انقلاب

983

ہر طرف دھول ہی دھول۔۔

شور اتنا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔۔۔

خاندان شریفیہ کے چشم و چراغ، غریبوں کے غم خوار،  جمہوریت کے علمبردار،  داعی انقلاب۔ نواز شریف ایک بگھی میں سوار۔۔۔

جمہوریت،  جمہوریت پکارتے ہوئے۔۔

دو رویہ جم غفیر کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔۔

لوگ بگھی کے پیچھےدیوانہ وار بھاگ رہے ہیں۔۔

کوئی گھوڑے کو ہاتھ لگا کر آنکھوں سے لگا رہا ہے۔۔

کوئی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پنجوں کے بل اب گرا کہ تب گرا کے مصداق گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا چاہتا ہے۔۔۔

جس کا ہاتھ پہنچ رہا ہے اس کی چہرے کی طمانیت اور آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ گوہر مقصود پا لیا۔۔

جس کا ہاتھ بگھی یا گھوڑے تک نہیں پہنچا۔۔

وہ اس جگہ سے مٹی اٹھا کر سر میں ڈال رہا ہے۔۔جہاں سے بگھی گزری۔۔

ایک عالم وارفتگی اور افرا تفری ہے۔۔

مجمع میں شامل افراد رو رہے ہیں۔ کوئی سر پیٹ رہا ہے۔۔ کوئی سینے پر دو ہتڑ مار مار کر اپنے بال کھینچ رہا ہے۔۔

ایک عجب منظر ہے۔۔۔

ہر طرف۔۔انقلاب۔۔ انقلاب۔۔ کا شور مچا ہوا ہے۔۔

شرفو بھی اماں کا ہاتھ تھامے مجمع میں موجود ہے۔۔۔

“شریفاں” بار بار اپنے اکلوتے بیٹے “شرفو” سے پوچھ رہی ہے۔۔۔

بیٹا! پہرست میں تیرا نام تو ہے نہ۔۔

ہاں اماں۔۔۔” پکھر” والی کوئی بات نہیں۔۔ اب کی بار کوئی گڑ بڑ نہیں۔۔ میرا نام پہرست میں ہے۔۔ اور اب کی بار تو” کھد” انہوں نے انقلاب لانے کی بات کی ہے۔۔۔ اماں یہ ہے۔۔ ٹھیک والا انقلاب۔۔

ارے۔۔ تو باؤلا ہو گیا ہے کیا۔۔ ان اقتدار میں رہنے والوں کی کرسیاں جب چھن جاویں تو۔۔۔انہیں انقلاب یاد آ جاوے۔۔

نہیں اماں۔۔ ایسی بات نہیں۔۔ “نواج سریف” نے اپنے جاتی امرا والے محل کو گریبوں کے لئے بکف کر دیا ہے۔۔ “ایہاں” اب تین، تین مرلے کے گھر بنا کر وہ سب گریبوں کو بانٹ دیں گے۔۔

شرفو نے اماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اماں تو ہی تو کہتی ہے۔۔۔ نیک کام گھر سے سروع کرنا چاہیے۔۔ بس تو پکھر مت کر۔۔ اب کی بار۔۔ انقلاب آ کر ہی رہے گا۔۔ نواج سریف نے اس بار بڑے بڑوں سے سینگ پھنسا لیا ہے۔۔

ارے کہاں۔۔ سینگ پھنسا لیا۔۔۔ ان بڑوں کے ساتھ ان کی آج سودے باجی ہو جاوے۔۔

کہاں کا انقلاب اور۔۔ کیسا انقلاب۔۔ سب باتاں ہیں ہم غریباں کو بہلانے پھسلانے کے لئے۔۔

ابھی یہ خواب دیکھ ہی رہا تھا کہ۔۔۔

بیگم کی آواز کان میں پڑی۔۔۔

تقریروں میں تو حکومت نے ہزاروں میگا واٹ بجلی اکٹھی کر لی یہاں ہر گھنٹے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔۔

بیگم نے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔

دفتر نہیں جائیں گے آج آپ۔۔۔

خواب ادھورا ہی رہ گیا۔۔۔

آنکھ کھلی۔۔

تو۔۔۔

انقلاب کے داعی۔۔

نواز شریف کے حوالے سے۔۔ دن کے تازہ اخبار کی شہہ سرخی یہ تھی۔۔۔

“سینے میں بہت سے راز دفن ہیں ایک ایک کر کے سارے بتاؤں گا۔”

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    Unavailability of basics in 21st century is no more than a shame in country of 220 millions. A small country, New Zealand with total population of merely 4.5 millions, (that is where I live ) has made the life of its citizens so comfortable and we with such a huge number of people mourning an groaning for the very basics. … We have become a laughing stock. The only reason is, our leadership built their own lives alongside for their 10th generation who will not remember their names, and here where I live, leadership work around the clock elevate and improve the lives of their voters further.

تبصرے بند ہیں.