سمندر کے سینے میں سب ہے مگر

1,023

سورج کا ڈوبنا کئی لوگوں کے لیے دلفریب ہوتا ہے، اور جب سورج سمندر میں غوطہ زن ہو تو یہ نظارہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ آگ اور پانی کے اس ملاپ سے نظر چوکنا مشکل ہوجاتا ہے، جیسے جیسے سورج سمندر کی گہرائی میں اترتا ہے، زمین پر روشنی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے، تو کیا سمندر میں روشنی نہیں؟ آخر سمندر کتنا گہرا ہے کہ سورج کی روشنی وہاں نہیں پہنچتی اور سمندر میں روشنی کے لیے سورج کو خود اس کی گہرائی کااندازہ کرنا پڑتا ہے؟

سائنسی منطق کہتی ہے کہ سورج غروب نہیں ہوتا وہ کہیں اور کسی اور دیس کے باسیوں کو اپنی روشنی سے منور کرتا ہے، فلسفہ کہتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے، ہر ابتدا کی انتہا ہے، لیکن آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پر آسکتا نہیں۔ ۔ یہ سب تو تھیں ادھر ادھر کی باتیں۔ ۔ اب ذرا کام کی بات۔ ۔ !

سمندر کی گہرائی اپنے اندر کئی پراسرار اور خوفناک راز چھپائے ہوئے ہیں۔ زمین پر موجود سائنسدان صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ان سے پردہ اٹھا نہیں پائے۔ چند اک پر نظر ڈالتے ہیں۔

1۔ سمندر کا زیادہ تر حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے کیونکہ روشنی سمندر میں صرف 200 میٹر کی گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد کا تمام حصہ تاریک ہوتا ہے، جسے آفوٹک زون کہا جاتا ہے۔

ہم پوری زمین اور اس کے تمام مال و اسباب ڈال کر بھی سمندر کی گہرائی ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس کے بعد بھی سمندر 2 کلو میٹر گہرا ہو گا۔

2۔ سمندر ہمارے سیارے پر ایک پر اسرار ترین دنیا ہے جس کا ابھی تک صرف %5 حصہ دریافت ہو سکا ہے باقی %95 کسی نے نہیں دیکھا۔

3۔ گہرے سمندر میں پانی کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندرونی اعضاء کو باآسانی توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دباؤ انسانی پھیپھڑوں کا اپنا شکار بناتا ہے۔

4۔ بہت زیادہ گہرائی میں ڈوب جانے والی چیزوں کو پانی کے دباؤ کی وجہ سے نکالنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ جیسے ٹائی ٹینک جہاز کو سو سال بعد بھی نکالا نہیں جاسکا۔

5۔ دنیا کے زیادہ تر سمندر آبی حیاتیات سے بھرپور ہیں جن میں سمندری جانور، پودے اور مرجان شامل ہیں۔

6۔ سمندر ہزاروں جراثیموں اور وائرس کا گھر بھی ہوتے ہیں۔ ان جراثیموں کی بنیادی وجہ خود انسان ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق سمندروں میں 8 ملین ٹن کچرا پایا جاتا ہے جو کہ انسانوں نے پھینکا ہے۔

7۔ اگر سمندری لہروں سے پیدا ہونے والی توانائی کا صرف 0.1 فیصد استعمال کریں تو ہم اتنی بجلی پیدا کرسکتے ہیں جو کہ پوری دنیا کی بجلی کی طلب سے بھی 5 گنا زائد ہوگی۔

8۔ دنیا بھر کے سمندری پانی میں تقریباً 20 ملین ٹن سونا پایا جاتا ہے لیکن اب تک ایسا کم لاگت کا حامل طریقہ کار دریافت نہیں کیا جاسکا جس کی مدد سے یہ سونا حاصل کیا جاسکے۔

سمندر کے سینے میں سب ہے مگر

سمندر کے سینے میں بس دل نہیں

بہت بڑے سمندر کو بحر یعنی Ocean کہا جاتا ہے۔ جبکہ نسبتاً چھوٹے سمندر کو بحیرہ کہتے ہیں۔ سمندر یا بحیرہ نمکین پانی کے ایک بڑے پھیلاؤ کو کہتے ہیں، جو بحر یعنی اوشن کے ساتھ منسلک ہوتا ہے،

دنیا میں 5 بڑے بحروں میں سے بحر الکاہل(Pacific Ocean) سب سے بڑا سمندر ہے جو لاطینی لفظ Mare Pacificum سے نکلا ہے جس کا مطلب پرسکون سمندر ہے۔ بحر الکاہل زمین کے کل رقبے کے ایک تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 4 ہزار 300 میٹر ہے۔ بحر الکاہل میں تقریباً 25 ہزارجزائر ہیں جو دنیا بھر کے سمندر میں موجود کل جزیروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

سمندر ہماری زمین کا دل اور پھیپھڑے ہیں۔ یہ زمین پر استعمال ہونے والا چالیس فیصد تازہ پانی اور 75 فیصد آکسیجن پیدا کرتے ہیں جس سے ہم سانس لیتے ہیں، اس مناسبت سے سمندروں کا ماحول انسان اور اس کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہے۔

8 جون کو سمندروں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا مقصد انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت، آبی جانوروں کا تحفظ اور سمندری آلودگی کم کرنا ہے۔ اقوام ِمتحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی کل آبادی کا 40 فیصد حصہ سمندروں اور ساحلوں کے ساتھ جڑے ایک سو کلو میٹر تک کے علاقوں میں آباد ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے سمندری آلودگی نا صرف ساحل پر مقیم انسانوں بلکہ سمندر میں موجود نباتات اور سمندری حیات کے لیے سنگین ہے۔ سمندر ماحول پر بھی اثر انداز ہوتےہیں۔ موسموں کا نظام سمندروں سے بدلتا ہے، بارشیں سمندر کے دم سے ہوتی ہیں۔

اس سال ورلڈ اوشن ڈے کی تھیم ”سمندر کو پلاسٹک آلودگی سے محفوظ رکھنا” رکھی گئی ہے، پلاسٹک پولیوشن آبی حیات و وسائل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذرائع ہیں یعنی دریاؤں کی آلودگی، شہروں اور صنعتوں سے خارج ہوتا گندا پانی وغیرہ۔ تقریباً 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سالانہ سمندر برد کیا جاتاہے جو آبی مخلوق، ماہی گیری اور سیاحت کے شعبے کے لیے تباہ کن ہے۔

سمندری لہریں پلاسٹک کے کُوڑے کو انتہائی باریک ذرات میں تبدیل کر دیتی ہیں اور سمندری جانور ان ذرّوں کوخوراک سمجھ کر کھا لیتے ہیں۔ اپسالا یونیورسٹی کے ایک جائزے کے مطابق پلاسٹک کھانے سے مچھلیوں کی صحت پر ہولناک اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کے مرنے کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔ مچھلیوں میں پلاسٹک کی موجودگی انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

گزشتہ دنوں تھائی لینڈ میں پلاسٹک کے 80 تھیلے نگلنے والی وہیل چار دن تک موت و زیست کی کشمکش میں رہنے کے بعد ہلاک ہوگئی۔

پاکستان کا جنوب میں بحیرہ عرب سے جڑا ساحل ایک ہزار 50 کلومیٹر طویل ہے۔ اس میں سات سو کلومیٹر بلوچستان میں اور ساڑھے تین سو کلومیٹر سندھ میں واقع ہے۔ پاکستان ہر سال سمندر سے پکڑی جانے والی کروڑوں روپے کی آبی حیات برآمد کرتا ہے، تقریباً 40 لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں، آبی آلودگی اس زر مبادلہ کمانے کے ذریعے کو تیزی سے نگل رہی ہے۔ بحری آلودگی کی سب سے بڑی وجہ جہازوں اور لانچوں سے بہنے والا تیل اور بغیر ٹریٹمنٹ کے فیکڑیوں سے آنے والا فضلہ ہے۔

میرین زولوجسٹ کے مطابق سمندر کو آلودہ کرنے والے اس فضلے میں پلاسٹک بیگز سب سےزیادہ آبی حیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ صرف کراچی میں 45 کروڑ گیلن فضلہ سمندر میں انڈیلا جا رہا ہے۔

وفاقی ادارے پاکستان کونسل ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسس کے مطابق کراچی میں سمندر کا پانی زہریلا ہوگیا ہے۔ نہانے سے جلد کے اور پیٹ کے امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

پلاسٹک کی آلودگی سے دس لاکھ سمندر پرندے اور ایک لاکھ ممالیہ آبی حیات سالانہ موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ پلاسٹک کے سبب ہر سال 8 ارب ڈالر سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

ہمیں اپنے آپ سے ابتدا کرنی ہے۔ انفرادی طورپر ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر پلاسٹک کے استعمال کو کم کرکے اور اس کو ری سائیکل کرکے۔

سمندر پر ضرور آئیں لیکن تفریح کے بعد اس بات کا خیال رکھیں کہ گھر کو لوٹتے وقت کھانے پینے کی اشیاء کے ریپرز، پلاسٹک او ر دیگر کوڑا سمندر کی نذر نہ کریں۔ اسی طرح ہم ماحول اور اپنے سمندر کو آلودہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Muhammad Bilal کہتے ہیں

    very nice

تبصرے بند ہیں.