جلتی سگریٹ سے سُلگتی زندگی

2,192

؎ دشمن بھی ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
مجھ میں اتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح

اس شعر میں یقیناً اپنے محبوب کی محبت میں بے اعتنائی کا ذکر کیا جا رہا ہے ، لیکن ہمارے حساب سے یہ محبت ایک تمباکو نوش کی سگریٹ سے ہے۔ تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے، یہ جانتے ہوئے بھی سگریٹ سے اس کی محبت کم نہیں ہوتی۔ جو کوئی سگریٹ کو منہ لگاتا ہے تو پھر ایسا تو ہوتا ہی ہے :

؎ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

اور بیشتر صورتوں میں سگریٹ نوشی زندگی سے اس طرح چمٹ جاتی ہے کہ جان لے کر ہی دم لیتی ہے۔ مگربقول سگریٹ نوش۔ ۔ ۔

سگریٹ کے ایک کش کا مزہ تم کیا جانو
مشکلات میں سکون کا لمحہ ہے یہ
دباؤ سے نجات کا طریقہ ہے یہ
زمانے میں کول نظرآنے کا انداز ہے یہ
باس کے ادب اور ترقی کا نیا راز ہے یہ

ترقی کے نئے ڈھب اپناتے ہوئے باس کے سامنے نمبر بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ سگریٹ کے سُٹے لگانا اب عام بات ہوگئی ہے، جس میں صرف مرد نہیں بلکہ خواتین بھی بھرپور حصہ ڈالتی ہیں۔ کچھ لوگ تو سگریٹ کے ازلی دشمن ہوتے ہیں۔ جیب، گھر یا دفتر کے کسی بھی حصے میں جہاں سگریٹ نظر آئی وہیں اسے جلا کر راکھ کر دیا۔ صبح اٹھ کر اس وقت تک کچھ نہیں کر سکیں گے جب تک اسے پھونک نہ لیں اور رات اس وقت تک سو نہ سکیں گے جب تک اسے ابدی نیند سلا نہ لیں۔ غرض ان کی زندگی دھوئیں کا ایک ہالہ ہے۔

؎ ہوئے ختم سگریٹ اب کیا کریں ہم
ہے پچھلا پہر رات کے دو بجے ہیں

’’سگریٹ کے نقصان بہت کم اور فائدے ہیں بہت زیادہ‘‘

اس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اسے کوئی کمزور آدمی پی ہی نہیں سکتا۔ مطلب یہ کہ جو بھی اسے پیتا ہے وہ بڑا بہادر اور ’ماچو‘ قسم کا شخص ہے ورنہ کس کی مجال ہے کہ اس چیز کو ہاتھ لگائے۔ ۔

سگریٹ میں آرسینک (ایک خطرناک زہر جو کیڑے مار دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے)، سائنائڈ ( تامل ٹائیگر خودکشی کے لئے ہر وقت اس کا تعویز گلے میں رکھتے ہیں اور یہ صنعتی فضلے کا حصہ بھی ہے)، کیڈمیئم (ایک زہریلا مواد جو بیٹریوں میں پایا جاتا ہے)، ایسیٹون (جسے ناخنوں سے نیل پالش اتارنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے) اور فارملڈیہائڈ (زہریلا مادہ جو مردہ جسموں کو محفوظ رکھنے کے کام آتا ہے) موجود ہے۔

فہرست بڑی لمبی ہے لیکن مختصر یہ کہ ایک سگریٹ بنانے میں 4 ہزار مضرصحت کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین خطرناک ترین یہ ہیں :

سگریٹ جسم میں ایک مادہ پھینک دیتا ہے جسے ٹار کہتے ہیں، دوسرا کاربن مونو آکسائڈ گیس اور تیسرا نِکوٹین۔

ٹار۔ ۔ انگلیاں اور دانت گندے کر دیتی ہے اور انسان ذرا ’پیلا‘ پڑ جاتا ہے۔ اس کے نسبتاً کم نقصانات میں اس کا ستر فیصد پھیپھڑوں میں بیٹھے رہنا ہے جس سے کینسر کا خطرہ پیش آ سکتا ہے۔

کاربن مونو آکسائڈ گیس۔ ۔ جسم میں پندرہ فیصد تک آکسیجن میں کمی لا سکتی ہے جس سے پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

اور تیسرا ہے نکوٹین۔ جب سگریٹ نوش ایک کش لیتا ہے تو صرف 6 سیکنڈ میں نِکوٹین اس کے دماغ پر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ اور دماغ ڈوپامائن dopamine نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے بہت سرور محسوس ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ کسی کام کا اجر ملا ہے۔ اس سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور میٹابولزم تیز ہو جاتا ہے۔

جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ بار بار سگریٹ پیتے ہیں۔ طبی ماہرین کے خیال میں ایک سگریٹ زندگی کے 11 قیمتی منٹ ضائع کرتی ہے۔ یوں سگریٹ نوش کی زندگی کے اوسطاً 10 سال کم ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ میں ایک شخص موت کا تر نوالہ بن رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہرسال ساٹھ لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب تمباکو نوشی بنتی ہے۔ پاکستان تمباکواستعمال کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے جہاں دو کروڑ 40 لاکھ سے زائد نوجوان اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ سگریٹ پینے والے ایک لاکھ سے زائد افراد ہرسال پھیپھڑوں کے کینسر، دل اور سانس کی بیماریوں کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ایک اچھے ساتھی سینئیر صحافی سلیم احمد صاحب گو کے خود سگریٹ نوش نہیں لیکن اس عذاب میں مبتلا افراد کی دھوئیں بھری زندگی کو کچھ اس طرح عبارت کرتے ہیں۔

؎ زندگی سمجھا تھا جس سگریٹ کو میں
بن کے سرطان جاں میری لے گئی

تمباکو ایک زرعی پیداوار ہے، جو تمباکو کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے۔ تمباکو دنیا میں سب سے زیادہ کیوبا، چین اور امریکا میں پیدا ہوتی ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا اعلیٰ معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ تمباکو کا سب سے عام استعمال سگریٹ میں ہوتا ہے۔

تمباکو کی بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں کو روکنے کے لئے عالمی ادارہ صحت نے1987 میں یوم ِ انسدادِ تمباکو نوشی World No-Tobacco Day منانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ہر سال 31 مئی کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا کی ایک ارب سے زائد آبادی تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ سے آلودہ فضا میں رہنے والے ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے وہ بھی کئی ایک بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں سرطان، ذہنی دباؤ، دل اور سانس کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔

شیشہ پینا بھی تمباکو نوشی کی ہی ایک شکل ہے جو بدقسمتی سے نوجوانوں کو سب سے زیادہ متوجہ کر رہی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹہ شیشہ پینا، 200 سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ جس میں کئی لیٹر ٹاکسک پھیپھڑوں میں جذب ہو جاتی ہے۔

تمباکو نوشی ترک کرنے کیلئے ای سگریٹ کا استعمال بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ای سگریٹ کا استعمال کرنے والے دوبارہ سگریٹ نوشی کی طرف جلد مائل ہوجاتے ہیں۔

امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹماٹروں کا استعمال نہ صرف پھیپھڑوں کو تندرست رکھتا ہے بلکہ سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصان کی ایک حد تک تلافی کرکے پھیپھڑوں کے افعال کو بہتر بنا سکتا ہے۔

سائنسی جریدے ’’ایڈکشن‘‘ میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے کے مطابق نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کو چُھڑانے کے لیے فیس بک اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اُن نوجوانوں کو بھی سگریٹ نوشی سے نجات دلائی جا سکتی ہے جو اس عادت کو ترک کرنے کے لیے تیار بھی نہیں تھے۔

تمباکو نوشی چھوڑنا مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے چند دواؤں اور مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان المبارک اس سلسلے میں انسان کو بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ جب انسان روزے کی حالت میں دن بھر تقریباً 13 سے 14 گھنٹے سگریٹ نہیں پیتا، تو ترک ِتمباکو نوشی کے لیے یہ عمل سال بھر بھی کر سکتا ہے۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.