شیطان اور عامر لیاقت دونوں جکڑے گئے

4,625

ہم سب جانتے ہیں کہ جب رمضان آتا ہے تو شیطان جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ انوکھی یہ ہوئی کہ شیطان کے ساتھ عامر لیاقت حسین کو بھی جکڑ دیا گیا۔ جی ہاں یہ انوکھی بات ابھی کچھ دن قبل ہی ہوئی جب عامر لیاقت حسین بول چینل پر رمضان ٹرانسمیشن کے دوران اپنے مذہبی جذبات کو مشتعل ہونے سے نہ روک پائے اور اسی اشتعال میں انہوں نے فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دینے کی بلکہ فساد پر آندھی چلا دینے کی کوشش کی۔

کچھ عرصہ قبل جب عامر لیاقت حسین نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو انہی صفحات پر میں نے ایک بلاگ تحریر کیا تھا جس کا عنوان “فکس اٹ ۔ گٹر پر ڈھکن” تھا۔ اس بلاگ میں عامر لیاقت حسین کی متضاد باتوں پر میں نے طنزیہ انداز میں نکتہ چینی کی تھی.

اس بلاگ میں، میں نے یہ کہا تھا کہ جب کسی گٹر پر ڈھکن لگ جائے تو گٹر کی گندگی باہر آنے سے رک جاتی ہے اور عوام اس گند سے محفوظ رہتے ہیں جو کسی گٹر کے اندر ہو سکتا ہے۔ مگر جب ڈھکن خود ہی اچھل اچھل کر گند پھیلانے پر قدرت رکھتا ہو تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے۔ ایسے میں تو پھر عالمگیر خان صاحب کی بھی ایک نہیں چلتی جو بے چارے کراچی کے گٹروں پر ڈھکن لگانے کی مہم فکس اٹ چلاتے رہے ہیں۔ اب عالمگیر خان صاحب کو فکس اٹ کے بجائے “ٹائٹ اٹ” کی مہم چلانی چاہیئے جس میں وہ ڈھکنوں کو ٹائٹ کرنے پر زور دیں۔

میں مگر یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں غلطی پر تھا اور جلد بازی میں عامر لیاقت حسین کے لیے جو الفاظ استعمال کیے تھے، ان کی شخصیت اس سے کہیں بڑے القابات اور اعزازات کی مستحق ہے۔

Amir-Liaqat-PTI

یہ تو ٹھہرے ہوئے پانی کا ایک ایسا جوہڑ ہے جس میں چالیس سال سے کوئی تحرک پیدا نہیں ہوا۔ ایسے جوہڑ کے پاس سے گذرنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ اس قدر شدید تعفن پھیلا ہوتا ہے کہ گذرنے والے کی سانسیں رکنے لگتی ہیں اور اگر ایسے جوہڑ کے پاس شومئی قسمت سے ٹھہرنا پڑ جائے تو گذرنے والا جاں سے بھی گذر سکتا ہے۔

یہ بغض و عناد کا وہ کوہ گراں ہے جسے دنیا کی کوئی نیکی، کوئی دلیل، کوئی شائستگی اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔ جو نیک فطرت اس سیاہ کوہ سے ٹکرایا اس کا مقدر پاش پاش ہونا ہی رہا۔ ایسے کوتاہ قامت مگر ڈھیٹ سیاہ کوہ نہ صرف دیکھنے میں بدنما دکھائی دیتے ہیں بلکہ اگر کبھی ان کے پتھر سے پتھر بجنے پر ان کے اندر سے آواز آنے لگے تو وہ بھی ایسی سماعت شکن ہوتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔۔

یہ کلر زدہ وہ زمین ہے جو نہ صرف یہ کہ قابل کاشت نہیں رہتی بلکہ اپنے نیچے پائے جانے والے پانی کے ذخیرے کو بھی ناقابل استعمال بنا دیتی ہے۔ ایسی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی بنیادیں ہمیشہ کمزور رہتی ہیں اور یہ ہم سب جانتے ہیں کہ کمزور بنیادوں پر تعمیر کیے گئے مکانات کا مقدر بالآخر ڈھے جانا ہی ہوتا ہے۔

بے مثال منفی صفات اور صلاحیتوں کی حامل یہ شخصیت اب پاکستان تحریک انصاف میں جلوہ گر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ویسے ہی اپنی اخلاقی اقدار سے دھیرے دھیرے ہاتھ دھوتی چلی جا رہی تھی۔ اس ناقابل فخر وجود کی شمولیت کے بعد تو گویا اس زوال کو چار چاند لگ چکے ہیں۔ اگر تو عمران خان کراچی میں عامر لیاقت حسین کی مدد سے تحریک انصاف کا نفوذ چاہتے ہیں تو پھر انہیں کراچی میں تحریک انصاف کے مستقبل پر فاتحہ پڑھتے ہوئے اپنا بوریا بستر لندن کے لیے باندھ لینا چاہیئے۔

images (2)

جن نوجوانوں نے نہایت جوش اور خوشی سے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جو عمران خان کے سنگ تبدیلی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ جو پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ وہ نوجوان اب تحریک انصاف سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ عمران خان کی تحریک انصاف میں الیکٹ ایبلز کے نام پر جو ردی کا ڈھیر لگ رہا ہے اس کو آئندہ انتخابات کے بعد کسی ردی فروش نے ردی کے بھاؤ بھی نہیں خریدنا۔ اب بھی وقت ہے۔ رمضان کو غنیمت جانیں اور چھوٹے بڑے شیطانوں کی جکڑ بندی سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر عمران خان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں اور پارٹی ٹکٹ جاری کرتے وقت معیار کو مد نظر رکھیں تو شاید کچھ بہتری آ سکے ورنہ دوسری صورت میں کچھ عرصے کے بعد شیطان اور عامر لیاقت دونوں قید سے آزاد ہو جائیں گے اور پھر رہا سہا بیڑا بھی غرق ہو جائے گا۔


اسی سلسلے میں: فکس اٹ ۔ گٹر پر ڈھکن


اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. kaka کہتے ہیں

    Yeh bohat hi achha hoa, yeh mazhab ki aar main fasaad pedaa kar rahaa thaa

  2. Tariq Qasmi کہتے ہیں

    This is very god article and I appreciate Mr. Owais Ahmad for this.
    I love this article eSpecially the heading ” Shaitan aur Amir Liaqat Doono Jakray Gayee” شيطان اور عامر لياقت دونوں جکڑے گئے

  3. Imran Ahmad کہتے ہیں

    مسئلہ یہ ہے کہ رمضان کے بعد دونوں کو پھر کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔

  4. M. Azam Zaki کہتے ہیں

    Awais Saheb
    aap bhi shaitan k bhai lagtey hein. Allah aap k haal pe reham Farmaye

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      خوب پہچانا بھائی جان۔

  5. Ghulam Mohammad کہتے ہیں

    While i am not an avid fan to Aamir Liaqat I consider he had a point in slamming Zakir Naik, who is more Wahhabi than the Wahhabis. He had said many times that the Green Dome and the secluding Quadrangle of the Tomb of Holy Prophet should be demolished and the whole are levelled to the ground! This dangerous doctrine even the Saudi rules shied away from. This cultural destruction is a reflection of sick mindset and Aamir Liaqat only denounced that.

تبصرے بند ہیں.