آزادی کے لئے جہاد کا بیڑہ اٹھانے والا راجہ 

2,795

یہ 1959کے اختتام کی بات ہے، جب میں دلی میں ایک اخبار کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ ایک ملاقات میں بنے بھائی، سجاد ظہیر نے پوچھا کہ تم پرانے مارکسسٹ انقلابی، راجہ مہندرا پرتاپ سنگھ سے نہیں ملے، جنہوں نے دو سال قبل عام انتخابات میں جن سنگھ کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کو شکست دے کر زبردست کارنامہ انجام دیا ہے۔

میں دوسرے ہی دن وقت لے کر تین مورتی کے قریب ممبر پارلیمنٹ کے بنگلہ میں راجہ صاحب سے ملنے پہنچا۔ خلطہ پاجامے پر کھدر کا سلوکہ پہنے، راجہ مہندرا سنگھ، ڈرائنگ روم میں میرے منتظر بیٹھے تھے۔ مجھے وہ نہ تو راجہ لگے اور نہ انقلابی۔ منہنی سا قد، چھوٹی سی برائے نام داڑھی، سر پر چھوٹے چھوٹے ہلکے سے کھڑے ہوئے بال۔ چہرے پرملی جلی تھکاوٹ اور کمزوری طاری لیکن آواز کڑک دار۔
مجھے بانس کے مونڈھے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اور بولے پہلے آپ اپنے بارے میں بتائیے۔ میں تو آپ کو بالکل نہیں جانتا۔

raja mahendra partap singh 1

میں ٹھٹھک گیا کہ میں ان سے ملنے اور ان کا انٹرویو لینے آیا ہوں لیکن راجہ صاحب نے تو مجھ سے انٹرویو لینا شروع کردیا۔ بہرحال میں نے مختصرا ًبتایا کہ میں پاکستان کے  ایک اخبار کا دلی میں نامہ نگار ہوں۔

کہنے لگے ارے صاحب یہ تو آپ نے اسی وقت بتایا تھا جب آپ نے ملنے کا وقت لیا تھا۔ ذرا تفصیل سے بتائیے کہاں سے تعلق ہے۔ میں نے کہا کہ میں علی گڑھ میں پیدا ہوا تھا۔ راجہ صاحب، نقاہت کے باوجود اس تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ میں ڈر گیا۔ کہنے لگے صاحب آپ تو میرے پڑوسی نکلے۔ علی گڑھ سے آگرہ جاتے ہوئے اگلا اسٹیشن ہاتھرس کا ہے۔ میں وہی پید ا ہوا ،جاٹوں کی ریاست مرسان میں۔ کہنے لگے میں نے تعلیم علی گڑھ کے محمڈن انگلو اورینٹل کالج میں حاصل کی جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہلایا۔ راجہ صاحب نے بڑے رازدارانہ انداز سے کہا کہ آپ کو توکیا ویسے بھی بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ میں نے 1929 میں علی گڑھ یونیورسٹی کے لئے ساڑھے تین ایکڑ زمین صرف دو روپے سالانہ کے پٹہ پر دی تھی۔ پھر سوال کیا ،آپ نے تعلیم کیا علی گڑھ یونیورسٹی میں حاصل کی تھی۔ میں نے کہا جی نہیں اس سے بغاوت کر کے الگ ہونے والے تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دلی میں۔ راجہ صاحب نے اپنے دونوں منحنی سے ہاتھ اٹھا کر کہا، لیجیے صاحب ایک اور گہرا رشتہ نکل آیا آپ سے۔

میں حیرت سے دنگ رہ گیا۔ کہنے لگے ،میاں صاحب زادے آپ نے تو اس تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کی ہے جس سے میرے نہایت محبوب پرانے انقلابی ساتھی عبید اللہ سندھی کا قلبی تعلق رہا ہے۔ ہم ہندوستان کی آزادی کے لئے مسلح جنگ شروع کرنے کے مقصد سے 1915 میں افغانستان گئے تھے اور کابل میں ہم نے ہندوستان کی جلاوطن انقلابی عبوری حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کا میں صدر تھا، بھوپال کے مولوی برکت اللہ وزیر اعظم تھے۔

مولانا عبید اللہ سندھی کی کیا حیثیت تھی اس انقلابی حکومت میں؟ میں نے انہیں ٹوکتے ہوئے سوال کیا۔ راجہ صاحب نے بتایا کہ وہ ہندوستان کے امور کے وزیر تھے۔ مولوی بشیر وزیر جنگ تھے اور چمپا کرن پلائے وزیر خارجہ تھے۔ اس جلا وطن حکومت نے ہندوستان کی آزادی کے لئے جہاد کا اعلان کیا تھاجو افغانستان سے ملحق ہندوستان کے علاقوں سے شروع ہوتا۔

میں نے سوچا یہ اچھا موقع ہے انٹرویو کی باگ اپنے ہاتھ میں لینے کا۔ میں نے سوال کیا کہ یہ انقلابی حکومت اپنے مقصد میں کیوں ناکام رہی؟

راجہ صاحب نے ایک لمبی آہ بھری اور تھوڑی دیر توقف کے بعد بولے کہ آپ کو تعجب ہوگا کہ اس جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان افغانستان کے بادشاہ امیر حبیب اللہ کے باغ بابر محل میں ہوا تھا اور امیر حبیب اللہ سے بڑی توقعات تھیں کہ وہ ہماری بھر پور مدد کریں گے لیکن فروری 1919میں انگریزوں کے ایک ہندوستانی جاسوس مصطفیٰ صغیر نے انہیں قتل کر دیا۔ امیر حبیب اللہ کے قتل کے بعد ان کے بھائی نصر اللہ تخت نشین ہوئے لیکن امیر حبیب اللہ کے بیٹے امان اللہ نے نصر اللہ کو معزول کر کے خود تخت پر قبضہ کر لیا۔ بس اس کے بعد ہماری مشکلات شروع ہوگیں۔ پہلی عالم گیر جنگ کے دوران امیر حبیب اللہ غیر جانبدار رہے تھے اس کے عوض انگریزوں نے تین کروڑ پونڈ ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ امان اللہ نے تخت پر بیٹھنے کے بعد انگریزوں سے یہ رقم طلب کی۔ انگریزوں نے رقم ادا کرنے کے لئے یہ شرط عائد کی کہ جلا وطن حکومت ختم کردی جائے او ر اس کے کرتا دھرتائوں کو افغانستان سے نکال دیا جائے۔ راجہ صاحب نے کہا کہ اس دوران میرے سر پر انگریزوں نے انعام مقرر کر دیا تھا لہٰذا میں جاپان فرار ہوگیا۔ مولانا عبید اللہ سندھی کابل سے ماسکو چلے گئے، یوں انگریزوں کی چال اور امان اللہ خان کے انگریزوں کے ساتھ گھٹ جوڑ نے ہمارا مقصد ناکام بنا دیا۔

raja mahendra partap singh in  japan

راجہ صاحب کا کہنا تھا کہ ہم نے ہندوستان کی آزادی کے لئے جہاد کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ میں جب جرمنی میں تھا تو میں نے پولینڈ کی سرحد پر جنگی کیمپ میں جنگ کی حکمت عملی اور جنگ کے طریقے کی تربیت حاصل کی تھی۔ راجہ صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے 1917میں روس میں لینن سے ملاقات کی تھی اور ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد میں جرمنی کی قیصر ویلہلم اور ترکی کے سلطان محمد رشاد سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

میں نے پوچھا کہ آپ نے کتنا عرصہ جلاوطنی میں گزارا؟ کہنے لگے کہ پورے 32سال اور ہندوستان کی آزادی سے زرا پہلے 9 اگست 1946 میں وطن واپس آیا۔ راجہ صاحب سے میں نے دریافت کیا کہ 1932میں انہیں نوبیل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ کس نے انہیں نامزد کیا تھا، راجہ صاحب نے بتایا کہ سویڈن کے ایک ممتاز ڈاکٹر اور صحافی این اے نیل سن تھے۔ انہوں نے نامزدگی میں میری تعریف کی تھی کہ میں نے تعلیم کے لئے اپنی بڑی جائیداد عطیہ میں دی ہے اورمیں نے ونداون میں پریم مہا ودیالہ کے نام سے ایک ٹیکنکل کالج قائم کیاہے۔ 1913میں میں نے جنوبی افریقہ میں گاندھی جی کے ساتھ جو کام کیا تھااس کا بھی ذکر کیا تھا اور یہ کہ میں عالمی فیڈریشن کے قیام کا حامی ہوں۔ میں نے راجہ صاحب سے دریافت کیا کہ اُس سال نوبیل امن انعام کس کو دیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دار قہقہ لگا کر کہا ” کسی کو نہیں ” اس سال یہی فیصلہ کیا گیا کہ کسی کو امن کا نوبیل انعام نہیں دیا جائے گا۔

raja mahendra partap singh  commomarative stamp

میں نے راجہ صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے شادی کی تھی یا آپ انقلابی سرگرمیوں میں الجھے رہے۔ کہنے لگے، ہاں میری شادی ہوئی تھی، اُس زمانہ میں جب کہ میں ابھی کالج میں تھا۔ پھر وہ رُ ک گئے۔ ایسا لگا کہ وہ نوجوانی کے ان دنوں کی یادوں میں گھر گئے ہیں۔ میں نے سوال کیا، کہاں ہوئی تھی شادی۔ ان کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ ہریانہ کی ریاست جند کے سکھ راجہ کی بیٹی تھیں۔ نام تھا ان کا بلویر کور۔ کہنے لگے ،اب دیکھیے اسی زمانہ میں میں اپنے کالج کے ساتھیوں کے ساتھ بلقان کی جنگ میں حصہ لینے کے لئے چلا گیا۔ یہ 1912 کازمانہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ کس کی طرف سے آپ لڑنے گئے تھے۔ کہنے لگے، ترکی کی طرف سے اور کس کی طرف سے۔ لیکن شکست ترکی کو ہوئی۔ راجہ صاحب نے کہا کہ ہماری اہلیہ بھی چند سال بعد انتقال کر گئیں۔

میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے 1957میں جن سنگھ کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کو انتخابات میں شکست دے کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ راجہ صاحب بڑے فخر سے کہنے لگے۔ جی ہاں ہم نے متھرا سے انتخاب لڑا تھا، آزاد امیدوار کی حیثیت سے۔ یہ مقابلہ ایک انقلابی اور ایک ہندو قوم پرست کے درمیان تھا اور متھرا کے علاقہ کے عوام نے ہندو قوم پرستی کے خلاف فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاش ہندوستان کے عوام اسی طرح سے ہندو قوم پرستی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں جو ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولرزم کے لئے زبردست خطرہ ہے۔

ہندوستان کے ایک انقلابی، جس نے ساری عمر اپنے وطن کی آزادی کے لئے جدو جہد کی اور اس کیلئے دنیا بھر کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے برسوں ملکوں ملکوں کے دورے کئے، اس کے وطن کے عوام نے اس کی خواہش کا کوئی پاس نہیں رکھا۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.