الیکشن کا انعقاد اتنی بھاری قیمت پر؟

1,777

2002 میں الیکشن ہوئے اور ق لیگ برسراقتدار آئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے پانچ سالہ مدت پوری کی۔ پھر 2008 میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی جمہوری حکومت نے پانچ سال مکمل کیے۔ اور پھر 2013 میں ایک بار الیکشن ہوئے۔ جس میں مسلم لیگ ن نے جیت کر حکمرانی کی نشست سنبھالی۔ اور مسلسل دوسری بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی۔ 31مئی 2018 کو ن لیگ نے اپنی مدت پوری کی اور یکم جون 2018 کو نگران وزیراعظم ناصر الملک نے عہدہ سنبھالا۔ الیکشن کمیشن کی تجویز پر صدر مملکت نے 25 جولائی 2018 بروز بدھ کو ایک بار پھر عام انتخابات کی منظوری دیدی۔ تاہم چہ میگوئیاں ہیں آیا الیکشن کا انعقاد بروقت ہو سکے گا یا نہیں۔

راقم بھی اسی حوالے سے کسی حتمی رائے پر نہیں پہنچ سکا تو ایک بار پھر ناہنجار بھولا خبری کا خیال آیا۔ اس بار ناچاہتے ہوئے فون اٹھایا اور اسے افطاری کی پر مدعو کر لیا۔ کھانے سے فراغت کے بعد اس کی جہان بھر کی فضولیات اور قصے کہانیاں مجبوراًسنیں اور پھر اسے اصل مدعا پر لایا۔ موضوع چھیڑا کہ الیکشن میں تاخیر کی قیاس آرائیوں میں کتنی صداقت ہے۔ سوال سن کر بھولا خبری اپنی مکار ہنسی ہنسا اور اپنی روایتی بے تکلفی سے راقم کے برابر آکر بیٹھ گیا۔ بھولا خبری نے راقم کے خیال سے اتفاق کیا کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ راقم نے اس کے پیچھے وجوہات پوچھیں تو بھولا خبری بولا کہ نگران حکومت کے ہوتے ہوئے قومی نوعیت کے کچھ اہم معاملات ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ اگلی حکومت آنے سے قبل ان کاموں کی نیا پار ہو جائے۔ استفسار پر بھولے نے بتایا کہ سب سے اہم معاملہ نواز شریف خاندان کا ہے۔ امکان ہے کہ جون کے آخر یا جولائی میں نواز شریف اور مریم نواز کو عدالتوں سے سزا سنا دی جائے گی اور یہ پابند سلاسل ہونگے۔ لیکن بہت حد تک امکان ہے کہ نواز شریف عید الفطر کے آس پاس بیرون ملک چلے جائیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ واپس نہ آئیں لیکن اگر پاکستان میں موجود رہے تو جیل ان کی منتظر ہے۔ راقم نے بھولے کی بات سے اتفاق کیا۔

الیکشن میں تاخیر کی دوسری بڑی وجہ بھولے نے پی ٹی آئی بتائی۔ بھولے نے توجہ دلائی کہ روزانہ کے حساب سے ملک کے مختلف حلقوں سے درجنوں رہنما تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے پرانے کارکنوں اور پرانے رہنماؤں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اتنا عرصہ پارٹی کیلئے قربانیاں دیں لیکن جب حکومت میں آنے کا امکان ہے تو الیکشن میں ٹکٹس لوٹوں اور حالیہ شامل افراد کو دی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی میں بڑے پیمانے پر انتشار کا امکان ہے۔ اور ناراض ووٹر غصے میں کپتان سے انحراف کر سکتا ہے۔ بھولے نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ کمزور پی ٹی آئی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جب تک کپتان اس بحران پر قابو نہ پالیں عین ممکن ہے کہ الیکشن میں تاخیر ہو جائے۔ کیونکہ اگر اس صورتحال میں الیکشن ہوتے ہیں تو یقیناً کوئی بھی جماعت وفاق میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔ جس سے حکومت چلانے میں بہت مشکل ہو سکتی ہے۔ غیر یقینی صورتحال میں عمران خان کبھی بھی وزیراعظم بننے کا رسک نہیں لیں گے۔ اس لیے عمران خان بھی چاہیں گے کہ الیکشن لیٹ ہوں تاکہ غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹ جائیں اور معاملات ان کے حق میں آئیں۔ بھولا خبری نے اس صورت میں ایک اہم نقشہ کھینچا جو راقم کے دل کو چھوا۔ بھولے نے 2002 کے الیکشن یاد کرائے جس میں درجنوں وفاقی و صوبائی وزرا کو غیر متوقع شکست ہوئی تھی۔ اسی طرح 2008 میں ہونے والے چند بڑے اپ سیٹ یاد کرائے۔ اس کا خیال ہے جس طرح نواز شریف خاندان کی سیاست کا سورج غروب ہو چکا ہے۔ اسی طرح الیکشن میں کئی بڑے سیاسی خاندانوں کا سورج غروب ہو جائیگا اور ان کو بری طرح شکست ہوگی۔ الیکشن کے بعد ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جائیگا اور کئی بڑے نام جیل میں ہونگے۔

بھولے خبری نے ایک اور اہم بات بتائی کہ بعض حلقوں میں بازگشت ہے کہ کچھ ادارے اتنی تاکید سے 25 جولائی کو الیکشن کا بار بار کہہ رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے الیکشن کے نتائج پہلے سے ہی تیار شدہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں الیکشن ہوئے تو ان نتائج کو ہارنے والے کبھی قبول نہیں کرینگے اور دھاندلی کا شور مچا دینگے۔ سوشل میڈیا کے دور میں الیکشن کے شفاف انعقاد پر انگلیاں اٹھیں گی۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس آواز میں قوت اور شدت پیدا ہوتی جائیگی۔ جو اس معلق پارلیمنٹ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہوگی۔

سب سے بڑی مخبری جو بھولے نے راقم کو دی اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ پہلی بات تو عام الیکشن 25 جولائی کو ہونے نہیں دیئے جائیں گے۔ ایسی صورتحال پیدا کر دی جائیگی کہ الیکشن میں تاخیر ہو۔ لیکن اگر اگر اگر الیکشن کا انعقاد ہو بھی گیا تو کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں کرنے دی جائے گی اور ایک معلق پارلیمنٹ بنے گی۔ اور سب سے بڑا ڈر یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ 1990 کی دہائی جیسی پارلیمنٹ ہوگی جو اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی۔

اس دوران کچھ مزید باتیں بھی گفتگو کا حصہ بنیں جس میں سب سے اہم دہشتگردی اور سیلاب تھے۔ ملکی صورتحال کے تناظر میں الیکشن مہم کافی خطرناک ہوں گی۔ ملک میں دہشتگردی کا خطرہ ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ خدا نخواستہ کسی بھی انتخابی جلسے میں سیکیورٹی انتظامات ناقص نکلے اور وہاں دہشتگردی ہو گئی تو سیکیورٹی ادارو ں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان پڑے گا۔ سانحہ راولپنڈٰ ی میں بے نظیر بھٹو جیسی عظیم لیڈر کو کھو دینے کے بعد قوم مزید کسی سانحہ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے انتخابی جلسوں میں سیکیورٹی کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہئے۔ اور عموماً جولائی اگست میں ملک میں سیلاب اور بارشوں کا سلسلہ بھی ہوتا ہے جس وجہ سے بڑے حصے میں الیکشن کا انعقاد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

موجود ہ صورتحال کے نتیجے میں جو نقشہ کھینچا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق بطور صحافی راقم کا خیال ہے کہ جولائی میں الیکشن پر دھاندلی زدہ ہونے کا لیبل لگ سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ جو 2 یا ڈھائی سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی۔ کیونکہ جب اتحادی زیادہ ہوں اور اپوزیشن بھی مضبوط ہو تو آئےروز تحریک عدم اعتماد کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ ایسی صورت میں پارلیمنٹ زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ راقم کا مشورہ ہے کہ نگران حکومت پہلے کرپشن کا گند صاف کرے اور اگر الیکشن میں کچھ تاخیر کر لے تو بہتر ہے۔ اس وقت پاکستان کی مغربی سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں۔ برسات میں سیلابوں اور بارشوں کا خطر ہ ہے۔ فوج الیکشن کرائے گی یا امدادی کارروائیاں کریگی یا سرحد سنبھالے گی؟ اتنے کم وقت میں سیکیورٹی انتظامات پورے کرنا بھی مشکل ہے۔ کسی بھی جلسے جلوس یا کسی بھی سیاسی لیڈر پر دہشتگردی کا حملہ ہو گیا تو عالمی سطح پر کیا تاثر جائیگا اور اس کا الیکشن پر کس حد تک منفی اثر پڑے گا، یہ سب کو معلوم ہے۔ اور ویسے بھی برسات اور حبس زدہ موسم میں لوگوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن کا رخ نہیں کریگی۔ راقم کی ناقص رائے میں اگر الیکشن ستمبر کے آخر میں یا اکتوبر میں کرا لیے جائیں تو ہر لحاظ سے موزوں رہیگا۔ نہ خراب موسم کا مسئلہ نہ افراتفری کا عالم ہو گا نہ سیلاب نہ بارشیں اور تمام جماعتوں کو بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلانے کا موقع بھی مل سکے گا۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. Athar کہتے ہیں

    Facts based analysis….in your writings your experience shows and speeks loud….. keep it up

  2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Athar sab thank you so much

  3. mian Naveed کہتے ہیں

    Good analysis …………….

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Mian Naveed Thanks Alot

  4. M.Javeed Qureshi کہتے ہیں

    Politics, worship or hypocrisy in. Well, if the politics of worship has been rated but we when Pakistan’s politics, look at the fold, so us politics is all hypocrisy look. We are seeing that our all politicians own interests to the public service of the name given his whole attention to the acquisition on the power keeping.And power through your smallest interest ranging from big from the big goal, the same politics are derived from it. Our No a party to any theory and the principle of not binding to every party to your specific interests, which are to get the whole effort. And then the same struggle to the public welfare renamed. We are seeing that Pakistan tehreek-e-insaf and its leadership whose theory, as the congregation in the name of the undefined seems to be justice, but justice itself, justice inside, there not all bad politician tehreek-e-insaf in them gathered. But there is no any kind of checking procedure not placed. Who is coming to it being accepted. You bad people cleaner be doing good in the name of movement for justice, become part of. Their previous all sin, as if PTI in coming from cleaned. This kind of politics, the worship of status, how can be given.Where the country and the nation worry over the power to get. Not have any undefined Charter is not no strategy, just the same tune in all that are engaged to the power we get. The same bad character when someone in the second grade are so unacceptable they are as soon as our part traps are translucent become.This hypocritical attitude where the leadership and parties of character. the question mark is there in this country and for the nation a disturbing and intense harmful process. This Comfort your changing to an intense public awareness campaign is needed. Which to the public it be told that their loyalty to the seller, and politician, the country and the nation any good either. But it they are hypocrites segment, which is the domestic national resources on the occupation to be seated. The salvation of the nation for all such politicians and political parties boycott who should own the basic theory of deviant be doing a few slogans on people, vote taking the power of fun here. Whose purpose no welfare but not seeking power

  5. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    M JAveed Qureshi Sab . Politics , i think, is neither Worship nor hypocrisy , it is just Politics ,it is very vast from earlier mentioned types. and what is going on with PTI ,she will face the reaction in the Elections. and finally Salvation of Nation is because of the Nation herself.a common man is liable for what is done by politicians towards Him

تبصرے بند ہیں.