ہلکا نہیں لینے کا۔ ۔ !

661

گرمی کہتی ہے، آج تیرا جینا عذاب کردوں۔

بجلی کہتی ہے خود سے بڑھ کر کیسے تجھے دم لینے دوں۔

گرمی اور بجلی کی کہانی میں پانی بھی دم بخود۔ ۔ ایسا کمیاب ہوا کہ ڈھونڈے سےنہ ملے۔

جناب بات ہو رہی ہے ، منی پاکستان یعنی کراچی کی۔ کراچی، پاکستان کاسب سے بڑا شہر، صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔

لیکن اب اس کا کوئی پُرسان ِ حال نہیں، کوئی بھی کراچی کو اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ یہاں رہتے ہیں یہاں سے روزی تو کماتے ہیں پر صفائی کاخیال نہیں رکھتے، قوائد وضوابط پر دھیان نہیں دیتے، درخت اور پودے کاٹ کاٹ کر رہنے کی جگہ بنا لی ہیں۔ گراں فروشی عروج پر ہے۔ دھوئیں کی آلودگی سے جینا مشکل ہے۔ ٹریفک بے ہنگم ہے اورعوام قانون کی پابندی سے نابلد۔ ۔ امیر و غریب صرف اسے لوٹ رہے ہیں جس کی جہاں تک پہنچ ہے، پھر حکومت ہو یا عوام۔

شہرِ قائد دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ ایک وقت تھا سالہا سال کراچی میں ٹھنڈی ہواؤں کا راج رہتا تھا۔ صاف ستھرے ساحل پر صبح کے وقت چہل قدمی کرنا اور شام میں سورج غروب ہوتے دیکھنا مسحورکن نظارہ تھا۔ پر اب ساحل پر جانے کا سوچ کر ہی کچرا، بدبو اور آلودگی کا ذہن میں آتا ہے۔ ۔ گرم اور شدید سردعلاقوں کے لوگ کراچی کی سال بھرمعتدل آب و ہوا سے لطف اٹھانے یہاں کا رخ کرتے تھے۔

لیکن آج کل صورت حال یہ ہے کہ سمندری ہوائیں بند ہیں، ہوا میں نمی کا تناسب بھی معمول سے کم ہے اور گرم علاقوں کے لوگ کراچی کا ٹمپریچر سُن کر انگشت بدنداں ہو جاتے ہیں۔

آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوز غم ہائے نہانی (لوڈشیڈنگ) اور ہے

کراچی میں شدید گرمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار 20 مئی کو سمندری ہوائیں بند ہوئیں اور درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ کسی نے کراچی میں جہنم کا دروازہ کھولنے کا کہا تو کسی نے اسے تندور سے عبارت کیا۔

کوئی شرم ہوتی ہے، حیا ہوتی ہے۔۔۔ وہ تو خیر سے گرمی کو نہ آئی۔ لیکن سورج کو مزید طیش آ گیا اور پارہ 44 تک جا پہنچا۔ تاہم تپش کا احساس 46 ڈگری رہا۔

رکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سے
بلا سے چاک ہی ہوجاوے سینہ ٹک ہوا

گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کے بعد بازار اور سڑکیں ویران پڑے ہیں۔ ایک ہُو کا عالم ہے۔

گرمی سی یہ گرمی ہے
مانگ رہے ہیں لوگ پناہ

محکمہ موسمیات نے کراچی کے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شہر قائد میں 21 مئی کو بھی سورج آگ برسائے گا، اور درجہ حرارت 45 ڈگری تک جائے گا۔ سمندری ہوائیں رک گئی ہیں، ہوا میں نمی کا تناسب 10 فیصد ہے، بلوچستان کی گرم اور خشک ہوائیں 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کا امکان ہے۔

لو چلتی ہے خاک اڑتی ہے
گرمی کے ہیں ایام

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں پیر، منگل اور بدھ کو ‘ہیٹ ویو’ شدید ترین ہوگی۔ درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے اور سمندری ہوائیں بھی ممکنہ طور پر بند رہیں گی۔

پڑجائیں مرے جسم پر لاکھ آبلے اکبر
پڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون

ماہرین صحت کا کہنا ہے شہری ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔۔ بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اگر گھر سے نکلیں تو سر کو ڈھانپ کر رکھیں۔ شدید گرمی میں ہلکے رنگ اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔

کراچی میں انتظامیہ نے ممکنہ ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے شہر بھر میں کیمپ قائم کیے ہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں میں سخت گرمی کے سبب ہیٹ اسٹروک سے متاثر افراد کے لیے خصوصی وارڈ بنائے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد مئی کے مہینے موسم شدید گرم ہونے کی وجہ تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات بھی معمول سے پہلے ہو گئی ہیں۔

گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت کے باعث کراچی والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سانوں اک پل چین نہ آوے
بجلی تیرے بنا، پانی تیرے بنا

ادھر کراچی انٹر بورڈ نے گرمی کی شدید لہر کے باعث 21 سے 23 مئی تک ہونے والے امتحانات ملتوی کردیے۔ اعلامیے کے مطابق 24 مئی سے تمام پرچے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑگئے
ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھو کالے پڑگئے

اندرون سندھ پارہ 50 ڈگری تک جا سکتا ہے، گذشتہ روز مٹھی 45 ڈگری کے ساتھ ملک کا گرم ترین مقام رہا۔

سورج سرپہ آ پہنچا
گرمی ہے یا روزِ جزا

ورلڈ وائلڈ فنڈ برائے نیچر پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف پی) کے سندھ میں ریجنل ڈائریکٹر رب نواز نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بتایا کہ سبز میدانوں کی کمی اور کنکریٹ کی تعمیرات میں اضافہ درجہ حرارت میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے۔

بس صرف گرمی پر ہی نہیں ہوئی۔ ۔ ستم ڈھایا کے الیکڑک نے بھی۔ ۔ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا۔ ۔ لوڈ شیڈنگ سے مستثنا علاقوں میں بھی بجلی کئی کئی گھنٹے غائب رہنے لگی۔

پہلے آتی تھی بلا تعطل لائٹ
اب تو دو تین گھنٹے نہیں آتی

بجلی کے آنے جانے سے پانی کا نظام بھی بگڑ گیا، کئی علاقوں کے عوام پانی کی عدم دستیابی کے دہائیاں پہلے ہی دے رہے تھے،، اب واٹر بورڈ کےستم سے بچے علاقوں میں بھی پانی کا بحران پید ہوگیا۔ شدید گرمی میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ اور قحط کئی دن سےآب کا
رخ تمتما گیا ہے مرے آفتاب کا

گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے بلبلاتے اور غصے میں تلملاتے لوگ جائیں تو کہاں۔ ۔ ؟؟؟

پانی کے بحران نے ٹینکرمافیا کی چاندی کردی، ایک گیلن پینتیس روپے تو ایک ٹینکر پینتیس سو روپے میں مل رہا ہے، کراچی کے شہری غصے میں پھٹ پڑے، کہتے ہیں کہ خدارا بنیادی سہولت تو دیں، مہینوں پانی نہیں آتا اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

دوکروڑنفوس پرآباد شہر میں پانی کے بحران کی بڑی وجہ بدانتظامی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہیں، سیاسی کشمکش اور انتظامیہ کی لاپروائی نے ٹینکرمافیا کی چاندی کر دی ہے۔

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی سورج نے ہاتھ ہولا رکھنے سے انکار کر دیا۔ یکم رمضان سے کراچی کا پارہ 40 سے نیچے ہی نہیں آرہا، ، کبھی ہوا بند، کبھی لُو اور کبھی گرد آلود ہوا۔ ۔ سورج سوا نیزے پر، دھوپ سے بچنے کیلئے سایہ بھی کہیں نہیں ملتا۔

مارے گرمی کے زبان خشک ہے، لُوچلتی ہے
کہیں دم لینے کو سایہ نہیں، ہے وقت

اس سے قبل اپریل میں نواب شاہ کا درجہ حرارت 52 سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ ۔ جو ایک عالمی ریکارڈ تھا۔

سورج کا جلال کم نہ ہونے اور غضب کی گرمی سے سال 2015 کی یاد آگئی۔ ۔ جب مئی کے مہینے میں پڑنے والی سخت ترین گرمی نے 35 سال کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ گرمی، حبس، گھٹن اور ہیٹ اسٹروک سے کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ کئی روز تک رہنے والی ہیٹ ویو سے معلوم ہوتا تھا کہ شہر قائد میں موت کا عفریت پنچے گاڑ چکا ہے۔ دس روز میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار چھ سو تک پہنچ گئی تھی۔

سو! اس گرمی کو ہلکا نہ لیں، اپنا اور قریبی لوگوں کا بہت سا خیال رکھیں، رمضان میں ثواب کا موقع مل رہا ہے، جس کو جیسے سہولت ہو، ایک دوسرے کی مدد کریں، پنکھا، لائٹ، پانی، صدقہ، خیرات دے کر اورافطار یا سحری کراکے۔ ۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت اچھا مضمون ہے۔ ازراہ تفنن دو باتیں کر رہا ہوں۔
    پہلی تو یہ کہ یہ ایک دلچسپ چیز شروع ہو گئی ہے جسے “فیلز لائک” کہا جاتا ہے۔ یعنی اصل درجہ حرارت 42 ہے مگر فیلز لائک 45 ہے۔ تو درجہ حرارت ہی 45 کیوں نہیں ہے؟ فیلز لائک اگر زیادہ ہے تو اس کا مطلب یہی نہیں کہ درجہ حرارت بھی زیادہ ہے؟
    اور دوسری یہ کہ رمضان میں خاص طور سے پاکستان میں ہر چیز کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اگر سورج کو بھی اپنی شدت زیادہ کرنے کا شوق رمضان میں چڑھ ہی گیا ہے تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔
    زیادہ قیمتیں بھی ادا کر رہے ہیں تو زیادہ گرمی بھی برداشت کر لیں گے۔

تبصرے بند ہیں.