جیتی ہوئی بازی

721

پلاسی کی جنگ کے بعد سراج الدولہ کو گرفتار کرکے کلائیو کے اشارے پر میرن نے نہایت درد ناک طریقے سے قیمہ قیمہ کرا دیا۔ اس کی لاش کو تمام شہر میں ہاتھی پر رکھ کر پھرایا گیا۔ جس کے ہمراہ ہزاروں انسانوں کی آہ و زاری نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ راجہ موہن لال وغیرہ کو بے حد تکلیف اور اذیتیں دے دے کرقتل کیا گیا۔

سراج الدولہ اس کلائیو سے ہارا جسے وہ جب چاہتا چٹکی سے مسل دیتا۔ سراج الدولہ طاقتور نواب تھا۔ اس کی رعایا اس پرجان چھڑکتی تھی۔ جس حکمران کو اس کے لوگ عشق کی حد تک چاہتے ہوں، اس کو شکست دینا کلائیو جیسے کمزور شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی مگر وہ میدان جنگ میں جیتی ہوئی بازی اسی میدان میں ہار گیا۔ نواب کی اس ہار میں ہر دور کے حکمرانوں کے لئے جیت کے کئی سبق پوشیدہ ہیں۔

سراج الدولہ سے عوام کو جو بے پناہ عقیدت و محبت تھی اس کا اندازہ نہ صرف مرشد آباد کے کہرام سے ہوتا ہے بلکہ جب یہ اندوہ ناک خبر عظیم آباد (پٹنہ) پہنچی تو راجہ رام نرائن صوبہ دار عظیم آباد نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور دیوانہ وار بازار میں روتا پھرتا تھا۔ اس کے پیچھے بے پناہ ہجوم نے کہرام مچا رکھا تھا۔ سارا شہر ماتم کدہ بن گیا۔

کوئی آنسو بہاتا کوئی سینہ پیٹتا۔ رام نرائن روتے میں یہ شعر پڑھتا تھا۔

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری

بیر بھوم کے جاگیر دار نواب بدیع الزماں کوجب یہ خبر ملی تو وہ فقیرانہ لباس پہن کر جنگل کی طرف نکل گیا۔

جتنا عذاب نواب سراج الدولہ نے شکست کے بعد جھیلا، اگر اس سے ہزار گنا کم مشقت وہ شکست سے پہلے اٹھا لیتا اورآنکھیں کھلی رکھتا تو آج ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ کا ہر قاری مطالعہ کرتے وقت یہ ضرور سوچتا ہے کہ ہارنے والے سے فلاں جگہ بھول ہوئی۔ تاریخ کے مطالعہ کا صحیح طریقہ بھی یہی ہے۔

سر پہ تاج پہن کر جینے والوں کی ذرا سی بھول کو بھی وقت معاف نہیں کیا کرتا۔ واٹر لو کے میدان میں قدم بڑھانے میں صرف پانچ منٹ آگے پییچھے کی دیر نے عظیم نپولین کو شکست سے دوچار کر کے اس کے مقدر کا فیصلہ کر دیا۔ یہ تو ایک عام آدمی کی بات تھی۔ غزوہ احد میں گھاٹی پہ مقرر چالیس تیر اندازوں میں سے 38 کے اپنی جگہ چھوڑنے کا نتیجہ جیتے ہوئے تمام اسلامی لشکر کو بھگتنا پڑا۔ مسلمان اللہ کی راہ میں لڑ رہے تھے، لشکر کی کمان ذات اقدس محبوب خدا ﷺ کے دست مبارک میں تھی مگر سب کے لئے ایک ہے۔ مقابلے میں سعی اور سلیقہ اہم ہے۔ حکمران کے لئے نفسیات کا علم، لفظوں اور لہجوں کی روح میں اترنا بروقت درست فیصلہ اور عمل، حرکت سے محرک کی پہچان اور اہل مشیروں کا انتخاب بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جنگ میں جیت کے لئے اپنی طاقت اور دشمن کی قوت اور طریق عمل کا درست اندازہ لازم ہے۔ جس نتیجے کے لئے جو قیمت مقرر ہے وہ ادا ہوگی تو بات بنے گی۔ اس آئینے میں نواب سراج الدولہ کی تخت نشینی سے لے کر جنگ پلاسی تک جائزہ لیں تو نواب سراج الدولہ عسکری قوت کے لحاظ سے انگریزوں کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور تھا۔ اس کا نانا علی وردی خاں اسے جاتے جاتے بڑے گر کی بات سمجھا گیا تھا کہ انگریزوں سے خبردار رہنا۔

علی وردی خاں سمجھ چکے تھے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز تاجروں کی نیت ٹھیک نہیں۔ اپنے جیتے جی اس نے انہیں ٹھکانے رکھا۔ جب اس نے اپنے 18 سالہ نواسے سراج الدولہ کو اپنا جانشین کیا تو اس نے بطور خاص اسے وصیت کی کہ انگریزوں کو قلعے بنانے اور فوج رکھنے کی کبھی اجازت نہ دینا۔

اپریل 1756ء میں جب سراج الدولہ تخت نشیں ہوا تو انگریزوں نے رسمی تحفے بھی نہ بھیجے۔ نوعمر نواب کو کوئی اہمیت دینے کی بجائے اسے بچہ اور کمزور سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس کی اجازت کے بغیر ہی کلکتہ کے قلعے کی مرمت شروع کر دی۔ نئے قلعے تعمیر ہونے لگے، مورچے بننے لگے۔ ریاست کے بھاگے ہوئے مجرموں کو پناہ دی جانے لگی۔ ڈھاکہ کے دیوان کا بیٹا بھی انہی میں شامل تھا جو ریاست کا مجرم تھا۔ دوسری طرف شوکت جنگ کو نواب کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا جا رہا تھا۔

نرم دل نواب نے انگریزوں کو سمجھانے کی کوشش کی مگر انگریزوں نے اس نیک نیتی کو کمزوری سمجھا اور شوریدہ سری سے باز نہ آئے۔ ان کی بڑھتی ہوئی سرکشی سے تنگ آ کر نواب سراج الدولہ نے بنگال کو ان شوریدہ سروں سے پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جون 1756 میں اس نے انگریزوں پر حملہ کیا اور ان کی شرارتوں کا مزہ چکھا کر انہیں کلکتہ سے نکال دیا۔ اس وقت نواب چاہتا تو ہر انگلش بولنے والی زبان کاٹ کر پھینک دیتا مگر شریف مزاج نواب نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی۔ جو باغی انگریز قید ہو کر آئے تھے ان کی جاں بخشی کردی اور انہیں اپنا ساز و سامان لے کر جانے دیا۔ ان میں ایک فتنہ پرداز انگریز واٹس بھی تھا۔

کلکتے سے بھاگے ہوئے انگریزوں نے جاتے جاتے مظلوم شہریوں کے گھر نذر آتش کر دئے۔ مدراس میں مقیم کلائیو کو جب اس شکست کی خبر ملی تو جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ اس کا نواب سے کوئی مقابلہ نہیں۔ وہ جتنی چاہے تیاری کر لے، نواب سے جیت نہیں سکتا۔ اس کے مکار ذہن نے ایک اور راستہ نکالا۔ اس نے نواب کے دربار میں سازشوں کا جال بچھا کر وہاں مردہ ضمیر غداروں کی تلاش شروع کردی۔ رشوتیں دی گئیں، تخت کا لالچ دیا گیا اور حکومت کے وعدے کئے گئے۔ نواب سراج الدولہ کو اپنے سپہ سالار میر جعفر اور اس کے ساتھیوں کی غداری کا علم ہوا تو سر دربار ان کی سرزنش کی اور پھر درگذر کرکے انہیں عہدوں پر برقرار رکھا گیا۔ میر مدن اور دوسرے محب وطن لوگوں کا ماتھا ٹھنکا مگرانہوں نے نواب کے فیصلے میں دخل نہ دیا مگر ماں نے ضرور کہا کہ اس نے سر دربار تضحیک کرکے ٹھیک نہیں کیا۔ یہ گرہ دل میں رہ جائے گی۔

حالات کو ساز گار دیکھ کر دسمبر 1756ء میں کلائیو اپنی فوج لے کر آیا، ڈمڈم کے قلعہ دار مانک چند کو رشوت دے کر پہلے ہی ساتھ ملایا جا چکا تھا۔ صرف آدھے گھنٹے کی نمائشی جنگ کے بعد قلعے پر قبضہ ہو گیا۔ 29 دسمبر کو کلکتہ کا قلعہ بھی دوبارہ کمپنی کے ہاتھ آ گیا جہاں تمام ساز وسامان اسی طرح محفوظ تھا، جیسا وہ چھوڑ گئے تھے۔ اس سامان کی حفاظت نواب سراج الدولہ کے حکم سے ہو رہی تھی۔ جب نواب صاحب نے قاسم بازار پر قبضہ کیا تھا تو جنگی سامان کے سوا کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا۔

کلکتے پر قبضہ کرنے کے بعد کلائیو فوج لے کر ہگلی پر چڑھ  دوڑا۔ وہاں نواب کی فوجی قوت کم تھی۔ وہاں 12 سے 18 جنوری سات دن تک جی بھر کے بے گناہوں کا خون بہایا، مال اسباب لوٹا اور آبادیوں کو آگ لگائی گئی۔ نواب نے ہگلی کے قریب پہنچ کر کلائیو کو پیغام بھیجا کہ تو نے میری رعایا پر ظلم کیا اس کے باوجود میں صلح کا ہاتھ بڑھاتا ہوں اور کمپنی کو پہلی رعایتیں دینے کو تیار ہوں۔ کلائیو نے اپنے دو نمائندے بظاہر تو بات چیت کے لئے بھیجے مگر ان کا اصل مقصد نواب کی فوجی طاقت اور پوشیدہ رازوں کا پتہ لگانا تھا۔

4 فروری کو کلائیو نے اسی خیمے پر حملہ کیا جہاں کمپنی کے جاسوسوں نے سراج الدولہ کو دیکھا تھا۔ مگر اتفاق سے وہ وہاں موجود نہ تھا۔ سراج الدولہ کے سپاہیوں نے ان کی اچھی مرمت کی۔ کلائیو نے محسوس کیا کہ میدان میں نواب کو شکست دینا نا ممکن ہے۔ 9 فروری 1757ء کو کمپنی اور سراج الدولہ کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا۔ کلائیو نے اس معاہدے کی خبر کمپنی کو دی۔ کمپنی نے نواب کے دبے ہوئے انداز کی بنا پر اسے مزید شہ دی۔ کمپنی کے خط کے جواب میں کلائیو نے لکھا کہ ابھی کیا بگڑا ہے، نواب سے بہت سی شرطیں منوائی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ نواب کے دربار میں ایک ایسا شخص مقرر کر دیا جائے جو نہایت ہوشیار ہو اور اس ملک کی زبان و معاشرت سے واقف ہو۔ اس کے ذریعے نئی شرطیں بھی منظور کروائی جا سکتی ہیں اور بہت سے خفیہ کاموں میں بھی اس سے مدد مل سکتی ہے۔

کلائیو نے اپنی مکاری کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نواب سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے دربار میں کمپنی کا ایک سفیر ہو جو کہ ہمارے درمیان رابطے کا ذریعہ ہو۔ نواب نے نہایت خوش دلی سے اس تجویز کو مان لیا کیونکہ وہ خون خرابہ نہیں چاہتا تھا۔ اجازت ملتے ہی کلائیو نے واٹس کواپنا سفیر بنا کر نواب کے دربار میں بھیج دیا۔ یہ وہی واٹس تھا جس کی نواب نے جاں بخشی کی تھی۔ واٹس نے بڑی آسانی سے سازشیوں کی ایک جماعت تیار کر لی۔ ان کا سرغنہ میر جعفر نواب کی فوجوں کا سپہ سالارتھا۔ اسے کلائیو نے سراج الدولہ کی جگہ نواب بنانے کا لالچ دیا۔

انگریز مصنف ژین لا لکھتا ہے: واٹس نے مرشد آباد میں رشوتوں اور جھوٹے وعدوں کا بازار گرم کر رکھا تھا، نواب کے تمام افسروں یہاں تک کہ خواجہ سراؤں تک کو انگریزوں کا طرف دار بنا دیا۔ سازش مکمل ہو چکی تو کلائیو نے معاہدے کی خلاف ورزی کر کے 23 مار چ کو چندر نگر پر حملے کا ارادہ کیا۔ یہ فرانسیسیوں کی بستی تھی۔ فرانسیسیوں کی شکایت پر نواب نے لکھا کہ ہمارے درمیان ابھی جو معاہدہ ہوا ہے کیا تم اسے توڑنا چاہتے ہو؟ احتجاج کے باوجود جب انگریزی جنگی جہازفرانسیسی کو ٹھیوں کے سامنے پہنچ گئے تو نواب نے پھر لکھا کہ ہمیں فرانسیسی وکیل نے اطلاع دی ہے کہ تمہارے پانچ یا چھ جنگی جہاز ہگلی میں آئے ہیں اور مزید آنے کی اطلاع ہے۔ اتنی سنجیدگی سے صلح کر کے فوراً ہی جنگ کر دینا کیا مناسب ہے؟

انگریز افسروں نے اس کا جواب بڑی بے رخی سے دیا۔ 26 اپریل کو واٹس نے کلائیو کو اطلاع دی کہ اس نے میر جعفر کو بھی غداری پر آمادہ کر لیا ہے۔ 4 جون کو واٹس ایک زنانی پالکی میں بیٹھ کر آدھی رات کے وقت میر جعفر کے محل میں گیا۔ اس سے عہد نامہ اور شرائط مکمل کرائیں۔ اس سازش میں میر جعفر کے علاوہ درلب رام، یار لطف خاں اور جگت سیٹھ وغیرہ شامل تھے، معاملات امی چند کے ذریعے طے ہوئے۔

جس نے انعام کے لالچ میں تھیلیوں کے منہ کھول دئے۔ ایواس لکھتا ہے: 12 جون کو میر جعفر اور دیگر غداروں نے اطلاع دی کہ وہ سب کام درست کر چکے ہیں۔ طے یہ ہوا کہ جب کلائیو اور نواب کی فوجیں آمنے سامنے ہوں گی تو نواب کی فوج نواب کو قتل کر دے گی اور انگریزی فوج آسانی سے قبضہ کر لے گی۔

منصوبہ کے مطابق انگریزی فوج مار دھاڑ کرتی آگے بڑھی تو نواب اس کو روکنے کے لئے اپنی فوج کو سامنے لے آیا اور23 مارچ 1757ء کوبھاگیرتی ندی کے کنارے جنگ ہوئی۔ نواب کی فوج کا بڑا حصہ میر جعفر، ڈرلب رام اور یار طف خاں کی زیر کمان تھا۔ عین وقت پر یہ الگ ہو گئے اور لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔ صرف مہاراجہ موہن لال، میر مدن اور فرانسیسی افسر سان فریز اپنی تھوڑی سی فوج کے ساتھ رہ گئے۔ مگر نواب کے ان جان نثار پروانوں نے اپنی جان پر کھیل بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ انگریزی فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

انگریزی فوج کے قدم اکھڑ چکے تھے۔ وہ ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبورہو گئی اور جان بچا کر بھاگنے کے لئے شام اترنے کا بیتابی سے انتظار کرنے لگی۔ اب انگریز جان بچانے کے لئے ایک ہارے ہوئے لشکر کی لڑائی لڑ رہے تھی۔ میر مدن اور موہن لال انگریزی توپ خانے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ یہ دیکھ کر کلائیو کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ وہ میر جعفر کے نمائندہ پر پھٹ پڑا۔ تمہارے آقا نے تو کہا تھا کہ سپہ سالار اور فوج سراج الدولہ سے بگڑ چکے ہیں اورلڑائی شروع ہوتے ہی اس کا کام تمام کر دیں گے مگر مجھے تو اس کے برعکس نظر آتا ہے۔

بدقسمتی سے اس دن سخت بارش ہوئی جس سے نواب کا سارا بارود بیکار ہو گیا۔ پھر بھی حملہ جاری رہا لیکن عین اس وقت جب میر مدن انگریزوں کے سر پر پہنچ چکا تھا، ایک گولے سے زخمی ہو کر شہید ہو گیا۔ میر مدن کی شہادت نے نواب کو دل شکستہ کر دیا۔
شام ہو چکی تھی مگر بہادر موہن لال برابر موت کی طرح انگریزوں کے سر پر مسلط تھا اور قریب تھا کہ قسمت کا فیصلہ ہو جائے کہ غدار میر جعفر نے نواب کو جنگ بند کرنے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ کل صبح جنگ شروع کریں گے اور اس کا لشکر اس میں شامل ہوگا۔ اس وقت لشکر واپس بلا لیا جائے۔ دوسری طرف انگریزوں کو لڑائی جاری رکھنے کی تاکید کر دی۔

اس وقت موہن لال انگریزوں سے گھمسان کی جنگ کر رہا تھا اور اس کا توپ خانہ قہر کی گولہ باری کر رہا تھا۔ سپاہیوں کی بندوقیں بارش کی طرح گولیاں برسا رہی تھیں۔ عین اس وقت اسے جنگ بند کر کے لوٹ آنے کا حکم ملا۔ اس نے جواب دیا یہ جنگ بند کرنے کا وقت نہیں، فیصلہ ہونے میں اب دیر نہیں ہے۔ اس جواب پر نواب نے پھر میر جعفر سے مشورہ کیا تو نواب نے پھر اسے جنگ بند کرنے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ کل وہ اپنا لشکر لے کر لڑائی میں شامل ہو گا۔ نواب کے بار بار احکامات بھیجنے پر بہادر موہن لال نے بادل نخواستہ اپنے سپاہیوں کو واپسی کا حکم دیا۔ واپس ہوتے سپاہیوں پرانگریز لشکر جو تاریکی سے فائدہ اٹھا کر بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا، پل پڑا اور جو جوان فتح کی لڑائی لڑ رہے تھے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دئے گئے۔ نواب سراج الدولہ اور راجہ موہن لال جیسے وطن پرستوں کوبہت اذیتیں دے دے کر قیمہ کیا اور شہر میں پھرایا گیا۔

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.