الیکشن 2018: عوام گمراہ ہونے کے لیے تیار رہے

1,747

الیکشن کی آمد آمد ہے اور سیاسی جماعتوں کی تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔ شیخ رشید صاحب جیسے کئی سیاست دانوں اور صحافیوں کی خواہش بھی پوری ہوچکی اور بالاخر مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

وطن عزیز میں طویل جدوجہد کے بعد پہلی بار جمہوریت کو دس سال مکمل ہوچکے ہیں اور اسمبلیوں کو اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد تحلیل کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی جانب سے جلد بازی میں غلطیوں کے ساتھ متفقہ طور پر نگران وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب بھی کردیا گیا ہے۔

سیاسی رہنما اپنی جماعت کی بقاء کے خاطر عوام کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ جس طرح پچھلے پانچ سالوں تک عوام اپنے منتخب کردہ رہنماؤں کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔

ان دنوں عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کروڑوں روپوں کی رقم ضائع کر کے میڈیا چینلز کی مدد سے اپنی جماعت کی شہرت کے لیے واشنگ پاؤڈر کی طرز پر اشتہارات بنائے جاتے ہیں جس میں اپنے واشنگ پاؤڈر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ایک بار ہمارا واشنگ پاؤڈر استعمال کریں کیونکہ یہ آپ کے ہر قسم کے مسائل کا خاتمہ کر کے آپ کی زندگی میں خوشیوں کی بہار لے آئے گا۔

تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں لاکھوں روپے کے اخراجات سے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے جلوس منعقد کرتی ہیں جس میں جلسہ گاہ بھرنے کے لیے عوام کی منت سماجت کی جاتی ہے۔ لیڈران ان جلسوں میں اپنے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے مظلومیت کا سہارا لیتے ہیں اور عوام کو ایک بار پھر گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان دنوں سیاسی رہنماء اپنے حلقے کی عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہمیں اسمبلیوں کی کرسیوں کے مزے کرنے کا موقع دیا تو ہم بھی تمہیں بھرپور مزے کروائیں گے۔

عوام کو گمراہ کرنے کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں الیکشن سے قبل ایک منشور بھی تیار کرتی ہیں۔ یہ منشور کئی صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے تمام جماعتیں مصروف عوام کے لیے چند الفاظ پر مشتمل چھوٹا منشور تیار کر لیتی ہیں۔ جیسے کہ،

پاکستان تحریک انصاف: نیا پاکستان، سو دن میں تبدیلی، ایک کروڑ نوکریاں۔

پاکستان پیپلزپارٹی: روٹی، کپڑا اور مکان۔

پاکستان مسلم لیگ نواز: روشن پاکستان، ووٹ کو عزت دو۔

ایم کیو ایم: مہاجروں کی محرومیاں ختم کی جائیں، مہاجر صوبہ بنایا جائے۔

مذہبی جماعتیں: ہم بنائیں گے حقیقی طور پر اسلامی پاکستان۔

دیکھنا یہ ہے کہ آئیندہ الیکشن میں کونسی جماعت عوام کو زیادہ گمراہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

عدنان احمد نے کامرس میں بیچیلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. moviesbelt.com کہتے ہیں

    kia behtrin bat kahi sir
    is bar wakai ek bar politicians ne ghuma k rakh de na

تبصرے بند ہیں.