درست شخص غلط بات پر اڑا ہوا تھا!

4,797

سابقہ فاٹا وہ علاقہ ہے جہاں کبھی بھی کوئی حکومت اپنی رِٹ نہیں بنا سکی ہے۔ یہاں تک کہ انگریزوں کے تسلط کے وقت میں بھی یہ علاقے قبائلیوں کے بنائے ہوئے قوانین چلتے تھے کیونکہ بنیادی طور پر قبائل کسی غیر کی حکومت و تسلط برداشت کرنے کے عادی نہیں رہے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ ہی معاملات رہے۔

9/11 کے حملوں کے بعد جب پاکستان نے افغان جنگ میں قدم رکھا تو یہ علاقہ ایک مستقل دہشت گردی کے خطرے کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس علاقے کے بہت سے نوجوان بھی ان دہشت گردوں کے آلہ کار بنے، لیکن قبائلیوں کی ایک بہت بڑی اکثریت جو کہ محب وطن ہے۔ انہوں نے اس جنگ کے خلاف حق کی صدا بلند کی۔ اس جنگ میں قبائلیوں نے بہت قربانیاں دیں۔ ان قربانیوں پر ان کو جتنا خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔

وزیرستان وہ علاقہ ہے جو سب سے زیادہ دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا اور دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا۔ اس کو دہشت گردوں سے پاک کروانے کے لئے جون 2014 میں اآپریشن ضربِ عضب کا اعلان کیا گیا۔ جس میں تیس ہزار کے لگ بھگ فوج نے حصہ لیا۔ اس آپریشن کی صورت میں کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کے لئے مقامی آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی اور نو لاکھ سے زائد قبائلیوں نے نقل مکانی کی۔ کیا ہی ستم کے یہ لوگ اپنے ہی ملک میں آئی۔ ڈی۔ پیز بن گئے اور انہوں نے کئی تہوار کیمپوں میں کھلے آسمان تلے گزارے۔ انہوں نے یہ قربانی اس پاکستان کے لئے ہی دیں کہ امن اس زمین پر زیادہ ضروری ہے۔

2014ء میں ہی منظور احمد محسود المعروف منظور پشتین نے محسود تحفظ موومنٹ کی بنیاد رکھی جو کہ بنیادی طور پر ایک فلاحی جماعت تھی جو کہ لینڈ مائنز کے خلاف کام کر رہی تھی کیونکہ ان مائنز کا شکار بہت سے عام لوگ بھی بنے اور کئی افراد معذور ہو گئے۔ 3 جنوری، 2018 کو جب نقیب اللّٰہ محسود کو راؤ انوار نے ایک جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا تو اس پر ایک بہت بڑا ردِعمل پاکستان کی عام عوام کی جانب سے سامنے آیا۔ جس پر اعلیٰ عدلیہ نے نوٹس بھی لیا۔ اس قتل کے بعد ایک لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب ہوا جس کی قیادت منظور احمد محسود کر رہا تھا اور یوں اس قتل کے نتیجے میں پشتون تحفظ موومنٹ میں بدل گئی۔ ایک بہت بڑی تعداد اس اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوئی اور ان کے اس دھرنے میں ملک کی بہت سی اعلیٰ شخصیات بھی گئیں اور وہاں خطابات بھی کئے۔ اس دھرنے کو کُل پشتون قومی جرگے کا نام دیا گیا۔ ان کے مطالبات میں مسنگ پرسنز کا معاملہ، ماورائے عدالت ہونے والے انکاؤنٹرز کی جوڈیشل انکوائری، مائنز کی صفائی، فاٹا کا انضمام اور چیک پوسٹ ہٹانے کے معاملات شامل تھے۔ فوج ان مطالبات کو مکمل طور پر انڈورس کر چکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ ان پر عمل درآمد تیزی سے جاری ہے۔

اس جرگے کے بعد محسن داور اور منظور پشتین کو فوج نے انگیج کیا اور ان کےساتھ بات چیت کی۔ جس پر انہیں ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی گئی۔ جس پر انہوں نے وہ دھرنا ختم کیا اور واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ نے ایک ملک گیر مہم کا آغاز کیا۔ جس میں فوج کے خلاف نعرے لگائے گئے جو کہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں تھے لیکن اس ریاست کے میڈیا نے انہیں مکمل طور پر بلیک آؤٹ کیا۔ جس پر میرا خیال تھا اور ہے کہ اگر ان لوگوں کو اور انگیج کیا جاتا تو معاملات بہتر ہو سکتے تھے۔

دو تین روز قبل ڈی۔ جی۔ آئی۔ ایس۔ پی۔ آر نے ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ پی۔ ٹی۔ ایم کے حوالے سے بات کی۔ لاہور کے موچی گیٹ جلسے سے ایک دو روز قبل اس تحریک کے خلاف ریاستی اداروں کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا۔ پھر جب منظور اسلام آباد سے کراچی جلسے کے لئے روانہ ہونے لگا تو ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں آف بورڈ کیا کیا گیا۔ جس کے بعد جب وہ بائی روڈ روانہ ہوئے تو ان کی گاڑی کا پیچھا کیا جاتا رہا اور راستے میں کئی گھنٹے کی چیکنگ کے عذاب سے انہیں گزرنا پڑا۔

مسئلہ منظور یا پی۔ ٹی۔ ایم۔ کا نہیں ہے، مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو کہ ایک بہت بڑی تعداد میں منظور کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جہاں تک اس الزام کا تعلق کہ افغان مہاجرین نے ان کے جلسوں میں شرکت کر کے جلسے کامیاب بنائے تو سوال یہ بھی ہے اس ہزاروں کے مجمعے میں کیا سب کے سب افغان مہاجرین ہی تھے۔ ایسا نہیں ہے۔ ان میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے، جو کہ دراصل ریاستی جبر کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں مسنگ پرسنز کے لواحقین بھی شامل ہیں، اس میں نقیب محسود کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔ مسنگ پرسنز اس ملک کا ایک حقیقی مسئلہ ہے جو کہ آج کا نہیں بہت پہلے چلا آ رہا ہے۔ جس پر تمام حکومت کے امیدواروں نے گریہ کیا لیکن عملی اقدامات کوئی بھی نہ کر سکا۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس تحریک کے ساتھ ہی بہت سے ایسے عناصر جو کہ پاکستان کے فائدے کے خواہاں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور سرحد پار اس کی حمایت میں مظاہرے بھی ہوئے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے اکاؤنٹس نے اس تحریک کی آڑ لے کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی جن کے آئی۔ پی۔ ایڈریس اگر چیک کئے جائیں تو سامنے آتا ہے کہ افغانستان اور بھارت سے یہ اکاؤنٹس چلائے جا رہے ہیں۔ اس عناصر میں ہماری ہی صف میں شامل محمود خان اچکزئی کا نام بھی ہے۔ جس سے منظور نے ملاقات کی جو کہ نہیں ہونی چاہئے تھی۔ منظور کو اپنی تحریک ایسے لوگوں سے دور رکھنی چاہئے جن کے مقاصد کچھ اور ہوں۔ یہ بات بالکل بجا ہے آپ کسی کو اپنی حمایت سے نہیں روک سکتے لیکن احتیاط لازم ہے۔

علی وزیر کے ایک بیان پر امن کمیٹی اور پی۔ ٹی۔ ایم کے درمیان گزشتہ روز ایک جھڑپ ہوئی جس میں کچھ ہلاکتیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ جس پر فوج نے ریسکیو آپریشن کیا اور ہسپتال تک لوگوں کو پہنچایا۔ جو کہ ایک بہت اچھا اقدام ہے۔ لیکن آج جب پریس کانفرنس میں اس جھڑپ کا ذکر کرتے ہوئے آصف غفور ایک پارٹی بنتے ہوئے نظر آئے جو کہ مناسب نہیں ہے۔

منظور اور علی وزیر کے فیس بک اورٹویٹر اکاؤنٹس سے جو فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی ایک مکمل مہم جاری ہے اس کو مکمل طور پر بند ہونا چاہئے۔ قابلِ غور نکتہ یہ بھی ہے، جب راؤ انوار جو کہ 300 سے زائد افراد کے قاتل ہے اس کو وی۔ آئی۔ پی۔ ٹریٹمنٹ دیا جائے گا تو سوال تو لازمی اٹھیں گے۔ نقیب کا باپ ہر پیشی پر دو دن کا سفر تہہ کر کے کراچی پہنچتا ہے اور اس کو محض بہانوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ عدالتی کارروائی اس کیس کے حوالے سے ایک سوالیہ نشان ہے۔

ہمیں ان نوجوانوں کو انگیج کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ ہمارا سرمایہ ہیں۔ انہیں لازمی طور پر موقع دیا جانا چاہئے کہ وہ اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اگر یہ لوگ غلط لوگوں کے ہاتھوں کے آلہ کار بن رہے ہیں تو اداروں کا کام ہے کہ وہ انہیں راہِ راست پر لے کر آئیں۔ دہشت گردی کے خلاف عام لوگوں اور افواج نے بہت قربانیاں دی ہیں جو کہ ہم اس طرح ضائع ہونے نہیں دے سکتے۔ فاٹا کا انضمام اسی سلسلے کی بہت اہم اور خوش آئند کڑی ہے۔ جو کہ پاکستان کے دشمنوں کو کسی صورت ہضم نہیں ہو رہا۔ ہمیں اسی طرح مستقبل پر نظر رکھنی ہو گی اور اس کو روشن بنانے کے لئے اقدامات کرتے رہنا ہوں گے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.