کا رکھوالا بنا کر تو ایک مرتبہ دیکھے۔ کراچی کو مسلم لیگ لاہور جیسا جدید بنا دے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی تو ایک نئی جماعت ہے جس میں گروہ بندیاں اتنی واضح ہیں کہ سب کو ہی نظر آتی ہیں اس پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ورکرز سوشل میڈیا پر پر امیدوار پر اپنی رائے دینا ضروری سمجھتے ہیں اور ان کی آواز سنی بھی جاتی ہے۔ فرحان ورک کے بارے میں تو کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹری میڈیسن میں نہیں لی بلکہ سوشل میڈیا میں ہی ڈگری لی ہے۔ ان کے بنائے ٹرینڈز خاصے مشہور ہوتے ہیں۔ جیسے عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے خلاف جتنی انہوں نے سخت آواز بلند کی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ مگر پارٹی سے ان کی وفاداری کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ عامر لیاقت کو لانے کا جب فیصلہ ہوگیا تو انہوں نے اپنی پارٹی کے سربراہ کے فیصلے پر سر تسلیم خم بھی کر لیا۔

پی ٹی آئی ٹکٹوں کی تقسیم پر سخت ردعمل کا شکار رہی۔ اس جماعت پر طنز کرنے والوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی اس سے پہلے اس قوت کے ساتھ نہیں سامنے آئی تو اس طرح کے مسائل فطری ہیں۔ اب چونکہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں رہتا تو پی ٹی آئی کا ہر مسئلہ لگتا ہے کہ عوامی مسئلہ ہے اور کیوں نہ ہو پی ٹی آئی ابھرتی ہوئی قوت ہے۔ ایسی قوت جسے اس کے مرکزی رہنما بھی سنبھال نہیں پا رہے۔ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس مرتبہ ایسا کیا کریں کہ پچھلے الیکشن والی غلطیاں نہ دہرائی جا سکیں۔ لوگ ہنستے ہیں تو ہنسیں مگر کوئی غلطی نہ ہونے پائے۔ یہی پی ٹی آئی کی سوچ ہے۔ عمران خان کراچی سے بھی الیکشن میں حصہ لینے کی جانب مائل ہوئے ہیں۔ جس سے پی ٹی آئی کو کراچی میں قدم جمانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب کراچی کی نمائندہ جماعت کے بانی نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کے سوشل میڈیا پر فعال رکن شیخ ولید کے مطابق بانی ایم کیو ایم کا ساتھ چوڑنے والوں کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ وہ بھی ایسے میں جب لسانیت کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اپنے ہی بانی کامشکل میں ساتھ نہ دیا ہو۔ کراچی سے ایم کیو ایم کے تمام دھڑے اپنے روایتی طریقوں سے جیتے تو جیتے ورنہ پی ایس پی کی حالت زیادہ بہتر ہے اور اس کی وجہ ہر جگہ اس کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہے جو الیکشن ڈے کی سائنس سے واقف ہے۔

پی پی پی پنجاب کی سیاست سے تقریبا باہر ہوچکی ہے۔ کے پی میں اور بلوچستان میں بھی اس کی حالت پنجاب جیسی ہی خراب ہے۔ پی پی آج تک کسی مہاجر کو وزیر نہیں بنا سکی جبکہ پنجاب میں نگران وزیر اعلی حسن عسکری ایک مہاجر ہیں۔ پنجاب میں ہرمیرٹ پر کام ہوتا ہے اور لسانی بنیادوں پر مہاجروں کو کبھی بھی دبایا نہیں گیا اور پنجاب میں سیاست کا میدان سے کیلئے کھلا ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست پی پی پی کیلئے اتنی آسان نہیں ہوگی۔ خاص طور پر ٹینکی گراؤنڈ کے جلسے کے بعد تو ایم کیو ایم کے دھڑے بھی ایک جگہ مل کر جلسہ کر گئے یہ پی پی پی کے چیئرمین کے اسپیچ رائٹر کا ہی کمال تھا۔

اب بھی پی پی مہاجر سندھی عنصر کو قریب لانے میں ناکام ہے۔ اگر کراچی سے پی پی نے سیٹیں نکال لیں جو ممکن ہے تو اسے اچھا سمجھا جائے گا۔ مگر اس کی بنیاد لسانی نہ ہو تو بہتر ہے۔ کراچی میں ہی پی آر سی جیسی شرائط ہیں کہ اگر آپ کے شناختی کارڈ میں مستقل پتہ کراچی کا نہیں تو آپ کیلئے سندھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سوچ پی پی کو بدلنی ہوگی۔ کیونکہ تربیلا ڈیم بننے کے بعد وہاں لوگ اپنے پرکھوں کی قبریں پانی میں چھوڑ کر پورے ملک میں ہجرت کرگئے تھے۔ جس میں کراچی بھی شامل ہے۔ تو ان کا بھی خیال کریں اور باقی لوگوں کو بھی جگہ دیں۔ آخرکراچی منی پاکستان ہے۔

کراچی کی سیاست پہلی مرتبہ لسانی سے وفاقی سیاست کا مرکز بننے جا رہی ہے۔ پاکستان کی دوسب سے بڑی وفاقی پارٹیوں کے کراچی میں فعال ہونے سے کراچی کے عوام کے سامنے بہترین چوائس سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔ اس مرتبہ کراچی کے ووٹروں کو وفاقی پارٹیوں کوووٹ دے کر موقع دینا ہوگا تا کہ کراچی پاکستان کی سیاست کے مرکزی دھارے کا حصہ بن سکے۔ کیا آپ لسانیت اور صوبائیت کی دلدل میں ہی دھنسنا چاہتے ہیں یا کراچی کو پاکستان کے پہلے دارلحکومت بننے کے وقت جیسا وفاقی سوچ کا حامل بنانا چاہتے ہیں۔ اس مرتبہ بحیثیت ووٹرسوچئے گا ضرور۔

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.