ایک زینب کا قتل ہوا تھا، یاد ہے؟

2,357

یہ بات قابل فخر سمجھنی چاہئیے یا اس معاملے کی سنگین نوعیت پر ضمیر کو جنجھوڑتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہوجانا چاہئیے۔ بحث کے لئے یہ نقطہ بھی غور کے قابل ہے مگر حقیقت سے بھرپور یہ بات ہم جیسے انسانوں کو حیرت میں جھونکنے کے لیے کافی ہے کہ کسی ظلم پر اٹھنے والی ہماری آوازیں اور جذبات صرف کچھ مدت کے لئے ہی ہوتے ہیں۔

اس قلیل اور مختصر سے بھی کم مدت میں وقوع پذیر ہونے والے اس ظلم پر ایسے آواز اٹھاتے ہیں کہ یوں گمان ہونے لگتا ہے کہ بس بہت ہوگیا۔ اب یہ لوگ اس ملک میں ہونے والی کسی بھی خرابی کو برادشت نہیں کریں گے مگر اس مخصوص مدت کے گزر جانے کے بعد یہ لوگ اس قدر بے خبر و بے حس ہوجاتے ہیں کہ جیسے وہ بربریت اور ظلم کبھی رونما ہی نہیں ہوا تھا۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ابھی چند ماہ قبل ہی ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا کہ جس نے ہر دل رکھنے والے شخص کو آبدیدہ کردیا تھا۔ انٹرنیشنل میڈیا میں اسپیشل رپورٹس بنائی جا رہی تھی اور ہمارے آزاد و بے لوث میڈیا پر کوئی اپنے بچے کی انگلی تھامے ٹی وی سکرین پر نوحہ کناں تھا تو کوئی اس بربریت کے ذمہ دار مجرم کو ڈھونڈتے ہوئے لائیو ٹرانسمیشن کر رہا تھا۔ ٹویٹر و فیس بک و دیگر سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز نوحہ گاہ میں بدل چکے تھے۔

کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پڑی ایک معصوم بچی کی پامال لاش کا ماتم پورے ملک میں دھوم دھام سے منایا جا رہا تھا۔ ہمارے فنکار و اداکار حضرات تو دو قدم آگے نکل کر خود پر ہونے والے ہراسگی کی واقعات بھی منظر عام پر لاتے ہوئے مصائب کی شدت کو مزید بڑھاوا دینے کی کوشش میں مگن تھے۔

زینب زیادتی کیس کو کوئی کربلا سے تشبیہ دے رہا تھا تو کوئی اسے روئے زمین پر رونما ہونے والے ظلم بھرے واقعات میں سب سے بڑا واقعہ قرار دے رہا تھا۔

اس زینب کا کیا حال ہوا؟ زینب کے والد کے موجودہ احوال جان کر اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چند روز قبل ایک عزیز کی وساطت سے اس بزرگ کی حالت جان کر آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے۔

زینب کے والد کے لبوں پر شکوہ کرتے ہوئے دل کو موم کردینے والے الفاظ موجود رہتے ہیں کہ زینب کو انصاف کب ملے گا؟ وہ بزرگ شخص اس حیرانگی میں بھی مبتلا ہے کہ وہ میڈیا جس کی سرخیوں میں اس کی بیٹی کی پامالی کی داستان سرفہرست تھی، کہا ں ہے؟ وہ افسران کہاں ہیں جنہوں نے قاتل عمران کو پکڑنے کے بعد جشن نما پریس کانفرنس بلائی تھی اور اپنی جیت کا واویلا کیا تھا۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو ٹی وی سکرین پر اس کی بیٹی پر ہونے والے ظلم پر آنسو بہاتے نہیں تھکتے تھے۔ اس ملک کے بابا جی کہاں ہیں جنہوں نے نوٹس پر نوٹس لیے تھے۔ زینب کے والد کا ایک ہی سوال ہے اور وہ سوال ہمارے عدالتی نظام کو ننگا کرنے کے لئے کافی ہے۔ سوال سادہ ہے۔ ایک مجرم جس نے اقبال جرم کرلیا جس کے خلاف کھلے ثبوت مل چکے جس کے خلاف گواہ بھی مل چکے پھر ایسا کونسا قانون ہے جو اس مجرم کو سزا سے بچائے ہوئے ہے؟

اس کیس کے بعد زینب کے والد کو بھی قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور اب چند ہی روز قبل حکام بالا نے ان کی سیکیورٹی سے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔

اس کیس کے بعد زینب کے گھر والوں کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ زینب کے والد عدالتوں میں بغیر کسی معقول قانونی وجہ کے تاریخیں بھگت رہے ہیں اور زینب کے گھر والے اپنے شہر میں ‘نامور’ ہو چکے ہیں۔

زینب قتل کیس سمیت کئی ایسے ہزاروں کیسز ہیں جو اسی طرح کی مجرمانہ خاموشی اور بے خبری کی وجہ سے اپنی موت مر چکے ہیں۔

مردان کی اسماء، کنگا رام ہسپتال پر زیادتی کے بعد پھینکی جانے والی بچی کا کیس، طیبہ تشدد کیس وغیرہ جیسے واقعات بھی یاد بن کے سوچ کے قبرستان میں دفن ہوچکے۔

لاتعداد وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے جذبات، احساسات خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی یا کسی بھی موضوع سے متعلق ہوں۔ میڈیا میں ٹرینڈنگ ایشو کے مطابق جنم لیتے ہیں یا وہ ایشو جسے میڈیا ٹرینڈ بنا دیتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میڈیا اگر چاہے تو برطانیہ میں ہونے والی برطانوی شہزادے کی شادی کو بھی اس قدر بڑھاوا دیتا ہے کہ یہ شادی ہم عام شہریوں کی بھی گفتگو کا حصہ بن جاتی ہے جن کا اس سے کوئی تعلق واسطہ ہوتا ہی نہیں۔ قابل غور نقطہ یہ ٹھہرا کہ میڈیا ایشوز کو عوام کے سامنے لانے میں کردار ادا کرتا ہے مگر تصویر کے حقیقی رخ پر یہ کردار تب تلک ہی کارگر رہتا ہے جب تلک اس میں فائدے کا عنصر موجود رہتا ہے۔ فائدہ تو اس قدر ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے کہ کوئی ایسی خبر منظر عام پر ہی نہیں آنے دی جاتی جس میں ’بحریہ‘ لفظ موجود ہو یا ایسی خبر جس میں بڑے بوٹ والوں کی ناراضگی شامل ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زینب قتل کیس اس قدر وائرل ہوا کہ اس نے کئی میڈیا ہاؤسز میں ریٹنگز کا مقابلہ شروع کر دیا تھا۔ کوئی زینب کے والد والدہ کو عمرے کی ادائیگی کے بعد سب سے پہلے سکرین پر دکھانے میں کامیابی جتاتا پایا گیا تو کوئی میڈیا ہاؤس زینب کے قاتل عمران کے دادا کا خصوصی انٹرویو نشر کرکے ریٹنگ اٹھاتا رہا۔

کہیں نہ کہیں اس امر کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے کہ اس وائرل اور ریٹنگ کے کھیل سے باہر نکل کر مفت کے جذباتی بننے سے اجتناب کیا جائے۔ اپنے جذبات، اپنی آواز کو کسی ٹرینڈنگ یا میڈیا ہائپ کی بیساکھیوں کے سہاروں آزاد کیا جائے ورنہ خاموش رہنا بہتر ہے جیسے کہ اب خاموش ہیں۔

نبیل عباس پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالب علم ہیں۔ یہ دنیا نیوز سے منسلک ہیں۔ دلچسپ موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.