جہاں آرا بیگم ناراض ہیں 

1,590

جہاں آرا بیگم نے چنٹ دار فرشی غرارے کو سمیٹتے ہوئے قریب کھڑی مہرالنساء کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔

ارے دلہن! مجھے کہاں لے آئی ہو؟ یہاں تو جو موا آ رہا ہے، ایک دوسرے کو ہاتھوں سے عجیب اشارے کر کے  ہائے ہائے کر رہا ہے۔ ذرا پوچھو تو سہی انہیں کہاں کہاں درد ہے اور اس درد کی دوا کیا ہے؟

مہرالنسا نے بڑی اماں کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے کہا۔۔

بڑی اماں! یہ ایک دوسرے کو سلام کر کے حال چال پوچھ رہے ہیں۔

ہائے ہائے یہ کیسا انوکھا سلام ہے۔

ہمارے زمانے میں تو بڑے بزرگوں کے سامنے ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں جوڑ کر سلیقے سے ماتھے تک لے جانے کے بعد سر کو ذرا خم دے کر آداب کہا جاتا تھا۔ آگے سے جواب ملتا۔۔۔ تسلیم ۔۔

پر یہ کیسا سلام ہے ہائے، ہائے کی آوازیں آ رہی ہیں۔

ارے چھوڑو ان ناہنجاروں کو۔ چلو اب بتاؤ بیٹھنا کہاں ہے؟ بڑی اماں نے پوچھا۔

مہر النساء نے آگے بڑھ کر بڑے چاؤ سے بڑی اماں کا ہاتھ تھاما اور ایک کونے میں پڑے ہوئے بید کے کائوچ کی طرف اشارہ کیا۔

سرخ و سپید رنگ، تیکھے نقوش، سیاہ آنکھیں، کشادہ پیشانی، سیلقے سے بنے سنورے بال،
کانوں میں زمرد لگے جھمکے، بانہوں میں جڑاؤ کنگن، سرخ اور سفید موتیوں سے مرصع جسم سے لگا نفیس گلو بند بڑی اماں کے حس جمالیات کے گن گا رہا تھا۔

بڑی اماں نے اپنے غرارے کے پھیلاؤ کو بڑے قرینے سے درست کیا اور قریب رکھے ایک کائوچ پر بڑی شان بے نیازی سے براجمان ہو گئیں۔

بڑی اماں کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات کو بھانپتے ہوئے مہر النساء نے کہا، بڑی اماں یہاں بوفے ہے، کھڑے ہو کر کھانا پڑے گا۔

کیا کہا؟ بڑی اماں نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا، یہ کہاں کا سلیقہ ہے؟

ہمارے زمانے میں خادمائیں چاندی کی چمکتی دمکتی سلفچیاں اٹھائے آتیں، قیمتی ایرانی غالیچوں پر بچھی سفید براق چاندنیوں پر گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے بیگمات کے ہاتھ دھلواتیں، پھر دستر خوان لگتا، انواع اقسام کے کھانے چنے جاتے۔ ہر طرف سے یہ لیجئے، یہ لیجئے کی آوازیں آتیں۔

بڑی اماں نے مہرالنساء کے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا،

مہر النساء جلد کرو۔ یہاں تو عجب یک طرف تماشہ ہے۔ ہاتھوں میں مسلے جانےوالے، چھوٹے چھوٹے کاغذ بھلا یہ کون سی تہذیب ہے۔

بڑی اماں اسے زمانہ جدید کہتے ہیں۔

بڑی اماں نے کہا۔ ہائے ہائے تف ہے زمانے کی اس جدت پر۔ اپنی تہذیب کا ہی جنازہ نکال دیا۔

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. سلمان حنیف کہتے ہیں

    وہ دور لوگ ایک دوجے کی قدر کرتے عزت و احترام سے پیش آتے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے انسانیت قائم تھی عزت و ناموس تھی
    اب کہ خود غرضی کا دور ہے نفسا نفسی ہے اپنی غرض مقدم ہے طمع کے مقابل عزت ہے غرض نکلی تو بھول گئے اب تو اللہ ہی حافظ ہے

  2. سلمان حنیف کہتے ہیں

    وہ دور لوگ ایک دوجے کی قدر کرتے عزت و احترام سے پیش آتے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے انسانیت قائم تھی عزت و ناموس تھی
    اب کہ خود غرضی کا دور ہے نفسا نفسی ہے اپنی غرض مقدم ہے طمع کے مقابل عزت ہے غرض نکلی تو بھول گئے اب تو اللہ ہی حافظ ہے

تبصرے بند ہیں.