چاند رات اور لوٹ سیل میلہ

1,018

چاند رات لڑکیوں کے لئے باعث کشش ہو نہ ہو نوجوان لڑکے اس کے بڑے دلدادہ ہیں۔ ادھر انتیسواں روزہ ختم ہوا اور ادھر چاند رات شروع۔ شہر بھر کے آوارہ اوباش نوجوان ایسے شہر کا رخ کرتے ہیں جیسے گیدڑ۔ وہ بلاوجہ شہر کی گلیوں کی پیمائش کرتے ہیں اور کچھ تو ان میں عیدی بنانے کے چکر میں ایک آدھ پرس بھی چھین لیتے ہیں۔ یہی چاند رات دکانداروں کے لئے چاند نہیں چاندی ہوتی ہے۔ اگر کسی دکاندار کے ہاں فوتگی بھی ہو جائے تو وہ چاند رات کو لوٹ سیل کی وجہ سے اس کا اعلان صبح تک نہیں کرتے۔

یہ سیل بھی عجیب ہے۔ اس کی تاریخ اور جغرایفیہ بڑا متغیر ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی میلے لگتے ہیں ان میں سب سے زیادہ جس میلے میں خواتین دلچسپی لیتی ہیں اور بھرپور انداز میں شرکت فرماتی ہیں وہ ہے سیل میلہ۔ ایک وقت تھا کہ کئی سالوں میں ایک آدھ بار سیل لگتی تھی۔ کوئی کاروبار بند کرنے لگتا یا دکان تبدیل کرنے لگتا تو اپنا سٹاک ختم کرنے کے لئے دو چار دن کے لئے سیل لگا دیتا کہ مول ہی پورا ہو جائے۔ اور اس میں اسے فائدہ بھی ہو جاتا تھا کہ نیا کاروبار کرنا ہوتا یا دکان بند کرنا ہوتی تو اس کا لگا سرمایہ اسے واپس مل جاتا۔

اس کے بعد اسی کی دہائی میں سال میں ایک مرتبہ سیل لگتی تھی۔ ریڈیو پر ایک دکان کی مشہوری ہوتی تھی جس میں وہ یہ اعلان کرتے تھے کہ ‘یارہ مہینے ساڈے تے اک مہینہ تہاڈا’ یعنی گیارہ مہینے ہمارے اور ایک مہینہ آپ کا۔ اس مہینے میں وہ اپنا پرانا سٹاک ختم کرتے تھے کیونکہ وہ کافی نفع کما چکے ہوتے تھے اور نیا سامان لانے سے پہلے وہ پرانا مال اونے پونے بھائو بیچنا چاہتے تھے۔

اس کے بعد نوے کی دہائی میں سال میں دو مرتبہ سیل لگنا شروع ہو گئی۔ گرمی اور سردی کی سیل۔ دکاندار سردی کے آغاز میں گرمیوں کے سامان کو بیچ دینے کی کوشش کرنے لگے اور گرمی کے آغاز میں سردیوں کے کپڑے جوتے بیچنے کی کوشش کرنے لگے۔ نیا میلینئم شروع ہوا، نئی صدی کا غاز ہوا تو یہ سیل ‘سیل میلوں’ میں تبدیل ہو گئی۔ کیا گرمی اور کیا سردی اب ہر وقت ہی سیل لگی رہتی ہے۔

موجودہ زمانے کی سیل کسی ایک چیز پر یا کسی ایک موسم کی اشیاء پر نہیں بلکہ ہر چیز پر ہوتی ہے، یہاں تک کہ انسان بھی اس سیل میلہ میں بکنے لگے ہیں۔ پہلے تو صرف اداکاروں کی قیمت ہوا کرتی تھی اب ہر کسی کی ایک قیمت ہے۔ مول تول کے بعد ہر چیز بک جاتی ہے۔

موجودہ دورانیہ تو صرف سیل کا نہیں بلکہ سیل میلہ کا ہے۔ جوتوں کا سیل میلہ، کپڑوں کا سیل میلہ، اگر الیکشن ہو تو لوٹوں کا سیل میلہ۔ ہر طرف سیل میلہ کا توتی بولتا ہے اور بلوانے والے دیواروں کو بھی بلوا رہے ہیں۔

ان سیل میلوں میں چیزوں کی قیمت میں کمی کے سوا ہر چیز کی سیل ہوتی ہے۔ خریدار کو سیل کے نام پر دھوکا دیا جا رہا ہے اور بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ دکان دار کو جو تکلیف کرنا پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے دو پرچیاں بنانی پڑتی ہیں۔ ایک پرانی قیمت کی اور ایک نئی قیمت کی۔ ہم نے کئی مرتبہ سیل سے دھوکا کھایا اور آخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان سیل والوں کی تبدیلی بھی ایک سیاسی جماعت کی تبدیلی جیسی ہی ہے۔ باتوں سے دنیا کو جنت اور مخالف کی جنت کو دوزخ ثابت کر دو۔ یہی سیل میلہ لوٹنے کا ایک طریقہ ہے۔ خود ہی دو پرچیاں بنوائو ایک پرانی پارٹی کی قیمت کی اور ایک نئی پارٹی کی قیمت کی۔ اگر خریدار اناڑی ہو تو پرانی پرچی بھی چل سکتی ہے جیسا کہ تبدیلی والے ہیں اور اگر خریدار کھلاڑی ہو جیسے زرداری تو وہ اپنی مرضی کی قیمت لے اور دے گا۔ اسے پتہ ہے کہ یہ دونوں قیمتیں دکان دار نے خود ہی لگائی ہیں۔

عام زندگی میں پہلے خواتین اس سیل کا شکار ہوئیں اور مردوں کو بچت کے بہانے بازار لے جا کر لٹوا دیا۔ جہاں ایک چیز خریدنی ہوتی وہاں سیل کی آڑ میں دو تین لے لیں اور گھر آ کر خاوند سے تعریف بھی کروالی کہ دیکھا میں نے لکھی ہوئی قیمت سے بھی کم پر یہ خریدا ہے۔ پھر مرد بھی اس سیل کے دیوانے ہوئے اور عقل مند بننے کے چکر میں کئی مرتبہ سیل میلہ میں بک کر آ گئے۔

اب ہر کسی کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ سیل میلہ خریدار کی سیل کے لئے ہے۔ لوٹ سیل کا مطلب خریدار کو کسی نہ کسی طریقے سے لوٹنا ہے۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.