الیکشن لڑنے کے لیے آئین میں تبدیلی نامنظور

1,032

گذشتہ دورِ حکومت میں کئی بار آئین و قانون کا مذاق اڑایا گیا۔ کبھی ختمِ نبوت کی شقوں میں رد و بدل کیا گیا تو کبھی معتبر اداروں کے خلاف زبان درازی کی گئی۔ کبھی پارلیمنٹ کے فلور سے پاک افواج کے خلاف زہر اگلا گیا تو کبھی اسی مقدس ایوان سے معزز ججز کو دھمکیاں دی گئیں مگر حیرت انگیز طور پر ایوان مقدس کا مقدس ہی رہا۔ گذشتہ دنوں مسلم لیگ ن جب اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے قریب تر تھی تو آئین پاکستان کے ساتھ ایک بار پھر کھلواڑ کرنے کی کوشش کی گئی۔

آئین پاکستان میں ایسی ترمیم کی منظوری دی گئی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ نئی آئینی ترمیم میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا جس کے مطابق جرائم پیشہ افراد بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ جھوٹا، بد دیانت اور یوٹیلیٹی بلز کا نادہندہ شحض بھی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور دوہری شہریت کے حامل شحض کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت ہوگی۔ قانون سے ایسا مذاق آج تک کسی دورِ حکومت میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس سارے معاملے کو کسی سیاسی پارٹی نے عدالت میں چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کی۔ یہاں تک اس پارٹی نے بھی نہیں جو ملک میں تبدیلی لانا چاہتی ہے اور نہ ہی اس نامور مذہبی جماعت کے لیڈر نے جو پانامہ کیس کی فتح کا سہرا خود ہی اپنے سر باندھتے دیکھائی دیا۔

پاکستان کی عوام کو نہ صرف حکومت کی طرف سے بے وقوف بنایا گیا بلکہ اپوزیشن پارٹیاں بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ میں اس واقعے کے بعد انتظار میں تھا کہ 5 سال ایوان میں بیٹھنے والی کسی سیاسی جماعت کی طرف سے اس مجرمانہ اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ مگر افسوس اتنی جرات کسی سیاسی پارٹی کو نہ ہوئی۔

سلام ہے دنیا نیوز کے ان دو سینئر صحافی حضرات کو جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اس ترمیم کو چیلنج کیا۔ نہ صرف یہ ہمت کی بلکہ اس کیس کی بذات خود پیروی بھی کرتے رہے۔ جس کا نتیجہ یکم جون کو عدالتی فیصلے کی صورت میں دیکھنے کو ملا جب “لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی مرضی سے فارم میں تبدیلی کا حق ہے، یہ وفاق کا کام نہیں ہے۔” دوران سماعت سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ وفاق قانون سازی کا اختیار رکھتا ہے۔ تاہم عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ تبدیلی کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن دہری شہریت پر معلومات لے سکتا ہے، دہری شہریت، فوجداری مقدمات میں ملوث افراد الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ اس سے پہلے پارلیمنٹ نے فارم میں تبدیلی کرکے قرضے، دیوانی و فوجداری مقدمات اوردہری شہریت سمیت بہت سی شقیں کاغذات نامزدگی کے فارم سے خارج کر دی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے ان تبدیلیوں کی مخالفت کی تھی لیکن اس کی بات نہیں مانی گئی۔ پارلیمنٹ اور وفاق کے اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ نئے انتخابی قوانین میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم میں تبدیلی آئین کے آرٹیکل 222 کی خلاف ورزی ہے”۔

اس کامیابی کا سہرا جناب سعد رسول اور حبیب اکرم صاحب کے سر سجا اور یہ کامیابی نہ صرف ان صحافی حضرات کی ہے بلکہ پوری قوم کی ہے۔ یہ کامیابی ان بزدل لیڈروں کی ہے یا نہیں جنہیں اس فیصلے کا خیر مقدم کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی ماسوائے چند ایک کے۔ اس کامیابی پر ملک سے باہر بیٹھے ڈاکٹر طاہرالقادری کا فیصلے کا بروقت خیرمقدم کرنا قابل ستائش ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت آنے والے الیکشن میں پاکستان کو دیانتدار قیادت نصیب فرمائے۔ آمین۔

حافظ محمد زبیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ کالم نگاری کا شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.