آندھیوں کی زد پہ ہے آشیانہ میرا

1,140

جب تک پاکستان کے انتظامی ادارے پارلیمنٹ میں ادھر یا ادھر کے ایمپائروں کا عمل دخل رہے گا۔ پارلیمانی ٹیم کی تشکیل عوامی رائے عامہ کی بجائے ایمپائروں کی مرہونِ منت رہے گی تو نواز شریف پیدا ہوتے رہیں گے اور جب تک نواز شریف پیدا ہوتے رہیں گے، سرزمین پاکستان کے حالات دگرگوں ہی رہیں گے۔

بڑی زور و شور سے انتخابی مہم چلتی ہے۔ لوٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں اربوں روپے الیکشن کمپین پہ پانی کی طرح بہائے جاتے ہیں۔ امیداواروں سے ووٹرز تک کی بولی لگتی ہے کہیں امیدوار بکتے ہیں کہیں ووٹر اپنا ایمان بیچتے ہیں۔ قانون بوڑھی بیوہ کی طرح منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ آئین اور قانون کی پامالی پر نہ کوئی باز پرس ہوتی ہے نہ ہی کوئی جزا و سزا۔

آئین کی کتاب میں لکھے وہ تمام آرٹیکل معطل پڑے رہتے ہیں جو آئینی و قانونی انتخابی عمل کی ضمانت دیتے ہیں۔ ہر چور، ٹھگ، بدمعاش، کرپٹ، جھوٹا، اور خائن دھڑلے سے آتا ہے، اپنے کاغذات جمع کرواتا ہے اور الیکشن کا امیدوار بن کر میدان عمل میں کود جاتا ہے۔

کوئی معیار نہیں کوئی قائدہ اور ضابطہ نہیں۔ بس ایک ہی دھن ہے۔ مال مال اور بس مال جس کے پاس پیسہ ہے وہ آگے بڑھے اور قوم کا مسیحا بن جائے۔

دنیا ساری اصولوں پر چلتی ہے۔ قانون اور قاعدے سے چلتی ہے۔ پاکستان کی ریاست اور حکمران طبقہ ایمپائر کی انگلی کے اشاروں پہ چلتا ہے۔

احتساب برائے نام کرپٹ نظام انتخاب کی اصلاحات نہ امیدواروں کو اور نہ ہی قومی اداروں کے وارے میں ہیں۔ چوروں کے گروہ پالے جارہے ہیں اور ان کرپٹ چوروں کا تحفظ تمام ادارے مل کر کرتے ہیں۔

عوام کب اپنے حقوق کا شعور حاصل کرے گی۔ عوام کب اپنے مسائل کے حل کے لئے متحد ہوگی، جج، جنرل اور سیاستدان تو ایک پچ پہ ہیں عوام کب ایک ہوگی؟

یہ ڈھونگ تماشے جن کی نظر ہماری نسلیں ہو رہی ہیں، ان کا کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ اس کرپٹ اشرافیہ کا راستہ روکنے جب ادارے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام نہیں دیں گے تو کون آئے گا جو آ کر اس دھن دھونس اور دھاندلی کا راستہ روکے گا؟

کوئی مراعات پہ پل رہا ہے۔ کسی نے پلاٹ، پلازوں اور جائیداد پہ نظر رکھی ہے اور کچھ ملکی خزانہ لوٹ کر بیرونی دنیا میں کاروبار کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔

پاکستان کا غریب طبقہ کل بھی گندی نالی کا کیڑا تصور ہوتا تھا، غریب طبقہ کا آج بھی وہی مقام ہے۔

یہ طبقہ کل بھی نعرے لگانے پہ مامور تھا۔ چوھدری صاحب، ملک صاحب، راجہ صاحب، اور بٹ صاحب کے جلسوں کی رونق بڑھانے ان کے جھنڈے اور بینر لگانے اور اٹھانے پہ مامور تھا۔ آج بھی غریب، محنت کش اور مظلوم کے حصے میں یہی سب کچھ کرنا ہے۔ شعور کی ریڑکھی گئی لسی لوٹوں، اور موروثی بادشاہوں کے خمار میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

نظریات کا شربت الیکٹ ایبل کی تواضع کے لئے کام آ رہا ہے۔ ایک بے حسی کا عالم ہے جو ہر طرف چھایا ہے۔

اللہ پاک دھرتی پاکستان کی خیر فرمائے اور پاکستان کے ہر ہر باسی کو عقل و شعور سے نوازے۔

محمد جاوید قریشی ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ لیبریونین سے وابستہ ہیں اور سوشل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. moviesbelt.com کہتے ہیں

    bohat khoob sir yeh jiale jo hain hamesha se naare laga k in logon k jalson ki ronak barhane main lage rahe or ghareeb awam in ko bhed chal ki tarah vote dene k lye bas yehi khel lagta hai ab to chalta he rahe ga saalon tak

  2. شانزے کہتے ہیں

    زبردست قریشی صاحب اصل خرابی ہی یہ ہے نظام میں

  3. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    شکریہ برادرز اپنی رائے سے نوازنے کابس ضرورت اس امر کی ہیکہ ہم میں سے ہر شخص اپنے حصے کی ڈیوٹی سرانجام دیں اور اس دھن دھونس اور دھاندلی کے نظام کو ختم کرنے کے لئے اپنا جو کردار بنتا ہے ادا کریں۔

تبصرے بند ہیں.