کیا نگران وزیراعظم شفاف الیکشن کروا سکیں گے؟

822

پاکستان میں الیکشن 2018 سے پہلے نگران حکومت کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے متفقہ طور پر نگران وزراعظم کیلئے سابقہ چیف جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کے نام پر اتفاق کیا گیا۔ خیبر پختون خوا کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے جسٹس ناصر الملک کی اس وقت عمر 68 سال ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب بھی اسی طرح 65 سال سے زائد عمر کے افراد سے ہی کیا جائے گا۔ خیبر پختون خوا سے ہی تعلق رکھنے والے ایبٹ آباد سے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) سردار رضا خان ہیں، ان کی عمر بھی 73 سال ہے۔ یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ الیکشن کی انتہائی اہم ذمہ داری پاکستان کے ان عمر رسیدہ افراد کے کندھوں پر ڈالی جا رہی ہے۔ کیا پاکستان کے آئندہ 5 سال کی حکومت منتخب کرنے کیلئے شفاف الیکشن ان ریٹائرڈ بزرگوں سے ممکن ہو سکے گا؟

جسٹس ناصر الملک کے بطور چیف جسٹس نعرہ تھا کہ “انصاف ہونا چاہیئے، چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے” جبکہ ان کے فیصلے ان کے نعرہ کے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان ہوتے ہوئے الیکشن 2013 میں دھاندلی کے کیس میں سپریم کورٹ کے بنچ کے سربراہ کے طور پر جسٹس ناصر الملک نے کئی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ الیکشن 2013 میں الیکشن کمیشن ناکام رہا، الیکشن شفاف نہیں ہوئے لیکن کیوں کہ “منظم دھاندلی ” نہیں ہوئی اس لیے الیکشن 2013 کے کیس کو خارج کر دیا۔ ان کے منظم دھاندلی کی اصطلاح کو سوشل میڈیا پر بہت تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح جسٹس ناصر الملک نے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کیلئے دائر کی گئی درخواستوں کو بھی ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا۔ لاپتہ افراد کیس کو بھی عدالتی تاریخوں اور فائلوں کی نظر کر دیا گیا۔ 26 اپریل 2012 کو یوسف رضا گیلانی کو سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی وجہ سے وزیراعظم کے عہدے سے فارغ کیا گیا۔ وہ اصول ان کے بعد آنے والے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کیلئے نرم کر دیا گیا۔ انصاف کا نعرہ لگانے والے جسٹس ناصر الملک نے بطور چیف جسٹس کوئی سوموٹو ایکشن نہیں لیا حالانکہ ان کے دور میں سانحہ ماڈل جیسا حکومتی دہشت گردی کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اگر ناصر الملک اپنی ذمہ داری ادا کرتے تو 2014 میں ڈاکٹر طاہرالقادری کو طویل دھرنا نہ دینا پڑتا۔

موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار جن سے اس وقت پاکستانی عوام بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے، عوام کے بنیادی حقوق پر کئی ایکشن لے چکے ہیں۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ بھی ان کے دور میں کیا گیا۔ کسی بھی طرح کے مارشل لاء کا انکار کرتے ہوئے شفاف الیکشن کا وعدہ بھی عوام سے چیف جسٹس ثاقب نثار کر چکے ہیں۔ سابق اور موجودہ چیف جسٹس کے فیصلہ میں بہت واضح فرق نظر آتا ہے۔ ایک طرف ثاقب نثار بطور چیف جسٹس اور جسٹس جاوید اقبال بطور چیئرمین NAB کرپشن کے خلاف متحرک ہیں اور دوسری طرف جسٹس (ریٹائرڈ) ناصر الملک جن کے نزدیک دھاندلی صرف منظم ہو تو اس کو دھاندلی کہیں گے، جنہوں نے نوازشریف کے خلاف درخواست سننے سے ہی انکار کیا اور ان کو ناقابل سماعت کہہ کر مسترد کرتے رہے۔

ایسی صورت حال میں نگران وزیر اعظم کے طور پر ناصر الملک اور ثاقب نثار کے درمیان ٹکراؤ کے بغیر الیکشن ممکن ہوں گے؟ کیا ثاقب نثار کا شفاف الیکشن کا وعدہ ناصر الملک پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے؟ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر جن مشکلات کا شکار ہے ایسے میں شفاف الیکشن پاکستان کیلئے بہت ضروری ہیں۔ آزاد، منصفانہ الیکشن 2018 سے ہی مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    بہت خوب بروقت عمدہ تحریر

  2. moviesbelt.com کہتے ہیں

    kia bat kar di sir bohat sare secret bta dye aap ne to in k asliat khol di 😀

تبصرے بند ہیں.