معصوم درندے

1,004

بعض اوقات ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں جن پر یقین کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی خبر نظروں سے گذری جس نے احساسات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

ہم لکھنے والوں کی زیادہ تر توجہ آج کل کے ہیجان خیز سیاسی ماحول پر رہتی ہے۔ کچھ لکھنے والے سماجی مسائل کا احاطہ بھی کرتے ہیں مگر سنسنی خیزی کے اس دور میں سماجی مسائل پر نظر رکھنے والے کم کم لوگ ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس قسم کی خبروں کا نظر انداز ہو جانا بعید از قیاس نہیں ہے۔

یہ ایک انگریزی اخبار میں 28 مئی 2018 کو شائع ہونے والی خبر ہے جس کے مطابق آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم ذیشان کو اس کے دو ہم جماعتوں نعمان اور آکاش اور ایک اور دوست موسیٰ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کر دیا۔

ذیشان کے گھر والوں کو رات کے وقت ایک خط اپنے گھر کے اندر پڑا ہوا ملا۔ اس خط کے مندرجات ہوش اڑا دینے والے تھے۔ خط کے مطابق ان کے لخت جگر ذیشان کو اغوا کیا جا چکا تھا اور اس کی رہائی کے بدلے سولہ لاکھ روہے تاوان کی رقم طلب کی گئی تھی۔ خط میں واضح ہدایات موجود تھیں کہ رقم کو سیاہ پلاسٹک کے بیگ میں لپیٹ کر لایا جائے۔ لانے والا اکیلا آئے اور رقم والا بیگ مقررہ مقام پر رکھ کر فوری طور پر الٹے قدموں واپس لوٹ جائے (مقررہ مقام کی نشاندہی ایک واضح نقشے کی مدد سے کی گئی تھی جو اسکیل اور پین کی مدد سے بنایا گیا تھا اور علاقے کی تمام نشانیاں اس میں واضح درج کی گئی تھیں)۔ پولیس کو ہرگز اس کی خبر نہ کی جائے۔ اگر ان میں سے کسی ایک بھی ہدایت کی خلاف ورزی کی گئی تو لڑکے کی جان کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔

ہدایات کے برعکس ذیشان کے گھر والوں نے پولیس کو اس کی اطلاع دے دی۔ پولیس نے فوری طور پر پیسے اکھٹے کرنے میں اس فیملی کی مدد کی اور مجرموں کو پکڑنے کا شکنجہ تیار کیا۔ جلد ہی ذیشان کے گھر سے ایک فرد مطلوبہ رقم حسب ہدایت لے کر مقررہ مقام پر پہنچا اور رقم وہاں چھوڑ آیا۔ پولیس نے آس پاس نگرانی شروع کر رکھی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ایک کم عمر لڑکا اس مقام پر پہنچا، رقم کا بیگ اٹھایا اور چلتا بنا۔ پولیس نے پہلے تو یہ سمجھا کہ لڑکا بہت چھوٹا ہے اور ممکنہ طور پر اسے اغوا کنندگان نے رقم اٹھانے کے لیے گانٹھا ہو گا چناچہ انہوں نے لڑکے کا تعاقب کرنا شروع کیا۔ گلی میں پہنچتے ہی لڑکے نے بھاگنا شروع کیا تو پولیس نے اسے چھاپ لیا۔

لڑکے سے حاصل ہونے والی معلومات نہایت سنسنی خیز اور افسوس ناک تھیں۔ ذیشان کو پہلے ہی قتل کر دیا جا چکا تھا اور یہ لڑکا بھی قاتلوں میں سے ایک تھا۔

تفصیلات کے مطابق نعمان اور آکاش دو بھائی تھے جن کی عمریں تیرہ چودہ برس کے لگ بھگ تھیں۔ یہ دونوں راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کالا خان کے رہائشی تھے۔ ان کا ایک دوست موسیٰ تھا جس کی عمر تقریباً سترہ برس تھی اور وہ گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ جبکہ ذیشان آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور یہ بھی ڈھوک کالا خان کا ہی رہائشی تھا۔

نعمان، آکاش اور موسیٰ نے ممکنہ طور پر کسی رنجش کی بنیاد پر ہوشیاری سے ذیشان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ منصوبے کے مطابق وہ تینوں عشا کی نماز کے وقت ذیشان کے گھر پہنچے اور اسے اپنے ساتھ اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے کے پاس موجود گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے کی دعوت دی۔ ذیشان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ کرکٹ کی نہیں بلکہ موت کی دعوت ہے۔ اس نے اپنے گھر والوں سے نماز تراویح پر جانے کا بہانہ کیا اور ان تینوں لڑکوں کے ہمراہ ہو لیا۔ یہ جانے بغیر کہ یہ قدم اسے سیدھا موت کے پھندے کی طرف لے جا رہے ہیں۔

راستے میں جیسے ہی ایک ویران مقام آیا، تینوں میں سے ایک لڑکے نے ذیشان کے سر پر اس کرکٹ کی وکٹ سے ضرب لگائی جو وہ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے تھا۔ ذیشان اس ضرب کو نہ سہار سکا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔ اس اثنا میں ایک لڑکا قریب ہی واقع اپنے گھر کی طرف بھاگا اور جلد ہی ایک چھری لے کر لوٹا اور بغیر کسی خوف اور جھجھک کے ذیشان کا نرخرہ کاٹ ڈالا۔ کچھ ہی دیر میں ذیشان کی روح پرواز کر گئی۔ اس کے بعد ان تینوں لڑکوں نے لاش کو اٹھایا اور کچھ دور موجود ایک ایسے گڑھے میں جا ڈالا جو اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے کے اوپر پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے جانے والے پل کے لیے کھودا گیا تھا۔ اس تمام واردات کے دوران کسی کی نظر بھی ان لڑکوں پر نہ پڑی۔

اس کے بعد ان تینوں لڑکوں نے نہایت سکون اور اطمینان سے ذیشان کے گھر والوں کے نام وہ خط تحریر کیا اور اسے ایک براؤن لفافے میں ڈال کر ذیشان کے گھر میں رات کے اندھیرے میں کھسکا دیا گیا تھا۔

یقیناً ان نوعمر لڑکوں کے ذہن اس قسم کی واردات کے لیے نہایت مضبوط تھے اور انہیں قتل کر دینے کے بعد بھی کسی قسم کا خوف یا گھبراہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ اس کا اظہار اس واضح نقشے بھی سے ہوتا ہے جو ذیشان کو قتل کر دینے کے بعد ان تینوں نے بیٹھ کر بنایا اور ان کے ہاتھ تک نہ لرزے۔ اس سے پہلے وہ لاش اٹھا کر تقریباً نصف کلومیٹر دور لے کر گئے جہاں وہ گڑھا موجود تھا جس میں لاش پھینکی گئی۔

اس واردات کی تفصیل آپ کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ اس واردات کے بے شمار محرکات ہو سکتے ہیں۔ ذاتی رنجش، ایڈونچر کا شوق، ویڈیو گیمز اور فلموں وغیرہ میں تشدد کا بڑھتا ہوا عنصر جن سے کچی عمر کے اذہان شدت سے متاثر ہوتے ہیں یا پھر گھریلو ماحول سے لے کر معاشرے میں پائی جانے والی انواع و اقسام کی برائیاں۔

پریشان کن امر یہ ہے کہ شاطرانہ منصوبہ بندی کے تحت “کولڈ بلڈڈ” قتل کرنے والے لڑکوں کی عمریں چودہ سے سترہ سال کے درمیان تھیں۔ یہ ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا وہ بارود ہے جو محض ایک ہلکی سی چنگاری سے بھڑک اٹھتا ہے اور پھر پھٹتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس بارود پر نہ تو کسی کی نظر ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت اور نگرانی کے لیے مناسب اقدامات کسی بھی سطح پر کیے گئے ہیں۔

لیکن خیر ہمیں کیا۔ آئیے ہم 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے ہنگام سیاسی قائدین کی عزتوں کو اچھالیں اور چسکے لیں۔ قتل کا کیا ہے۔ وہ تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.