قانون کی باڑ اور معاشرتی امن

680

ہم نے ایک زمانے تک اپنے پہاڑی علاقوں میں قدرتی چشموں پر کانٹے دار جھاڑیاں رکھی دیکھی ہیں جنہیں چشموں کے اوپر سے ہٹا کر خواتین پانی بھرتیں اور پھر دوبارہ ان جھاڑیوں کو ان چشموں پر واپس رکھ دیتیں۔

بچپن میں تو یہ راز سمجھ نہ آتا کہ ہمارے بزرگوں کا یہ کیا طریقہ ہے کہ پانی کے کھلے چشموں کے منہ کانٹے دار جھاڑیوں سے بند کر دیتے مگر وقت کے ساتھ ساتھ آج پتہ چل رہا ہے کہ وہ قانون تھا جس کے تحت نجس جانوروں کو ان پاک صاف چشموں میں منہ مارنے سے روکنے کے لئے قانون کی یہ آڑ اور رکاوٹ کھڑی کی جاتی تاکہ کوئی جنگلی نجس جانور اس پانی میں منہ مار کر اس کی پاکی کو خراب نہ کرے۔

پھر یہ بھی سالوں تک دیکھا کہ کھیتوں میں فصلوں کو مال مویشی اور جنگلی جانوروں سے بچانے کے لئے کھیتوں کے ارد گرد اسی طرح کانٹے دار جھاڑیوں کی باڑ کھڑی کی جاتی جیسے پانی کے چشموں کو جھاڑیوں سے ڈھانپا جاتا تاکہ فصل جانوروں سے محفوظ رہے۔

ہماری دیہاتی زندگی نے قومی زندگی اور بندوبستی ریاست کو ایک دیسی اصول دیا کہ اگر معاشرے کو نقصان اور افراتفری سے بچانا ہے تو معاشرے کے صاف و شفاف پانی کے چشمے کو نجس جانوروں کی پہنچ سے محفوظ رکھنا ہوگا۔

اپنے معاشرے کی کھیتی کو جانوروں کے روندنے سے بچانا ہے تو اپنے معاشرے کے گرد قانون کی باڑ کھڑی کر دو تاکہ کوئی حوارہ بدچلن، بدقماش، بدکردار، کرپٹ اور جرائم پیشہ معاشرتی جانور تمھارے معاشرتی امن و سکون اور تمھارے پرامن بھائی چارے کو سبوتاژ نہ کر سکے اور معاشرے کی یہ فصل پھل آور رہے اور قومی زندگی کا یہ چشمہ اپنی خالصیت کے ساتھ ساتھ پاکیزگی و طہارت برقرار رکھ سکے۔

پاکستان جو ایک آزاد ریاست ہے جس میں قانون و آئین کی باڑ تو موجودہ ہے مگر ایک بندوبستی ریاست ہونے کے باوجود چھوٹے موٹے جرائم پیشہ افراد کے لئے تو یہاں قانون باڑ کا کام دے رہا ہے مگر بڑے بڑے بدمست خونخوار درندے ملک قوم کو لوٹ کر، عیش و عشرت کے ساتھ قومی خزانے کی لوٹ مار سے لے کر انسانی زندگیوں کی پامالی تک کے لئے آزاد ہیں۔

کرپشن لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے باوجود یہاں نواز، زرداری جیسے بڑے اور طاقتور لوگ قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔

قانون کسی مزدور، کسی ریڑھی بان کسی کمزور کو تو اپنی آنکھیں دکھاتا ہے مگر کوئی سیاستدان کوئی جج کوئی جنرل کوئی بیوروکریٹ قانون کی اس باڑ کو تسلیم کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہر بڑا کرپٹ چور ڈاکو اور قاتل اس باڑ کو روندتے ہوئے گزر جاتا ہے۔

مگر قانون اس کے ہاتھ روکنے سے معذور نظر آتا ہے معاشرتی امن تب ہی تباہ ہوتا ہے جب قانون کی باڑ کتے، بلی، مرغی، چوزے کے لئے تو ہو مگر بڑی جسامت کے جانور اور درندے، ہاتھی گائے بیل وغیرہ اس باڑ کو روندتے ہوئے گزر جائیں تو فصلوں کی تبائی یقینی ہے۔

اعتدال پسندی اور انصاف پر مبنی معاشرے ہی پھلتے پھولتے ہیں۔ اگر قانون میں لچک نہ ہو تو بھی معاشرے بگڑ جاتے ہیں اور بغاوت کا خدشہ رہتا ہے۔

جیسے آپ دیہات کے ان پانی کے چشموں کو کسی ٹھوس شے سے بند کر کے چشمے میں ہوا اور روشنی کے گزرنے کی جگہ نہیں چھوڑتے تو وہ صاف شفاف پانی کا چشمہ تعفن ذدہ ہو کر ناقابل استعمال ہو جاتا ہے ویسے ہی بے جا سختی بھی معاشرتی تعفن کا باعث بنتی ہے۔

پس کوئی بھی معاشرہ آئین و قانون کی پاسداری کے بغیر اپنے نظم و نسق اور اپنی بقاء و سلامتی کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ہمیں ریاست سے گلی اور محلے تک اپنے کچھ اصول اور قوائد و ضوابط طے کرنے ہونگے تاکہ ہمارا آج کا یہ منتشر معاشرہ ایک قومی وحدت کا عکاس معاشرہ بن سکے۔

محمد جاوید قریشی ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ لیبریونین سے وابستہ ہیں اور سوشل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. طاہر عباسی کہتے ہیں

    بہت اعلی تحریر ہے اسی تحریری۔ وقت کی ںرورت ہیں کیوں کہ اس وقت ملک خداداد پاکستان میں لا قانونیت بہت ہے قانون ایسا مکھڑی کا جالا بنا ہوا ہے جس میں چھوٹے جرم کرنے والے تو پھنس جاتے ہیں اور بڑے مگھر مچھ نواز شریف زارداری جیسے جرائم پیشہ لوگ اس کو تت
    توڑ کو نکل جاتے ہیں۔

  2. حمزہ کہتے ہیں

    .

تبصرے بند ہیں.