ایک سے زیادہ حلقوں میں قسمت آزمائی کیوں؟

2,885

اعلان ہوا ہے کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے پانچ حلقوں سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بنوں، راول پنڈی، اسلام آباد، میانوالی، اور لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑ کر وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی تقلید کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے 1970میں چھ حلقوں سے انتخاب لڑا تھا اور پانچ میں جیت گئے تھے۔ صرف ایک حلقہ میں مفتی محمود سے ہار گئے تھے۔ شائد عمران خان یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مقبولیت میں بھٹو سے پیچھے نہیں ہیں۔ خیر یہ تو انتخابات کے نتائج ثابت کریں گے۔

لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر سیاست دان ایک سے زیادہ حلقوں سے کیوں انتخابی قسمت آزمائی کرتے ہیں؟ کیا انہیں یقین نہیں کہ وہ کسی ایک حلقہ سے فتح مند ہو سکیں گے؟

پھر اتنے زیادہ حلقوں کے ووٹروں کو وہ کیسے یہ باور کراسکتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل سے باخبر ہیں اور وہ جیت گئے تو یہ مسائل حل کرا سکیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران امیدوار یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ کسی ایک حلقہ کے ووٹروں کے وفادار ہیں۔ انتخابی مہم امیدواروں کے لئے آج کل اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ حلقہ کے اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں امیدواروں کو اپنے انتخابی اخراجات خود برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں امیدواروں کے اخراجات کی ذمہ دار نہیں ہوتیں۔

سیاسی مبصرین کی رائے میں امیدواروں کو ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہئیے کیوں کہ ایک سے زیادہ حلقوں سے جیتنے کے بعد انہیں صرف ایک نشست اپنے پاس رکھنے کا حق ہوتا ہے اور باقی نشستوں پر انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات لازمی ہوتے ہیں جن پر الیکشن کمیشن کا وقت اور عوام کا بے تحاشہ پیسہ ضائع ہوتا ہے۔

ہندوستان میں انتخابی قانون کے تحت امیدواروں کو دو سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں۔ پنڈت نہرو ہمیشہ الہ آباد کے صرف ایک حلقہ، پھول پور سے انتخاب لڑتے تھے۔ البتہ سونیا گاندھی نے پچھلے عام انتخابات میں بریلی اور کرناٹک کے دو حلقوں سے انتخاب لڑا تھا۔ 2010 میں انتخابی کمیشن نے تجویز پیش کی تھی کہ ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئیے اور امیدواروں کو صرف ایک حلقہ سے انتخاب لڑنے کی پابندی ہونی چاہئیے۔ لیکن سیاست دانوں نے اپنے مفادات کے پیش نظر، الیکشن کمیشن کی یہ تجویز مسترد کردی۔

برطانیہ میں جس کے ویسٹ منسٹر طرز کے پارلیمانی نظام کی عام طور پر تقلید کی جاتی ہے، امیدواروں کو ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں۔ اول تو ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب لڑنے سے امیدوار پر اخراجات کا بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ ایک امیدوارکو اپنے انتخاب پر 600 پونڈ سے زیادہ خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔ ویسے بیشتر اخراجات سیاسی جماعتیں برداشت کرتی ہیں۔ دوم برطانیہ میں ہر امیدوار کا جسے پارٹی ایک حلقہ کے لئے نامزد کرتی ہے، یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کی ایک پھل دار درخت کی طرح نگہداشت کرے اور اس حلقہ کے تمام ووٹروں سے خاندان کے افراد کی طرح روابط برقرار رکھے۔

امیدوار انتخاب جیتے یا ہارے اس کی اس حلقہ انتخاب سے وفاداری تا حیات وابستہ رہتی ہے۔ یہ ایک طرح سے سیاسی نکاح ہوتا ہے۔ ہارنے کے بعد بھی امیدوار اس حلقہ میں اپنی سرجری (حلقہ کے ووٹروں سے ملاقات کا دفتر) برقرار رکھتا ہے اور بلا تفریق حلقے کے تمام ووٹروں کے مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے۔ یہ ہے حقیقی جمہوریت کی اساس۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.