پاکستان اور بچوں کے دل کے پیدائشی امراض

779

بچوں میں دل کے پیدائشی نقائص کا علاج نہ صرف پیچیدہ اور گراں ہے بلکہ اِس کی سہولت صرف محدود اور مخصوص ہسپتالوں میں ہی دستیاب ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ کثیر جہت ہُنر مند ڈاکٹروں کی ٹیم کی موجودگی اور ہم آہنگی سے کام کرنے کی صلاحیت اور ضرورت ہے۔

بچوں کا کارڈیالوجسٹ سب سے پہلے ایسے بچوں کی تشخیص کرتا ہے اور اُن کو ماہرِ جراحی دل برائے اطفال کے پاس بھیجتا ہے۔ پھر اِن دو ڈاکٹروں کی مُشترکہ سوچ بچار سے جراحی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

جراحی کے عمل میں جہاں سرجن کا نشتر اور سلائی کا عمل اہم ہے وہیں پر بے ہوشی کا عمل، مصنوعی تنفس، بائی پاس مشین کا عملہ اور کارڈیالوجسٹ کا ایکو کارڈیوگرافی کے ذریعے جراحی کےعمل کی کاملیت کی تصدیق بھی نہایت اہم اور ضروری ہیں۔ باالفاظِ دیگر بہت سے ماہرین مل کر اس عارضے کا علاج کرتے ہیں اور ٹیم کے ہر رُکن کا کرِدار اہم ہے۔

آپریشن کے بعد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ماہر ڈاکٹروں، نرسوں، اور دیگرعملہ کی نگرانی میں صحتیابی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے کی حیثیت اس سارے عمل میں شہ رگ کی ہے۔ کیونکہ سرجری کے فوراً بعد ابتدائی 24 سے 48 گھنٹے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اور ایک ماہر اور تجربہ کار ٹیم ہی بچوں کو بہترین نگہداشت مہیا کر سکتی ہے۔

تشخیص سے انتہائی نگہداشت اور مکمل صحتیابی کے بعد گھر روانگی تک کسی ایک شعبہ کے ماہر کی عدم دستیابی کی صورت میں پیدا ہونے والا خلاء کوئی اور رُکن یا ماہر پُر نہیں کر سکتا اور علاج کی تکمیل میں رہ جانے والی تِشنگی بعض اوقات جان لیواء ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں بچوں کے دِل کے عوارض کے لیے سہولیات بہت محدود ہیں اور پورے مُلک میں یہ سہولت صرف چھ یا سات ہسپتالوں میں دستیاب ہے۔ لیکن تمام ضروری شعبہ جات کے ڈاکٹر اور دیگر ماہرین ہر جگہ موجود نہیں ہیں۔

بچوں کے دل کے سرجنز کی تعداد کو ایک ہاتھ کی اُنگلیوں پر آسانی سے گِنا جا سکتا اور یہی حال باقی تمام ماہرین کا ہے۔ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے ماہر ڈاکٹر، نرسیں اور دیگرعملہ تو شاید کسی بھی جگہ مُکمل موجود نہیں- اور آپریشن کے بعد کیئر نہ ہونے کے باعث شرع اموات بہت زیادہ ہے-

صوبہ پنجاب میں غالباً صرف ایک ڈاکٹر صاحب بچوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں صیح معنوں میں تربیت یافتہ ہیں۔ اِس ایک مِثال سے باقی مُلک کی حالت اور حالات کا بخوبی ادراک ہو سکتا ہے۔

مارچ 2018 کے آخر میں اِس شعبہ کے ثِقّہ ماہرین پرمُشتمل ایک ٹیم نے جس میں یورپ اور امریکہ کے تربیت یافتہ ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر ماہرین شامل تھے اس ضمن میں کام اور ہُنر مندی کی ترسیل کے لیے لاہور اور فیصل آباد کے ہسپتالوں کا دورہ کیا۔ اس ٹیم کی آمد میں کلیدی کردار پاکستان چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن کا ہے- جس کے عہدیداران نے طویل منصوبہ بندی، اور مقامی ہسپتالوں کی انتظامیہ سے گُفت و شنید کے بعد غیر مُلکی ماہرین کو مدعو کیا۔ یہ ماہرین دو روز لاہور اور تین روز فیصل آباد میں مُقیم رہے۔ اس قیام کے دوران لاہور میں سولہ اور فیصل آباد میں تیئس مریضوں کے مختلف نوعیت کے پیچیدہ دل کے عوارض کے کامیاب آپریشن کیے گئے اور مقامی ماہرین کو سیکھنے کا موقعہ ملا۔

یوں تو لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں شاید اس شعبہ کے سب سے زیادہ ماہرین موجود ہیں- ڈاکٹر عاصم خان اور ڈاکٹر سلمان احمد شاہ اس شعبے کے انتہائی تربیت یافتہ اور ماہر سرجن ہیں- لیکن پھر بھی یہاں پر موجود ٹیم کسی بھی صورت میں مُکمل نہیں۔ جس میں خاص طور پر کمی آپریشن کے بعد کے مرحلے کے لیے نگہداشت کے ماہرین اور تربیت یافتہ عملہ کی کمی اور فقدان ہے۔ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے صرف ایک ڈاکٹر صاحب جُز وقتی طور پر آتے ہیں جو کہ کسی بھی لحاظ سے کافی نہیں ہے۔ حقیقت میں تو ضرورت کم از کم دس سے بارہ ڈاکٹروں کی ہے جو ہمہ وقت موجود رہ کر بچوں کو مُسلسل نگہداشت فراہم کریں لیکن ہسپتال اور محکمہ صحت کی جانب سے اس کمی کو پُورا کرنے کے لیے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ وہ یا تو اس کی اہمیت سے بے خبر ہیں یا شُتّر مُرغ کی تقلید میں ریت میں سر دبائے اس طوفان کے ختم ہونے کے منتظر ہیں جو پندرہ ہزار سے زیادہ جراحی کے منتظر بچوں کی صورت میں دن بدن شدت پذیر ہے۔

گھنٹہ گھر اور آٹھ بازاروں کے شہر لائلپورمیں یہ شعبہ فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں قائم ہے- یہاں سہولیات کا فقدان اور بحران اور بھی شدید اور گہرا ہے۔ یہاں نہ صرف انتہائی نگہداشت کے ڈاکٹروں کی عدم دستیابی ہے بلکہ ایک بچوں کا ہسپتال نہ ہونے کے باعث بے ہوشی، نرسنگ، اور تمام دیگر شعبہ جات جو بچوں کی نگہداشت کے لیے بُنیادی ضرورت ہیں اُن کا نام ونِشان بھی نہیں ملتا۔ یہاں بھی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی بے حِسی عیاں ہے۔ اور کوئی بھی ایسا قدم اُٹھتا نظر نہیں آتا جو اصلاح کی جانب سفر کی شروعات کی نشاندہی کرتا ہو۔ محکمہ صحت غالباً ایک سرجن اور ایک کارڈیالوجسٹ کی تعیناتی کو ہی کافی سمجھتا ہے جو کہ محکمے کی اس معاملے سے مکمل بے خبری کا غماز ہے۔ اس ہسپتال میں عملہ کی کمی کے ساتھ ساتھ ضروری ساز و سامان اور ضروری آلات بھی عنقا ہیں۔ یہاں میں ایک بہت چھوٹی سی مثال دونگا کہ آپریشن روم میں بچوں کے بلڈ پریشر کو ماپنے کے آلات تک نہیں ہیں لیکن محکمہ صحت اور ہسپتال کی انتظامیہ مُصر ہیں کہ یہ “یہ ہسپتال جدید مشینوں سے آراستہ ہے”- اب خُدا جانے وہ ضُعفِ بصارت کے مریض ہیں یا چشمِ بینا سے محروم-

بلڈ بنک کی سہولت ایک ہسپتال کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور ایک ایسا ہسپتال جہاں بچوں کے دل کی جراحی کے شعبے کا قیام مقصود ہو وہاں جدید سہولتوں سے آراستہ بلڈ بنک جو خون کے تمام اجزاء فراہم کر سکتا ہو ناگزیر ہے۔ اور جدید بلڈ بنک کے بغیر بچوں کی دِل کی جراحی کے شعبے کے قیام کا تصوُر بھی محال ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں نجی شعبے میں ایسے جدید بلڈ بنک فعال ہیں۔ جبکہ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ایسی کوئی مِثال موجود نہیں۔ نجی شعبے کی کامیابی اِس بات کی دلیل ہے کہ ایسا بلڈ بنک قائم کرنا اورمسلسل چلانا پاکستان میں عین ممکن ہے۔ لیکن اس کے لیے جس خلوصِ نیت، منصوبہ بندی، پیشہ ورانہ مہارت، ایماندارعملہ اور قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہ شاید سرکاری شُعبہ میں ناپید ہے۔ جب تک حکومت، محکمہ صحت، اور ہسپتالوں کی انتظامیہ اس کو اہم سمجھ کر اس پر کام نہیں کرتی بچوں کے دِل کی جراحی کے مریض زیادہ خون بہہ جانے سے روزانہ جان کی بازی ہارتے رہیں گے۔

پاکِستان میں صحت کے شعبہ میں سرکاری ہسپتالوں کی زبوں حالی ایک مُسّلم حقیقت ہے۔ لیکن بچوں کے لیے صحت کی سہولیات اور خصوصاً دل کے پیدائشی عوارض کے علاج معالجہ کی سہولیات تقریباً ناپید ہیں اور دور دور تک اِصلاحِ احوال کے کوئی آثار نہیں ہیں- امریکہ اور دوسرے ممالک میں اس ضمن میں سرکاری اور عوامی شعبے کا اشتراک نظر آتا ہے جو پاکستان میں اب ابتدائی مراحل میں ہے اور اگلی دہائی میں بہتری کے آثار متوقع ہیں۔ پاکستان چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن نے اس ضمن میں عوامی آگاہی کا بہت سا کام کیا ہے۔ اور اگلے مرحلے میں جدید سہولیات سے آراستہ بچوں کے دِل کے ہسپتال کی تعمیر کا عزمِ صمیم لیے ہوئے دِن رات کوشاں ہے۔ اُمیدِ واثق ہے کہ عوامی شعور بیدار ہونے سے مزید رفاحِ عامہ کی تنظیمیں اِس طرف توجہ دیں گی اور پاکستان چلڈرن ہارٹ فاؤنڈیشن کا ہاتھ بٹائیں گی۔ اور مستقبل میں دِل کے پیدائشی عارضے میں مُبتلا بچوں کو علاج کی سہولیات بر وقت اور دور دراز کے سفر کے بغیر میسر ہو سکیں گی۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذِکر ہے کہ سرکاری شعبے میں ہسپتالوں کی انتظامیہ کا روّیہ “ڈنگ ٹپاؤ” ذہنیت کا عکاس ہے اور کہیں بھی صاحبِ بصیرت قیادت نظر نہیں آتی اسی لیے شاید ابھی تک وہاں لفظ “انتظامیہ” رائج ہے۔ جس کا واحد کام ہسپتال میں علاج معالجہ کی غرض سے آنے والوں کو موجود سہولیات میں سے ”کُچھ دے دے”۔ خُدا کرے کہ وہاں بھی ایسی قیادت سامنے آئے جو آنے والے کل کی منصوبہ بندی کرسکے اور خدمت کے جذبے سے مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے دِن رات کام کرسکے۔

مُصنف ایک پیڈیاٹرک انستھیزیالوجسٹ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.