اس میں کیا شرم اگر شرم بھی کم رکھتے ہیں!

972

ایک دفعہ پھر جمہوریت کو درپیش خطرات کی تمام افواہیں دم توڑ گئیں اور لگاتار اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دوسری منتخب اسمبلی نے اپنی مدت پوری کر لی۔ ایک لولی، لنگڑی اور اپاہج جمہوریت ایک مضبوط آمریت سے کہیں بہتر ہے۔ وہ ناقص نظام جو عوام کی منشاء کے مطابق بنے اس نظام سے کہیں بہتر ہے جو کہ لوگوں کے حق کو ٹھوکر مار کر آئے۔ بلاشبہ مسائل ہیں، ان جمہوریوں کےپیدہ کردہ مسائل ہیں۔ لیکن ہماری بقاء و ترقی اسی میں ہے کہ نظام چلتا رہے۔ دنیا کا کوئی بھی نومولود نظام پیدائش کے ساتھ ہی پھل دینے نہیں لگ جاتا، اس امر کو ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک طویل ریاضت درکار ہوتی ہے۔ بس ہم لوگ عدم برداشت کے مارے ہوئے ذرا سی خرابی دیکھیں تو نظام لپیٹ دینے کے نعرے شروع کر دیتے ہیں۔ نظام کو وقت دیں، نظام ضرور چلے گا۔

ایک سیاسی بھونچال ضرور برپا ہے۔ ایک ہاہو کا عالم ہے، غیر یقینی صورتحال ہے۔ اسی عالم میں اگلا الیکشن 25 جولائی، 2018 کو ہونا قرار پایا ہے۔ ہر شخص کی زبان پر یہ ہی سوال ہے کہ اگلے الیکشنز ہو پائیں گے یا نہیں؟ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت ایک منتخب اسمبلی کی اپنی مدت پوری کرنے کے ساٹھ دن کے اندر انتخابات کروانا لازم ہے۔ انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں، ہر صورت۔ نہ اپنے وقت سے ایک دن پہلے نہ ایک دن بعد۔

بلوچستان حکومت ایک غیر آئینی قرارداد پاس کر چکی ہے، ایم کیو ایم بھی عدالت کے دروازے پر کھڑی ہے، پرویز خٹک الیکشن کمیشن کو خط لکھ چکے ہیں، تحریک انصاف اپنے ہی نامزد لوگوں کے نام اڑ ا رہی ہے، عدالت کاغذات نامزگی کلعدم قرار دے چکی ہیں اور عدالتیں حلقہ بندیوں کو کلعدم قرار دے رہی ہیں۔ یہ تمام صورتحال کو دیکھ کر خیال آتا ہے جیسے کوئی قوت انتخابات میں التواء چاہتی ہے۔ لیکن یہ قوت خلائی نہیں ہے، یہ سیاستدان ہی ہیں جو اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی جس کا خیال تھا کہ الیکٹورلز ان کی جماعت کا رخ کریں گے ان الیکٹورلز نے نے جمیعت کا رخ کر لیا ہے۔ اس لئے بی۔ اے۔ پی۔ کا خیال ہے کہ الیکشن طوالت کا شکار ہونے کی صورت میں الیکٹورلز ان کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ اسی لئے انہوں نے ایک قرار داد پاس کی جو مکمل طور پر غیر آئینی تھی۔

ایم۔ کیو۔ ایم سے تو گلہ ہی فضول ہے۔ جمہوریت کے خلاف سازش کا گلہ تو جمہوری جماعتوں سے کیا جاتا ہے۔ ایم۔ کیو۔ ایم جو کہ ڈکٹیٹر کے کاندھے پر یہاں تک پہنچی اس سے گلہ نامناسب ہے۔ ان کے ہر اقدام ان کی سیاسی ناپختگی کا مکمل طور پر عکاس ہے۔

پرویز خٹک الیکشن کمیشن کو ایک عجیب سا خط لکھ چکے ہیں جس کے مطابق وہ انتخابات میں التواء چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ فاٹا کے انتخابات بھی ساتھ ہوں کیوں کہ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے بعد اسمبلی کا ہجم بڑھ گیا ہے اور ان کے مطابق یہ سیاسی استحکام کو نقصان پہنچائے گا۔ سوال تو یہاں یہ بھی ہے ملک میں پہلے کون سا سیاسی استحکام ہے؟ ان کی اپنی جماعت نگران وزیرِ اعلیٰ پر اتفاق نہیں کرپا رہی۔ کبھی نام دیتے ہیں، کبھی واپس لے لیتے ہیں، کبھی کسی انتہاپسند کا نام پکڑا دیتے ہیں۔ کبھی کسی کو جماعت میں شامل کرتے ہیں کبھی نکال دیتے ہیں۔ دنیا جہاں کے لوٹے آپ نے جمع کر رکھے ہیں اور سیاسی استحکام کا نعرہ بھی آپ لگا رہے ہیں۔

اکتوبر2017ء میں منتخب اسمبلی نے ایک الیکشن بل پاس کیا۔ جس کے مطابق پارلیمان کے امیدوار کے لئے کاغذات نامزگی میں، مقدمات کی تفصیلات، بینک کے قرضوں کی تفصیل، دوہری شہریت اور غیر ملک پاسپورٹس کی تفصیل، غیرملکی دوروں اور اقاموں کی تفصیل، ذاتی اخراجات کی تفصیل، تین سال کے بھرے ہوئے ٹیکسوں کی تفصیل، تعلیم اور پیشے کی تفصیل اور ملکی و غیرملکی اثاثوں کی تفصیل جو کہ الیکشن 2013ء میں دینا لازمی تھیں، وہ اس بل میں حذف کر دی گئیں۔ جس سے عوام کو ان کے نمائندے کے بارے میں تفصیلات جاننے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔

ان کاغذات کے خلاف دسمبر 2017ء میں دنیا نیوز سے تعلق رکھنے والے حبیب اکرم عدالت چلے گئے۔ اور چھ ماہ بعد اس کا فیصلہ آ گیا۔ فیصلے میں ان کاغذاتِ نامزدگی کو کلعدم قرار دے دیا گیا۔ اس فیصلے کی آنے کی دیر تھی کہ ضرورت سے زیادہ جمہوریت پسند افراد نے اس فیصلے کو سازش قرار دینا شروع کر دیا اور ایک طوفانِ بدتمیزی تھا جو کہ برپا تھا۔ اسپیکر ایاز صادق بھی خوب گرجے برسے۔ دانشوروں نے بھی غصہ نکالا۔ سب کا نکتہ یہ ہی تھا، “فیصلہ اتنی تاخیر سے کیوں آیا ہے؟” ایاز صادق اپنی سابقہ حکومت سے یہ سوال کر لیتے تو کہیں بہتر رہتا۔ پیٹیشنر نے پہلی تین پیشیوں میں ہی دلائل مکمل کر لئے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریری طور پر یہ کہا کہ ہم ان کے دلائل سے متفق ہیں لیکن قانون سازی کا کام اسمبلی کا ہے۔ جس کے بعد عدالت لگاتار وفاقی حکومت کو طلب کرتی رہی مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ جس کے بعد 6 ماہ میں پہلی بار پانچ دن قبل اٹارنی جنرل نے جواب داخل کروایا۔ ان کے جواب داخل کروانے کے ساتھ ہی عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔

سوال یہاں عدالت سے نہیں حکومت سے بنتا ہے، وہ اتنے دن کیوں گونگی بہری بنی رہی۔ بغیر وفاق کا مؤقف سنے عدالت فیصلہ نہیں دے سکتی تھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ سینٹ کے الیکشنز بھی انہی کاغذاتِ نامزگی پر ہوئے تھے ان کا کیا بنے گا۔ سوال یہ بھی بجا ہے کہ انتخابات کے اعلان کے بعد اس قسم کے فیصلے سے گریز کیا جانا چاہئے تھا۔ جیسا کہ بھارت میں سپریم کورٹ کی ہدایات ہیں کوئی ہائی کورٹ اس انتخابات کے حوالے سے کسی قسم کا بھی فیصلہ صادر نہیں کریں گی۔ آج اسی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ہوئی اور عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا اور کہا لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیتے وقت بنیادی اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا۔

جہاں تک حلقہ بندیوں کو کلعدم قرار دینے کا تعلق ہے، تو وہی بات دوبارہ کی جائیگی کہ انتخابات کے اعلان کے بعد عدالتوں کے فیصلوں سے گریز کرنا چاہئے لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن مکمل طور پر الیکشن کروانے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ اگر 80 ضلعوں کے حلقے بھی کلعدم قرار دے دئیے جائیں تب بھی الیکشن کمیشن کے لئے انتخابات کا انعقاد کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ہمیں الیکشن کے معاملات میں ایران کی مثال کو سامنے رکھنا چاہئے جہاں مکمل پارلیمان تباہ ہو گئی تھی لیکن انتخابات اپنے وقت پر ہوئی تھے۔ دنیا میں تو نگران حکومتیں بھی نہیں ہوا کرتیں کیوں کہ ان کا الیکشن کمیشن ہی اتنا مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن شاید ہماری خوش قسمتی کے یہ دن ابھی نہیں آئے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ الیکشن آگے بھی ہو جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں، محض جمہوریت و پاکستان کے دشمن ہیں۔ انتخابات سے سیاسی استحکام مکمل طور پر نہ آئے لیکن کم از کم حالات میں بہتری ضرور آئے گی۔ ایک ہنگ پارلیمنٹ کے امکانات روشن ہیں تو ظاہر ہے کہ سیاسی گہما گہمی اور بڑھے گی۔ انتخابات وقت پر کروانے کے حوالے سے فوج اور عدلیہ آن پیج ہے۔ چیف جسٹس کہہ چکے ہیں انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور جنرل باجوہ بھی صحافیوں سے آف دا ریکارڈ ایک میٹنگ میں کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کے ساتھ ہماری ایک کمٹمنٹ ہے اور ہم اس کمٹمنٹ پر قائم رہیں گے۔ فوج کی ضرورت کہیں محسوس ہوئی تو فوج مکمل طور پر حاضر ہو گی۔ بابائے جمہوریت فرمایا کرتے تھے،

“جب جمہوریت کو کوئی خطرہ درکار ہوتو اس میں تھوڑی سی جمہوریت اور ڈال دو۔ خطرات دور ہو جائیں گے۔ جمہوریت کے خلاف سازش کا توڑ جمہوریت ہی ہے۔ “

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.