مذہبی منافرت سے میرا پہلا سامنا

1,444

سکول بس میں بیٹھ کر ہم گھر کی طرف روانہ ہوئے تو حسبِ معمول طعنہ زنی شروع ہو گئی۔

”سنو! تم نے اپنی پیشانی پر سرخ تلک کیوں نہیں لگایا؟ تم مسلمان بد بُو دار کچرے کا ڈھیر ہو۔“

میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو کاٹا، ”سرخ تلک ہندو لگاتے ہیں۔ میں مسلمان ہوں، اورہاں میں کچرے کا ڈھیر نہیں ہوں۔“

” شرط لگا لو! تم بد بو دار ہندو ہو لیکن چھپا رہے ہو۔“

میں نے اپنا سر جھٹکا اور اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں جانتا تھا وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی تضحیک مجھے پریشان کرنے کے لیے کر رہا ہے اور میں اپنی پریشانی ظاہر کر کے اسے تسکین فراہم نہیں کرنا چاہتا تھا۔

میں پانچویں گریڈ میں تھا اور میرے برابر میرا ہمسایہ مائیکل بیٹھا ہوا تھا جو پہلے گریڈ کا طالبعلم تھا۔ میرا چھوٹا بھائی احمد مجھ سے چند قطاریں چھوڑ کر بیٹھا تھا۔ مائیکل دیکھ رہا تھا کہ میں ان باتوں کی وجہ سے پریشان ہو رہا ہوں لیکن کم سِن ہونے کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سمجھ نہیں پایا اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔ اُس لڑکے کا طنز بدستور جاری رہا، وہ میرے ہی سکول میں پڑھتا تھا اورسکول میں اپنی غنڈہ گردی کے لئے جانا جاتا تھا۔

”اور تم اس نیولے جیسے چینے لڑکے کے ساتھ ہر وقت کیوں چپکے رہتے ہو؟“

میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ میں نے دانت پیستے ہوئے کہا،

”بکواس بند کرو، نالائق! کچھ شرم کرو۔ یہ پہلے گریڈ کا طالبعلم ہے۔ اسے تو بخش دو۔“

میں طیش میں آکر نجانے کیا کچھ کہہ گیا اور وہ یہی چاہتا تھا کہ میں غصے میں آ کے کچھ بولوں،

”اچھا جی!تم کیا بگاڑ لو گے میرا؟بدبو داراحمق ہندو!“ یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا۔

مائیکل میرے ساتھ والی سیٹ پر ہی بیٹھا تھا اور میں کھڑکی کی طرف۔ میں ڈر گیا۔ میں لڑنا ہر گز نہیں چاہتا تھا۔

“چلو، مائیکل! ہم آگے چلے جاتے ہیں۔ ویسے بھی تمھارا سٹاپ آنے ہی والا ہے۔”احمد نے ہمیں گزرنے کے لیے جگہ دی۔ مائیکل بھی فوراً اٹھا اور سیٹوں کے درمیانی راستے پر کھڑا ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ میں اُٹھتا، وہ لڑکا دوڑتا ہوا مائیکل کی طرف لپکا اور اسے پیچھے سے زور دار دھکا دے دیا۔ مائیکل منہ کے بل فرش پر جا گرا۔ میں تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔

”تم ٹھیک ہو، مائیکل؟“

مائیکل ہکا بکا تھا لیکن اسے کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی تھی۔ وہ ایک مضبوط بچہ تھا۔ اس نےاثبات میں سر ہلاتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹھیک ہے۔ اس کے چہرے پر خراشیں آئی تھیں۔ اس نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں کو چھلکنے سے روک لیا۔

“دیکھو تو۔۔۔یہ بدبودار احمق ہندو کیسے اس نیولے نما چینے لڑکے کی حمایت کر رہا ہے۔” اُس لڑکے نے اور قریب آتے ہوئے کہا تاکہ میں اس کی بات کو اچھی طرح سن سکوں۔ میں جوں ہی کھڑا ہوا تو اسے موقع مل گیا۔ اس نے مجھے بھی زور دار دھکا دیا اور میں مائیکل کے اوپر جا گرا۔ میں اور مائیکل بس کے فرش پر اوپر تلے پڑے تھے۔

اس کے بعد تو جیسے اندھیرا چھا گیا اور جو کچھ بھی ہوا مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔ پتہ نہیں میں نے اس موقع پر کیا پلان بنایا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میں اس لڑکے پر لپکا، ایک ہاتھ سے اس کو گلے سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے پے در پے زوردارمکّے رسید کیے۔ پھر مجھے اُس کا چلّانا یاد ہے اور چٹاخ کی وہ آوازیں بھی جو میرا مکا اُس کے جبڑے پر لگنے سے پیدا ہو رہی تھیں۔ مجھے وہ جوش، وہ غصہ اور بہتا ہوا خون بھی یاد ہے۔

یہ لڑائی تھوڑی دیر ہی جاری رہی۔ شاید چند سیکنڈ۔ خون کو دیکھ کر میں ڈر گیا۔ میں اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ وہ لڑکا ہچکیاں لینے لگا اور میری غیر متوقع جوابی کارروائی دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ وہ سہما ہوا تھا۔ شاید اسے ڈر تھا کہ میں ایک اور حملہ نہ کر دوں۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، مائیکل بت بنا کھڑا تھا اور احمد بھی بالکل چپ چاپ تھا۔بس رکی اور چاروں طرف خاموشی چھا گئی۔ میں ہکا بکا تھا۔ کسی کو توقع نہ تھی کہ میں ایسا بھی کر سکتا ہوں۔ میں نے جو کچھ کیا تھا اس پر میں خود بھی حیران تھا۔ میں غضب ناک اور غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔ اس سے قبل میں نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیا کروں؟

مجھے اس وقت یہی بات مناسب لگی کہ میں اپنا اور مائیکل کا بیگ اٹھا کر بس سےاتر جاؤں۔ مائیکل بھی میری پیروی میں بس سے اُتر گیا اور ہم دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ بس ڈرائیور ڈاٹی نے مجھے پیچھے سے آواز دی لیکن میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ وہ مجھے اس وقت سے جانتی تھی جب میں پہلے گریڈ میں تھا۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ بہت پیار اور ہمدردی سے پیش آتی۔ میں اس پر بھروسہ کرتا تھا۔ لیکن اس روز میں نے اس کی طرف بھی توجہ نہ دی بلکہ اس کے بلانے کے باوجود چلتا رہا۔ میں اور مائیکل خاموشی سے چلتے رہے۔ شاید وہ مجھے کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن بول نہیں پا رہا تھا۔

مائیکل کو اس کے گھر چھوڑنے کے بعد میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ پتہ نہیں، اب کیا ہوگا؟ مجھے اپنے کیے پر یقین نہیں آ رہا تھا۔

احمد بس میں ہی بیٹھا رہا اور مجھ سے پہلے گھر پہنچ گیا۔ جب میں گھر آیا تو باروچی خانے کے راستے ہال میں داخل ہوا اور وہاں سے سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اپنا بیگ کمرے کے ایک کونے میں پھینکا اور بیڈ پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ میں کس کا انتظار کر رہا تھا؟ مجھے معلوم نہیں تھا۔ لیکن میں اِتنا جانتا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے، اور جو بھی ہوگا اچھا نہیں ہو گا۔

اور پھر وہی ہوا۔ توقع کے عین مطابق، فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف اس لڑکے کا باپ تھا۔

”قاسم!“، ابو نے بیٹھک سے آواز دی۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ کیوں بلا رہے ہیں۔ میں اور میرا بھائی جب کبھی آپس میں لڑتے تو ہمیں خوب ڈانٹ پلائی جاتی تھی۔ کسی باہر کے لڑکے سے لڑائی؟ میری تو شامت آنے والی تھی۔ میرے اوسان خطا ہو گئے۔ یہ میں ہی جانتا ہوں کہ میں نے خوف اور اندیشوں سے بھرا یہ پیدل مارچ اپنے کمرے سے ہال تک اور پھر لوِنگ روم سے ہوتے ہوئے ابو کے سٹڈی روم تک کیسے کیا۔ ان کے تیور بتا رہے تھے کہ مجھے بیٹھنے کی اجازت نہیں بلکہ ان کے سامنے کھڑے رہنا ہے۔ انھوں نے سیدھا میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا،

”کیا ہوا تھا؟“

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات کہاں سے شروع کروں لہذا میرے ذہن میں جو بات سب سے پہلے آئی میں نے وہی کہہ دی،

”اس نے مجھے بدبو دار اور احمق ہندو کہہ کر پکارا تھا۔“

ابو میرے جواب سے مطمئن نہ ہوئے، ”اور اِس بات پر تمھیں اُسے مارنا چاہئیے تھا؟“

میں نے اصرار کیا، ”لیکن وہ کئی ہفتوں سے میرے پیچھے پڑا ہوا تھا۔“

میں رونا تو نہیں چاہتا تھا لیکن مجھے یاد ہے کہ میری آنکھیں بے اختیار برسنے لگیں۔

”اور اس بات پر تمھیں اسے مارنا چاہیئے تھا؟“ ابو کا لہجہ اب کرخت ہو رہا تھا۔ بار بار ایک ہی سوال میرے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا۔

”جی۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ میں نے تو اسےاس لیے مارا کیونکہ اس نے ہمیں دھکا دے کر گرا دیا تھا۔“ میں نے ڈبڈباتی آنکھوں سے ابو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

” ’ہمیں‘ سے تمھاری کیا مراد ہے ؟ کھل کر بتاؤ۔“میں نے خود کو سنبھالا اور اپنی بہتی ہوئی ناک رگڑتے ہوئے کہنے لگا،

”جی۔۔۔ میرا مطلب ہے مجھے اور مائیکل کو۔“

”مائیکل، ہمارا ہمسایوں کا بچہ؟“

”ہاں جی۔۔۔ وہ اسے برے ناموں سے بلا کر چھیڑ رہا تھا اور پھر دھکا دے کر نیچے گرا دیا۔وہ بے چارہ چھوٹا سا بچہ ہے۔“ میں نے پھر سے ناک رگڑتے ہوئے کہا۔

ابو نے تھوڑا توقف کیا اور پھر بولے، ”اچھا، تو اس نے تمھارا اور تمھارے مذہب کا مذاق اُڑایا اور ہمارے ہمسائے کو اور تمھیں دھکا دیا؟“

”جی ہاں!“

”ٹھیک ہے، جاؤ۔“

وہاں رک کر مزید تفصیل میں جانے کے بجائے میں کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر آکر میں نے اپنے ابو کو اس لڑکے کے باپ کو فون کرتے سنا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے آواز آئی، ”کوئی پریشانی کی بات نہیں، معافی تلافی کی بھی ضرورت نہیں، بچے جو ہوئے، بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے۔“

”قاسم! باہر کھڑے ہو کر باتیں سننے سے بہتر ہے تم اندر آجاؤ۔“

میں نے شرماتے ہوئے دروازہ کھولا اور دوبارہ کمرے کے اندر آگیا۔ اب کی بار کھڑے رہنے کے بجائے میں وہاں بیٹھ گیا۔ ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ اب میں نے رونا بند کر دیا تھا۔ آخر میں بولا،

”کیا میرے لیے کوئی مسئلہ ہے؟“

ابو نے نفی میں سر ہلایا۔

”تو پھر۔۔۔؟“

ابو نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، ”دیکھو، بیٹا! میں تمھیں کبھی ایسا نہیں کہوں گا کہ اپنا یا اپنے دوست کا دفاع کرنا غلط ہے۔ مجھے خوشی ہےکہ تم نے کسی ایسے انسان کا ساتھ دیا جو اپنا دفاع نہیں کر سکتا تھا۔“

مجھے معلوم تھا ابو کی اس ساری بات کو ایک ’لیکن‘ نیا رخ دے دے گا۔

”لیکن تمھیں یہ بات سیکھنی ہو گی کہ زندگی میں بعض اوقات لوگ تمھارے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کریں گے۔ یہ زندگی کا حصہ ہے۔“

میں نے وہی سوال کیا جو اس موقع پر ایک دس سالہ بچہ پوچھ سکتا تھا۔

”کیوں؟“

”کیونکہ لوگ ایسی باتوں سے ڈرتے ہیں جنھیں وہ سمجھ نہیں پاتے۔“

”تو ہم انھیں سمجھا بھی تو سکتے ہیں۔“

”ہم انھیں سمجھا سکتے ہیں، بیٹا! لیکن مار پیٹ سے نہیں۔ ہم کبھی بھی کسی کو مکّا مار کر بات نہیں سمجھا سکتے۔“

میں تھوڑی دیر خاموش رہا اور سر جھکا کر سوچنے لگا کہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔

”لیکن کیسے؟ میں نے اسے کتنا روکا مگر وہ باز نہیں آیا۔ وہ کئی ہفتوں سے میرے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا اور دھونس جما رہا تھا۔ میں اور کیا کرتا؟“

”تم اس کا دل جیتنے کی کوشش کرتے۔“

”کیا مطلب۔۔۔؟“ میں نے منہ پھلاتے ہوئے حیرت سے کہا۔ مجھے یہ جواب پسند نہیں آیا تھا۔ مجھے یہ بات خوشامدی سی لگی اور پوری طرح سمجھ بھی نہ آئی۔

”ابو! مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔“

”سمجھ آ جائے گی۔ پہلے جاؤ، جا کر اپنا ہوم ورک کرو۔“

”لیکن۔۔۔“

”اب جاؤ اس سے پہلے کہ میں اپنا ارادہ بدل لوں۔“

میں خاموشی سے اٹھا اور اپنا سر ہاں میں ہلاتا ہوا وہا ں سے چلا آیا۔

لڑائی کے دوران جو کچھ ہوا، پھراس لڑکے کے باپ کا فون اور اس کے بعد کسی مصیبت میں پڑنے سے بچ جانا۔۔۔ ان سب باتوں کو میں پوری طرح سمجھ نہ پایا۔ البتہ مجھے دو باتیں بہت اچھی طرح سمجھ آ گئیں۔ پہلی یہ کہ میرے ابو کا نقطۂ نظر بالکل غلط تھا۔ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ میں نے اس غنڈے سے جان چھڑانے کی کتنی کوشش کی اور یہ لڑائی کتنے عرصے تک ٹالے رکھی۔ وہ بالکل نہیں جانتے تھے کہ میرا اصل مدعا کیا تھا، اور نہ ہی میں اُن کی بات پوری طرح سمجھ سکا تھا۔ سچ تو یہ ہے مجھے اُن کی بات سمجھنے میں کئی سال لگ گئے۔

دوسری یہ کہ میرے ساتھ غنڈہ گردی کی گئی تھی۔ مجھ پر میرے مذہب کی بنیاد پر کیا جانے والا یہ پہلا حملہ تھا اور یقیناً یہ آخری حملہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لڑکے کو اسلام تو دور، اپنے عقیدے کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں تھا۔ لیکن وہ ایک بات ضرور جانتا تھا۔۔۔کہ میں اس سے مختلف تھا اور یہ بات اس کے لیے کافی تھی کہ اس بنیاد پر وہ میری تحقیر اور ملامت کرے۔ حیرت کی بات ہے کہ جب کبھی بھی میرے مذہب کی بنیاد پر مجھ سے امتیاز برتا گیا، امتیاز برتنے والے لوگ میرے اور اپنے عقیدے کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے تھے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہالت عمر، جنس، مذہب، تہذیب، سب کو مات دے دیتی ہے۔

بظاہر یہ بات معمولی لگتی ہے کہ دس سال کے معصوم بچے اپنے ساتھی بچوں کے مذہب کا مذاق اڑائیں لیکن دیکھا جائے تو کل ان کی یہی معصومیت کچھ اور رنگ بھی دکھا سکتی ہے۔ اسی ذہنیت کے ساتھ پروان چڑھنے والے یہ بچے چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر مذہبی رہنما، سیاسی قائد یا ایسے آمر بن سکتے ہیں جو اپنے سے مختلف عقائد کے حامل افراد کے لیے موت کے پروانے جاری کرنے والے ہوں! ایسا سب کچھ ہونے کے لیے کسی مدت کا تعین تو نہیں کیا جاسکتا البتہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ایسی ذہنیت کو پروان چڑھانے کے پیچھے مذہب سے زیادہ جہالت اور بدتہذیبی کےعناصر ہی کار فرما ہوتے ہیں۔


نوٹ: مندرجہ بالا مضمون مصنف کی پہلی کتاب The Wrong Kind of Muslim سے اخذ کر کے دنیا بلاگز کے قارئین کے لئے اردو میں ڈھالا گیا ہے۔

قاسم رشید پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ قاسم نے جیورس ڈاکٹریٹ کی ڈگری یونیورسٹی آف رچمنڈ، سکول آف لاء سے حاصل کی۔ وا شنگٹن ڈی سی، امریکہ میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں۔ انسانی حقوق، خصوصاً اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ انٹرنیشنل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا ایک معروف نام ہیں اور اب تک تین کتب تحریر کر چکے ہیں۔انہیں @MuslimIQ
پر فالو کیا جاسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.