جارحانہ بیانات اور ان کے نتائج

1,315

خواہشات کا کیا ہے، جیسی چاہیں پال لی جائیں۔ عمل ایک مشکل کام ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ رب جلیل کی عطا کردہ اس امانت کا امین ہے بھی یا نہیں۔

نواز شریف احتساب عدالت میں جس طرح عدالتی اور ملکی نظام کا احتساب کرتے ہیں اور پھر ان کے اردگرد شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا ٹولہ جو طرزِ گفتگو اختیار کرتا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتا ہے وہ یقنناً اس ماحول کو دو آتشہ کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے اور یہ عمل ملکی نظام اور اداروں کو رگیدنے کے مترادف ہے۔

وہ وزیرِاعظم جو ایوان میں برس ہا برس نہ جاتا ہو، سینیٹ اس کے دیدار کو ترستی ہو، جس کی اپنی جماعت کے ارکان اس سے ملنے کے لئے سالوں منتظر رہیں، ان حالات میں ” کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔” اب ملک کی سب سے بڑی عدالت سے نا اہلی کا سرٹیفکیٹ لینے کے بعد گمراہ کن پراپیگنڈہ کو فروغ دینے میں نواز شریف پیش پیش ہیں۔ اگرچہ دعویٰ انہیں عدلیہ کے احترام اور قانون کی بالا دستی کا ہے لیکن عمل کچھ اور ہے۔ نواز شریف پر یہ الزام بھی رہا ہے کہ انہوں نے ملکی اداروں کو اپنی خواہشات کا غلام بنائے رکھا۔

ملک کی سب سے اعلیٰ عدلیہ پر حملہ نواز شریف کے دورِ اقتدار میں ہوا۔ اب نواز شریف ادارے مضبوط کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ جب انہیں نا اہل قرار دے کر اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ اقتدار کے پینتیس برس کم نہیں ہوتے۔ ان طویل سالوں میں اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا۔ ۔ یہ کہنا بھی کسی نعرہ مستانہ سے کم نہیں کہ کسی جج میں جرات ہے کہ وہ ملک اور آئین توڑنے والے ڈکٹیٹروں کو سزا دے۔ مجھے یاد ہے زرا زرا کہ مصداق۔ آپ نے خود مارشلائی دور میں آنکھ کھولی اور خاکیوں کی گود میں پرورش پائی اور پھر جن خاکیوں نے آپ کو اس منصب جلیلہ تک پہنچایا، ان ہی کے لئے آپ کے ایک چہیتے وزیر نے پارلیمنٹ میں جو غیر مناسب وتیرہ اختیار کیا اس اقدام سے اس وزیر باتدبیر نے آپ سے تو داد وصول کر لی لیکن آپ کے سامنے ایک کھائی پیدا کر دی جسے عبور کرنا آپ کے بس میں آج تک نہ رہا۔

دنیا کے ہر ملک میں حکومتیں اپنے اداروں کا احترام کرتی ہیں اور اس احترام کی پاسداری کے لئے ہر کوئی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کے دائرے سے باہر نکل کر کوئی مہم جوئی نہیں کرتا۔ کیا آپ بھول گئے کہ آپ کے حلیفوں نے ہی سابق صدر مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر ملک سے رخصت کیا۔ پھر آپ کی حکومت میں وہ آپ کے سامنے ہی شب و روز بھی گزارتے رہے۔ ہمت کرتے اور ملک میں قانون و آئین کی بالا دستی کی ایسی مثال قائم کرتے کہ ہر کس و ناکس اس کی تائید کرتا لیکن جب اپنے ہی ہاتھ گرد سے اٹے ہوں تو کہیں مصلحت اور کہیں خاموشی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ کہنا بھی عجب لگتا ہے کہ مشرف دور میں بنائے گئے نیب قوانین ختم کرنا چاہتا تھا مگربحرانوں کی وجہ سے اس طرف توجہ نہ دے سکا۔ اس وضاحت کو اب کیا کہیے۔

نواز شریف کی شعلہ نوائی نے حالات کو محاذ آرائی کی جانب دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ نواز شریف عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے کچھ دنوں کے لئے خاموشی اختیار کرتے اور کوئی بہتر سیاسی حکمت عملی بنا کر اسٹیٹس مین شپ رول کا انتخاب کرتے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار چھن جانے کے بعد دن رات اپنے سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے سوا کسی اور حکمت عملی کے بارے سوچا ہی نہیں گیا۔

نواز شریف کا یہ کہنا کہ عوام کی عدالت نے فیصلہ مسترد کر دیا، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی عدالت کی ضرورت نہیں۔ بس ہر طاقتور شخص ایک جم غفیر اکٹھا کرے اور یہ اعلان کر دے کہ بس بھئی بس فیصلہ ہو گیا۔ یہ کہنا بھی عجیب سی بات ہے کہ ٹیکنیکل گراؤنڈ پر سزا دی گئی۔ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ ایسی تکنیکی بنیادوں پر نواز شریف ماضی میں ان ہی عدالتوں سے ریلیف بھی لیتے رہے ہیں۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نواز شریف کے جارحانہ بیانات سے خود ان کی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی اور انہیں سیاسی طور پر ناقابل تلافی نقصان پنچا اور مزید پہنچنے کا احتمال ہے۔

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. قاضی ظفر کہتے ہیں

    بے شرم لوگو ں کے سردار ہین یہ لوگ

تبصرے بند ہیں.