‘ویرے دی ویڈنگ’ کتنی فحش ہے؟

3,279

بھارتی فلم ویرے دی ویڈنگ کا ٹریلر دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ فلم ایک بولڈ مگر نہائیت اہم موضوع پر جدید دور کی خودمختار عورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ نمائش کی تاریخ قریب آئی تو سنٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کو پاکستان میں عام نمائش کی اجازت نہ دی جس پر عوام نے بہت تنقید کی مگر فلم پر پابندی ویسے ہی قائم رہی۔ سنسر بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ فلم کے کچھ مناظر اور مکالمے نامناسب ہیں اور پاکستانی ثقافت سے میل نہیں کھاتے۔

یہ بیان اخبار میں پڑھتے ہی میرے کانوں میں پاکستانی فلموں کے مختلف ایسے مکالمے گونجنے لگے جنہوں نے پاکستانی تہذیب و ثقافت کا جنازہ نکالنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ حالیہ ریلیز ہوئی دو فلموں میں تو انگلیوں کے ایسے اشارے بھی دیکھنے کو ملے جن کی وضاحت اس بلاگ میں ناممکن ہے۔ کسی فلم میں ہیرو کو ‘گندی فلموں کا ہیرو’ یاد آ رہا ہوتا ہے تو کسی میں ہیروئین کراچی سے لاہور آتے ہوئے سڑک کنارے لگے ایک میلے میں ناچتی ہوئی نظر آتی ہے۔

انسانی نفسیات ہے کہ جس چیز سے منع کیا جائے اسی کی طرف لپکتا ہے۔ فلم کے پاکستان میں بین ہونے کی خبر سننے کے بعد فلم دیکھنے کا اشتیاق اور بڑھ گیا اور دو روز قبل میں نے کسی طرح یہ فلم دیکھ ہی لی۔

Veere-di-Wedding

veere-dui-wedding-trailer-759

یہ فلم ٹریلر میں جتنی شاندار لگ رہی تھی، اصل میں اتنی شاندار نہیں ہے۔ کہانی میں خاصے جھول ہیں جو آپ کو فلم کے دوران کسی حد تک بور کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی فلم پوری دیکھے بغیر آپ سکرین کے سامنے سے ہٹ بھی نہیں پائیں گے۔ کئی جگہ ایسے بھی لگتا ہے کہ کہانی کو جلد از جلد لپیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے باوجود یہ فلم ایک بار دیکھنا بنتی ہے۔

اس فلم میں کرینہ کپور اور سونم کپور نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ ویرے دی ویڈنگ کی کہانی دہلی سے تعلق رکھنے والی چار سہیلیوں کی ہے جو ایک سہیلی کی شادی کے لیے سالوں بعد اکٹھی ہوئی ہیں۔ سونم کپور اس فلم میں ایک ایسے وکیل کا کردار ادا کر رہی ہیں جو صرف طلاق کے کیسز لیتی ہے۔ ان پر اپنی والدہ کی جانب سے شادی کا دبائو ہے جس کے باعث یہ ہر وقت اپنی شادی کے لیے پریشان رہتی ہیں۔

maxresdefault

کرینہ کپور اپنے بوائے فرینڈ کو شادی کے لیے ہاں کہنے کے بعد آسٹریلیا سے انڈیا شادی کے لیے آتی ہیں جہاں ان کا واسطہ ایک ایسی سسرال سے پڑتا ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لیے شادی پر پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہوتی ہے۔

Top-9-Dialogues-from-Veerey-Di-Wedding-which-echo-every-single-girl’s-worst-nightmare-…-MARRIAGE-7-1

سوایرا بھاسکر اپنے شوہر سے طلاق لینے کے بعد واپس انڈیا اپنے والدین کے پاس آگئی ہیں مگر طلاق کی خبر ابھی تک انہوں نے اپنے والدین کو نہیں سنائی۔ ان کے اپنے والدین کے گھر لمبے قیام پر آس پڑوس کی ‘گوسپ آنٹیاں’ اکثر بات چیت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

Swara_1

شیکھا تالسانیہ نے اپنی پسند سے ایک انگریز سے شادی کی ہے جس پر ان کے والدین ان سے ناراض ہیں۔

charam

کم و بیش کچھ ایسے ہی مسائل ہمارے ہاں کی عورتوں کے بھی ہیں۔ پسند کی شادی کرنے پر لڑکی کا قتل عام بات ہے۔ جو بغاوت کرتے ہوئے اپنے محبوب کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لیتی ہیں وہ عدالت کے احاطے میں خاندان والوں کے ہاتھوں پٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ایک تابعدار بیوی اور بہو کے طور پر پروان چڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ اگلے گھر قربانی کی دیوی بن سکیں۔ لڑکے والوں کے سامنے ہم اپنی بیٹی کو ایک چیز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔۔ ‘جی میری بیٹی چالیس روٹیاں پندرہ منٹ میں بنا لیتی ہے، کپڑے چٹکیوں میں دھوتی ہے، رنگ بھی دودھ سا ہے، بال دو میٹر لمبے ہیں، ڈاکٹری کی ڈگری بھی ہے اور لاکھوں کا جہیز بھی ہم دیں گے، اسے خرید لو۔’ شادیوں پر اپنی مرضی سے بے تحاشہ پیسہ بھی ہم ہی خرچ کرتے ہیں اور پھر بیٹیوں کو ان کے بھاری بوجھ کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ جب اپنی بیٹیوں سے فراغت ملے تو آس پڑوس اور خاندان کی لڑکیوں کے بارے میں منہ بھر بھر کر باتیں بھی کر لیتے ہیں اور بعد میں ‘سانوں کی’ کہہ کر بریانی میں موجود بوٹی اپنے دانتوں سے بھنبھوڑنے لگتے ہیں۔

اس فلم میں یہی سب ایک نئے انداز سے دکھایا گیا ہے۔ اس فلم کو متنازعہ اس کے مکالمے بناتے ہیں جو خاصے بولڈ ہیں۔ کچھ مناظر بھی ایسے ہیں جن پر قینچی چلائی جا سکتی تھی مگر نطریں ہٹیں تو قینچی چلے نا۔

Veere-Di-Wedding-Laaj-Sharam-song

جہاں تک فلم میں استعمال کی گئی زبان کی بات ہے وہ زبان پاکستان کے لیے نئی نہیں ہے۔ عام طور پر مرد حضرات ایک دوسرے کو نام کی بجائے گالی دے کر مخاطب کرتے ہیں۔ جھگڑا ہو تو بیچ چوراہے ایک دوسرے کی ماں بہن کو غلاظت سے لتھڑے ہوئے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ بڑی عمر کی عورتوں کی بھی کم و بیش ایسی ہی زبان ہوتی ہے لیکن کسی نوجوان خاص طور پر کنواری لڑکی کے منہ سے ایسے الفاظ نکلیں تو خاندان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ویرے دی ویڈینگ دہلی کی چار لڑکیوں کی کہانی ہے۔ دہلی اور ممبئی کی زبان سے سب ہی واقف ہیں۔ فلم بنانے والوں نے ان لڑکیوں کو وہی زبان دی ہے جو دہلی کی عمومی لڑکیاں بولتی ہیں۔ گو اس زبان کو فیمینیسم سے جوڑنا انتہائی احمقانہ ہوگا۔ فیمینسم کے دائرہ کار میں مردوں اور عورتوں کے برابر کے حقوق کے لیے جدوجہد شامل ہے لیکن اس برابری کا مطلب یہ نہیں کہ اگر مرد اخلاقی تنزلی کا شکار ہیں تو خواتین بھی اتنی ہی پستی میں اتریں۔

سنسر بورڈ کو اپنے اصول تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اکیسویں صدی میں کھڑے ہیں جہاں پوری دنیا ایک چھوٹا سا گائوں بن کر رہ گئی ہے۔ انٹرنیٹ نے ممالک اور تہذیبوں کے درمیان موجود فاصلے مٹا دیے ہیں۔ جو عوام نیٹ فلیکس پر گیم آف تھرونز ذوق و شوق سے دیکھتی ہے اور جو نہ دیکھے اسے پینڈو سمجھتی ہے، اس کے لیے ‘ویرے دی ویڈنگ’ محض اس بناء پر بین کرنا کہ یہ فلم ہماری ثقافت سے میل نہیں کھاتی، سمجھ سے بالاتر ہے۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

13 تبصرے

  1. طارق کہتے ہیں

    حقیقت پسندانہ تجزیہ

  2. رضوان کہتے ہیں

    پھر تو سنسر بورڈ ہونا ہی نہیں چاہئے۔ جو چیز بھی انٹرنیٹ پر مل سکتی ہے، سنیمامیں بھی دکھادیں

    1. Tariq کہتے ہیں

      بلکل درست بات کی ٓپ نے۔

  3. Tahir Ali Khan کہتے ہیں

    آزادی اور پابندی کی کہیں نہ کہیں تو حد بندی کرنی ہے۔ ہاں یہ بلاامتیاز اور منصفانہ نظر آئے، یہ ضروری ہے

  4. Awais Ahmad کہتے ہیں

    اس برابری کا مطلب یہ نہیں کہ اگر مرد اخلاقی تنزلی کا شکار ہیں تو خواتین بھی اتنی ہی پستی میں اتریں۔

    This is highly objectionable line.

  5. Farhan Durrani کہتے ہیں

    No brother is such a dirty language which is at least ours, then the family is not spoken in. You are undoubtedly the right thing to say, outside the market.

  6. عدنان احمد کہتے ہیں

    فلم پر پابندی لگنے کے بعد بندہ اور زیادہ غور سے وہ فلم دیکھتا ہے ۔کہ ایسا کیا تھا جو پابندی لگا دی۔ میں ویسے فلمیں نہیں دیکھتا۔ آپ کا پہلے والا بلاگ پڑھ کر دیکھی تھی یہ فلم۔

  7. abdul rauf کہتے ہیں

    very cheap analysis. It means there are no moral values and difference of culture. the analyst belongs to such cheap society. Any ribish avail in market means we have to promote because it is available easily on other medium.. shame for you.

  8. Khan کہتے ہیں

    tehreem sukar hy koi tu aysa person mila ju electronic media se hy albata mera sawal upper di gae fahish film se mutalak tu nahi magar pochay bina raha nahi giya so apki society per bohat nazar hy kuch sawal appk leye media tu sari dunia se sawal pochta hy zara aj media se ho jae

    ye ju larkian news anchor hain aj kal ink dubatay kon lay giya? apni merzi se nahi laity ya media malkaan ka pressure hy ? aur kia news sunaty hun awaz dubaty main phans jati thi ju abb ye faisla kia hy kah dubatay utar kar seena taan kar news parhi jae?
    ye ju larkian anchor hain ye cat walk bhi abb sath sath karti hain news biyaan karty huway isky extra paise miltay hain ya salary main pahly decide hota hy?

  9. Rabia Chaudhary کہتے ہیں

    Ap India ki himayat kiu kartay hain k unki filmain aur dramay daikhnay ki apko itni hajat hai ?? kia ap nahe jantien k media ( electronic or print) has always been used to change the mind-set of general masses in huge number. Agar ap tarrekh ka jaeeza lo tou apko maloom ho ga K Hitler ne NAZI movement ko film making k zirye promote kia aur ic trah k short plays wo awam ko dikhata tha jis mai Yahood (Jews) k khilaf aik maksoos nzreye ko ubhara jata tha… Mazrat k sath arz karun k India Pakistan k baray mai achay khayalat nahe rakhta. wo aik makhsos agenday per kam kar rahay hain aur agar Ic movie ko Pakistan main sensor kia gaya hai tou ic mai maslehat he ho ge. Apni journalism se ap Watn e aziz lo batachayn na k dushman ki sazisho ko kamyab karnay ka zarya!!
    aurr jahan tak baat Pakistan ki filmo mai galat language ka istamal hai, wo ghar ka mamla hai.. ucay ghar k andar he haal kia ja sakta hai.. maagar meri dua hai k tab jab uc fahashi k khatamy k leay ikdamat ho rahay hon tab ap mazhabi intaha pasndi k fatway na lagayn…

  10. Rabia Chaudary کہتے ہیں

    Ap India ki himayat kiu kartay hain k unki filmain aur dramay daikhnay ki apko itni hajat hai ?? kia ap nahe jantien k media ( electronic or print) has always been used to change the mind-set of general masses in huge number. Agar ap tarrekh ka jaeeza lo tou apko maloom ho ga K Hitler ne NAZI movement ko film making k zirye promote kia aur ic trah k short plays wo awam ko dikhata tha jis mai Yahood (Jews) k khilaf aik maksoos nzreye ko ubhara jata tha… Mazrat k sath arz karun k India Pakistan k baray mai achay khayalat nahe rakhta. wo aik makhsos agenday per kam kar rahay hain aur agar Ic movie ko Pakistan main sensor kia gaya hai tou ic mai maslehat he ho ge. Apni journalism se ap Watn e aziz lo batachayn na k dushman ki sazisho ko kamyab karnay ka zarya!!
    aurr jahan tak baat Pakistan ki filmo mai galat language ka istamal hai, wo ghar ka mamla hai.. ucay ghar k andar he haal kia ja sakta hai.. maagar meri dua hai k tab jab uc fahashi k khatamy k leay ikdamat ho rahay hon tab ap mazhabi intaha pasndi k fatway na lagayn…

  11. bilal ahmed کہتے ہیں

    mere khyal se ab to 90% indian films fahashi based hain or no jawan nasal ko bhi gumrah kar rahi hain
    any ways great article sir,

تبصرے بند ہیں.