غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لئے فلسطینی سمندر میں کود پڑے

1,557

غزہ، اسرائیل اور بحیرہ روم کے درمیان، ایک چھوٹی سی پٹی ہے، جو صرف 25 میل لمبی ہے اور ساڑھے سات میل چوڑی ہے۔ 141 مربع میل کی اس پٹی میں 20 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جو قیدیوں کی طرح محصور ہیں۔ انہیں نہ تو ساٹھ میل دور رام اللہ میں فلسطینی انتظامہ جانے کی اجازت ہے اور نہ جنوب میں رفاہ کی سرحد پار مصرجانے کی اجازت ہے۔

2007 سے جب انتخابات میں فتح مند حماس بر سر اقتدار آئی ہے، اسرائیل نے اس چھوٹی سے پٹی کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل کی سرحد پر تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، حتی کہ مسمار شدہ عمارتوں کی مرمت اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لئے سیمنٹ بھی غزہ میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے، نتیجہ یہ کہ اسرائیل کی بمباری سے کھنڈر بننے والی عمارتیں غزہ کی بے بسی کی نشان بنی کھڑی ہیں۔

gaza strip

beit hanoun area of gaza after   israeli  bombing  of 2014

غزہ کے فلسطینیوں نے اس محاصرے کو توڑنے کے لئے بحیرہ روم کے ساحل تک سرنگیں کھودی تھیں لیکن اسرائیلی فضائیہ نے ان کے دہانوں پر بمباری کر کے یہ راستہ بھی بند کر دیا۔
2008 میں اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے خلاف جارحیت کی تیاریاں کر رہی ہے اور پھرغزہ پر بھر پور حملہ کردیا جس کے دوران اسرائیل نے شدید بمباری کر کے سرکاری دفاتر، اسکولوں، ہسپتالوں، مساجد اور حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے گوداموں کو بھی مسمار کر دیا۔ اس حملہ میں ایک ہزار چار سو فلسطینی ہلاک اور 926 زخمی ہوگئے تھے۔ گذشتہ دس برس سے غزہ محصو رہے لیکن اس محاصرے میں قید فلسطینیوں کے حالتِ زار پر بیشتر دنیا مجرمانہ انداز سے خاموش ہے، شاید اس بناء پر کہ غزہ کی 98 فی صد آبادی مسلمانوں کی ہے۔

israeli bombin gaza

israeli ponding gaza

پچھلے دنوں غزہ کے فلسطینیوں کی اسرائیل کی سرحد تک ”گھر واپسی” کی پُر امن مارچ پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ سے ایک سو بارہ فلسطینی ہلاک کر دیے تھے۔ اس کی دنیا بھر میں جو مذمت کی گئی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا اس کا رخ موڑنے کے لئے اسرائیل نے یہ الزام لگایا کہ غزہ سے اسرائیل پر بڑی تعداد میں راکٹ چھوڑے گئے ہیں جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری کی ہے جس سے عزہ کے ایک سو شہری ہلاک اور ڈیڑھ ہزار افراد زخمی ہوگئے۔ ایک وجہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کی یہ بھی ہے کہ اس روز صبح کو غزہ کے محصور فلسطینیو ں نے سمندری محاصرہ توڑنے کی مہم شروع کی تھی۔ غزہ کے 17 طالب علموں نے غزہ کی گھر واپسی کی مارچ میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کو کشتیوں میں لے کر سمندر میں کود پڑے اور بحیرہ روم میں اسرائیل کا بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تھی لیکن اسرائیل کے جنگی جہازوں نے انہیں گھیر لیا اور ان طالب علموں کو گرفتار کر کے اسرائیلی بندرگاہ ایشدود لے گئے۔ ایک طرف غزہ پر اسرائیلی طیاروں کی شدید بمباری اور دوسری جانب بحیرہ روم میں اسرائیل کے جنگی جہازوں کی کارروائی دراصل غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف یہ اسرائیل کے دو مکھی فوجی اقدام کا آغاز ہے۔

gazans trying to break israrli   siege

Boat carrying patients and students sails towards Europe aiming to break Israel's blockade on Gaza, at the sea in Gaza

الحریت کہلانے والے فلسطینی طلباء کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ”امن اور آزای ہمارا پیغام ہے اور ہم پوری دنیا سے کہتے ہیں کہ وہ ہماری آواز سنے کہ ہم غزہ کے محاصرہ کو مزیر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔”

2013 میں غزہ کے محصور عوام کے ترک حامیوں نے اسرائیل کے بحری محاصرہ کو توڑنے کی کوشش کی تھی جس پر اسرائیلی جنگی جہازوں نے گولہ باری کر کے ان کا راستہ روک دیا تھا۔ اس دوران اسرائیلی گولہ باری سے 9 ترک ہلاک ہو گئے تھے۔ ترکی کی حکومت نے ترک شہریوں کی اس ہلاکت پر بطور احتجاج اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے تھے جو ایک طویل عرصہ تک منقطع رہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.