جنسی ہراسانی: آپ تب کیوں نہیں بولیں؟

2,419

گذشتہ برس اکتوبر میں امریکی اداکارہ الیسا میلانو نے جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی خواتین کو می ٹو کے ساتھ ان کی ٹویٹ کا جواب دینے کا کہا تاکہ دنیا کو اس مسئلے کی شدت کا اندازہ دلوایا جا سکے۔ ان کے ٹویٹ کرنے کی دیر تھی کہ ہیش ٹیگ می ٹو ٹرینڈ کرنے لگا۔ برسوں سے سلے ہوئے منہ جب کھلے تو پتہ لگا کہ جنسی ہراسانی کتنا سنگین مسئلہ ہے۔ الیسا کی یہ ٹویٹ اب تک 24480 دفعہ ری ٹویٹ ہو چکی ہے اور تقریباً اڑسٹھ ہزار لوگوں نے اس ٹویٹ کا جواب دیا ہے۔

یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ ان لوگوں کو بہت سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ پھر بھی بولے کہ اب بولنا لازم تھا۔

ہیش ٹیگ می ٹو پوری دنیا سے سفر کرتے ہوئے اب پاکستان میں آ پہنچا ہے۔ یہاں بھی اس کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا ہے جو باقی دنیا میں ہوا ہے۔ آپ می ٹو کے ساتھ ٹویٹ کریں تو درج ذیل اعتراضات آپ کو سننے کو ملیں گے۔

  1. آپ تب کیوں نہیں بولیں؟
  2. سوشل میڈیا پر بولنے کا کیا مقصد ہے؟
  3. آپ کے پاس ثبوت کیا ہے؟
  4. آپ نے ہی جنسی ہراسانی کی دعوت دی ہوگی۔
  5. آپ نے کپڑے کیسے پہنے تھے؟
  6. آپ وہاں گئی ہی کیوں تھیں؟
  7. مردوں کو دعوت دیتے کپڑے پہنو گی تو ایسا تو ہوگا ہی۔

پاکستان کے تناظر میں درج ذیل اعتراضات کا اضافہ کرلیں۔

  1. اسی لیے اسلام نے عورت کو بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔
  2. یہ مغربی لباس پہننے کا نتیجہ ہے۔
  3. شریف گھروں کی عورتیں ایسے سوشل میڈیا پر اس بارے میں بات نہیں کرتیں۔
  4. مرد و زن کا اختلاط ہوگا تو ایسے ہی ہوگا۔

یہی سب اعتراضات میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد لگائے گئے تھے اور یہی سب اعتراضات اب ان لڑکیوں پر اٹھائے جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے بورڈ امتحان کے نگران امتحان سعادت بشیر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔

دو روز قبل بحریہ ماڈل کالج اسلام آباد کی ایک طالبہ نے فیس بک پر بیالوجی کے پریکٹیکل امتحان کے نگران پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے اپنی اس پوسٹ میں بتایا کہ نگران امتحان پریکٹیکل کے دوران لڑکیوں کو جنسی اور زبانی طور پر ہراساں کرتے رہے۔ انہوں نے تقریباً تمام لڑکیوں کو نامناسب انداز میں چھوا۔

ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق نگران امتحان سعادت بشیر کا کہنا ہے کہ یہ ان کے خلاف ایک سازش ہے۔ ان کا رویہ سخت تھا۔ پورے نمبر نہ دینے کی وجہ سے ان کے خلاف سوچی سمجھی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہو سکتا ہے وہ کچھ لڑکیوں کے ساتھ ٹکرا گئے ہوں کہ وہاں اسی طالبات تھیں۔ اخباری رپورٹس کے مطابق ماضی میں بھی سعادت بشیر پر طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا تھا۔ مناسب ثبوت نہ ہونے کے بائث انکوائری ختم کر دی گئی تھی۔ سعادت بشیر اس الزام کو بھی اپنے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہیں۔

اس طالبہ کی پوسٹ وائرل ہونے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا اعتراضین اپنے اپنے اعتراضات کی پوٹلی لے کر اس پوسٹ پر پہنچ گئے۔ کسی نے لڑکیوں کے لباس کو قصور وار ٹھہرایا تو کسی نے کہا کہ سب لڑکیاں چپ چاپ برداشت کیوں کرتی رہیں؟ کسی نے کہا کہ لڑکیوں کے پریکٹیکل امتحان کے لیے خاتون نگران ہونی چاہئیے تھی تو کسی نے کہا کہ ان لبرل لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا۔

جنسی ہراسانی یا جنسی استحصال کسی جنس یا کم و زیادہ تعداد کی وجہ سے نہیں بلکہ طاقت میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ طاقت والا اپنے سے کم طاقت رکھنے والے کا استحصال کرنے کی حالت میں ہوتا ہے۔ کمرہ امتحان میں نگران کے پاس زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ اگر امتحان بورڈ کا ہو تو یہ طاقت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بورڈ کے امتحان سب سے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔ طالب علموں سے زیادہ والدین کو ان امتحان کی فکر ہوتی ہے۔

پریکٹیکل امتحان کی بات کریں تو اس میں نگران زیادہ طاقتور اس لیے ہوتا ہے کہ اس نے پریکٹیکل کاپی اور وائیوا کے نمبر خود دینے ہوتے ہیں۔ وہ جتنے مرضی نمبر لگا دے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اس حالت میں اگر نگران طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر رہا ہو تو وہ کیا کر سکتی ہیں؟ پہلے تو وہ شاک کی کیفیت میں چلی جائیں گی۔ وہ ایک برا لمس تھا جو ان سب نے محسوس کیا لیکن اپنے احساسات وہ عدالت میں پیش نہیں کر سکتیں۔ اگر بولیں تو نگران آگے سے کہے گا، میں نے کیا کیا ہے؟ اسے کیا کہا جائے؟ وقت بھی گزر رہا ہے، مستقبل کا بھی سوال ہے، دیگر ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑے ہیں، ذرا سی آواز پر پیپر کینسل ہو سکتا ہے، ایک بولے تو باقی بھی ساتھ دیں گے، اس کی کیا گارنٹی ہے؟ اگر سب بول بھی پڑیں تو امتحان رک جائے گا مگر گھڑی چلتی رہے گی، مقررہ وقت کے بعد وہ امتحان نہیں دے سکیں گی کہ بورڈ کے معاملات ایسے ہی ہیں۔ اس دبائو میں وہ کیسے آواز بلند کرتیں؟

پاکستان میں جنسی ہراسانی کا مسئلہ اتنا عام ہے کہ اسے مسئلہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ جنسی ہراسانی کا شکارلوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے اس بارے میں بات ہی نہیں کرتا۔ جو اس بارے میں بات کرتا ہے اسے چپ کروا دیا جاتا ہے کہ اسی میں عزت ہے۔ اسی چپ کروانے نے ان بھیڑیوں کو مزید شہہ دی ہے۔ اس کمرہ امتحان میں بھی ایک ٹیچر موجود تھی جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی طالبات کو چپ رہنے پر مجبور کر رہی تھی کہ اس کے نزدیک اس مسئلے کا بہترین حل یہی تھا۔

سعادت بشیر کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن اگر وہ قصور وار ثابت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس ٹیچر کو بھی برابر کی سزا ملنی چاہئیے۔ اس کے پاس طاقت تھی، وہ سعادت بشیر کو روک سکتی تھی، پرنسپل کو بلا سکتی تھی، بورڈ کے دفتر فون کر سکتی تھی مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وہ طالبات کو چپ رہنے پر مجبور کرتی رہی کہ یہاں عورت کا یہی کام ہے۔۔۔ چپ رہنا اور سب کچھ برداشت کرنا۔

اس کے علاوہ فیڈرل بورڈ کو ان تمام طالبات کا دوبارہ سے پریکٹیکل امتحان منعقد کروانا چاہئیے تاکہ اگر نگران امتحان سعادت بشیر نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے تو اس سے ان کا مستقبل تاریک نہ ہو۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

13 تبصرے

  1. طارق کہتے ہیں

    بلکل صحیح کہا.
    یہ طاقت کے عدم توازن کا مسئلہ ہے جسے مذہب کے روایتی تصور نے اور بھی زیادہ سنگین بنا دیا ہے

  2. ثمن نواز ملک کہتے ہیں

    انتہائی حیرت کی بات ہے۔۔۔۔ تھوڑا سوچے سمجھے بغیر ہی حائق جانے بنا ہی یہ الزام در الزام آگے پہنچادیا۔۔۔جس آئی ۔ ڈی سے پوسٹ کیا گیا ہے۔۔۔وہ ہی دیکھ لی ہوتی۔۔تھوڑا دوسرے کا موقف ہی لے لیا ہوتا؟؟ یہاں جس کا جی چاہتا ہے۔۔۔ایک پوسٹ کرتا ہے۔۔۔ا۔و۔ر کوئی ثبوت بھی نہ پوچھے؟؟ حیرت ہے؟؟؟ میشا شفیع اب کہا ں ہے۔۔۔۔؟؟؟ اپنے الزام کو ثابت کیوں نہیں کررہی؟؟ کورٹ ، پولیس کے پاس کیوں نہیں جارہی؟؟؟ کیا وہ بھی کمزور ہے۔۔؟؟ یہ بحریہ کالج ہے۔جہاں کی طالبات کمزور نہیں!!! طاقتور اداروں کے افسران کی بچیاں ہیں؟؟ کم از کم ملزم سے کا موقف ہی لے لو۔۔اسے درندہ ثابت کرنے سے پہلے!!

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      کس نے کہا کہ ان کا موقف نہیں لیا جانا چاہئیے؟ انکوائری کمیٹی بن گئی ہے۔ تحقیقات ہوں گی۔ اگر جرم ثابت ہوا تو سزا بھی ہونی چاہئیے۔

      1. kifayat کہتے ہیں

        بی بی بہت شور سن لیا کہ جنسی ہراسگی ہوتی ہے. صرف یہی ڈھول پیٹنا بینڈ کریں اور یہ بتائیں کہ اس کا حل کیا ہے؟ جنسی تو پر ہراساں ہونے سے خواتین کیسے بچ سکتی ہیں؟ بس یہ بتائیں باقی حقایق اور واقعات بہت ہیں ان کو دہرانے کا فایدہ کوئی نہیں. حل کی طرف آئین اور ہمیں حل بتائیں اس کا

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          سر حل بھی پتہ لگ جائے گا آپ کو۔ بلاگز پڑھتے رہیں۔

  3. عبدالباسط کہتے ہیں

    ہراسگی کا مسئلہ واقعی بہت حساس ہے اور اس کی ہر طرح سے روک تھام بھی ہونی چاہیے اور متاثرہ فرد کو انصاف بھی ملنا چاہیےـ اس مسئلے کی روک تھام تو مغرب میں بھی نہیں ہو سک رہی جہاں قانون کی عملداری زیادہ ہے تو اس کا حل تو پھر اسلام کے اصولوں پر عمل کرنا ہی رہ جاتا ہے جس سے مصنفہ کو چڑ ہے ـ اس جرم کو ثابت کرنے کے لیے کیا ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے؟؟یہ طے کرنا آسان بات نہیں سو اس جرم میں کسی کو مجرم ثابت کرنا کافی مشکل ہےتو اس مسئلے کا بہتر حل تو ان عوامل کی روک تھام ہے جو اس کا باعث بنتے ہیں ـ جہاں تک کالج والا معاملہ ہے پریکٹیکل امتحان لینے ممتحن دوسرے کالج سے آتے ہیں اور دوران امتحان ممتحن کے ساتھ مقامی عملہ بھی شریک ہوتا ہےـ تو یہ محل نظر لگتا ہے کہ ممتحن یہ کرتوت گھولتا رہا اور کالج انتظامیہ سوئی رہی ـ اگر یہ جرم ثابت ہو جائے تو مجرم کے ساتھ اس کالج کے پرنسپل کو بھی سخت ترین سزا دینی چاہیے ـ اس طرح کے مسائل کی روک تھام میں متعلقہ ادارہ کے سربراہ کا رول بہت اہم ہوتا ہے ـ جس ادارہ کا سربراہ ان معاملات میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھے وہاں ان چیزوں کو روکنا مشکل نہیں ـ باقی یہ کہنا کہ”پاکستان میں جنسی ہراسانی کا مسئلہ اتنا عام ہے کہ اسے مسئلہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔” بے تکی بات ہے اور سارے پاکستانیوں کو گالی دینے کے مترادف ہے ـ آپ کے اگر کوئی ذاتی مسائل ہیں تو دنیا نیوز کی انتظامیہ کو آپ کے مسائل حل کرنے چاہئیں ـ لیکن آپ کو سارے پاکستانی عوام کو گالی دینے کا کوئی حق نہیں ـ پتا نہیں اس طرح کی بات کیسے شائع کر دی گئی ـ اس ژاژ خائی پر آپ کو اور دنیا نیوز کو معذرت کرنی چاہیے ـ

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      تھوڑی مزید رہنمائی فرمائیں کہ اسلامی طرز زندگی سے کیسے جنسی ہراسانی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟

      1. kifayat کہتے ہیں

        اگر آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اسلامی طرز زندگی سے جنسی ہراسگی کیسی ختم ہوتی ہے تو پھر آپ کو لکھنے کی نہیں پڑھنے کی ضرورت ہے. اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں نے پوری زندگی میں ایک بھی کتاب مکمل نہیں پڑھی ہوتی وہ بھی بلاگ لکھ رہے ہوتے ہیں. وہ چند فلموں اور ڈراموں اور کچھ بہکی ہوئی شخصیت سے تعلیم حاصل کر کےہی عقل کل بن جاتے ہیں.

        1. تحریم عظیم کہتے ہیں

          سر اگر اسلامی طرز زندگی جنسی ہراسانی کا خاتمہ کر سکتی ہوتی تو تمام مسلمان ممالک میں جنسی ہراسانی کے واقعات نہ ہوتے۔ کبھی برقع پہن کر زنانہ چال چلتے ہوئے کسی مسلم ملک کے بازار یا سڑک پر ہی چلنا شروع کر دیجئٰے گا۔ آپ خود دیکھ لیں گے کہ آپ کے مسلمان بھائٰ آپ کا جسم کیسے ٹٹول رہے ہوں گے

  4. عدنان کہتے ہیں

    تحریم باجی، میری چھٹی ہنس کہ رہی ہے کہ جلد وہ دن بھی آنے والا ہے کہ آپ خواتین کی محنت سے ہمارے معاشرے میں خواتین اتنی مضبوط ہوجائیں گی کہ مردوں کو بھی MeToo کی طرز پر ایک کمپینگ شروع کرنے پڑے گی۔

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      می ٹو کیمپین صرف عورتوں کے لیے نہیں ہے، یہ ہر اس جنس کے لیے ہے جسے جنسی ہراسانی کی کسی بھی قسم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

      1. Awais Ahmad کہتے ہیں

        ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں نے اس موضوع پر دو تین مضامین لکھے تو اکثریت نے انہیں من گھڑت قرار دے دیا تھا۔ بلکہ آمنہ مفتی صاحبہ نے تو باقاعدہ چسکے باز ہی قرار دے دیا تھا مجھے۔

  5. Saqib کہتے ہیں

    Arguments r there but saadat should also be scrutinized before blaming.might be a blame because practical was involved.

تبصرے بند ہیں.