نام نہاد سپر پاور

1,300

لفظ ”سپر پاور” سنتے ہی دنیا میں رہنے والے ہر شخص کے ذہن میں سب سے پہلے وائٹ ہاؤس یعنی امریکہ کی تصویررقص کرتی نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے نام پر جنگ لڑنے والا ملک عرصہ دراز سے خود دہشتگردی کا شکار ہے۔ دہشتگردی کے پے در پے واقعات ملک کی اندرونی سیکیورٹی صورتحال پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ امریکہ 9/11 کے بعد مسلمانوں کو دہشتگرد ڈکلیئرکر کے دنیا بھر میں معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔

گزشتہ دنوں امریکہ کے ایک اسکول میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ جس میں ایک دہشت گرد نے اسکول میں گھس کر ننھے اور معصوم بچوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 10 معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ 17 مئی 2018 کو امریکی ریاست ٹیکساس میں شہر ہیوسٹن کے نزدیک سانتا فے ہائی سکول میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں میں ایک طالبعلم کی فائرنگ سے پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ بھی اپنی جان گنوا بیٹھی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی طالبہ سبیکا عزیز شیخ امریکی وزارت خارجہ کے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت اگست 2017 میں پڑھنے گئی تھیں۔ سبیکا نے 9 جون کو واپس پاکستان آنا تھا۔

امریکہ میں کسی سکول کے طلباء پر ہونے والی فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ امریکا میں اس سے قبل بھی سکولوں میں فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جہاں ابتک درجنوں معصوم طلبہ و طالبات اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

بی بی سی رپورٹ کے مطابق اپریل 2007 میں ایک 23 سالہ کوریائی نژاد امریکی طالب علم نے ورجینیا ٹیک یونورسٹی میں فائرنگ کی جس میں 27 طلبہ اور پانچ اساتذہ ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2012 میں کنیکٹیکٹ کے شہر نیو ٹاؤن میں 20 سالہ ایک شخص نے اپنی والدہ کو مار کر سینڈی ہوک ایلیمینٹری سکول میں فائرنگ کی۔ اس واقعے میں 20 بچے اور چھ دیگر افراد ہلاک ہوئے۔ فروری 2018 میں مارجری سٹون مین ڈگلس ہائی سکول کے ایک سابق طالب علم نے سکول میں فائرنگ کی جس میں 14 طلبہ اور تین سٹاف ممبران ہلاک ہوئے۔ اس لڑکے کو سکول سے نکالا گیا تھا۔

دہشتگردی کے مختلف واقعات کے تسلسل میں اضافے کے ساتھ ساتھ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ امریکہ کے تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں دہشت گردی کا شکار بن رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تعلیمی اداروں پر دہشتگردانہ حملوں میں اب تک ایک بھی مسلمان شامل نہیں بلکہ دہشت گردی پھیلانے والے خود امریکی شہری ہی ملوث پائے گئے۔ 1996ء سے2018ء تک سکولوں میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کی تعداد 160 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ میں تعلیم کا نظام معاشرے کے کرداری و ثقافتی نظام کی اصلاح میں ہرگز بھی مددگار نہیں۔

امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی کی ضرورت ہے۔ جو دوسروں کا برا چاہے خود اسکے ساتھ کیسے اچھا ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے جو گڑھا دوسروں کے لیے کھودا آج خود امریکہ اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے میں گرتا دکھائی دے رہا ہے۔

حافظ محمد زبیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ کالم نگاری کا شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. عبدالباسط کہتے ہیں

    محترمی حافظ صاحب آپ نے اچھے موضوع پر بات کی ہے ـ
    سی این این کی اپنی رپورٹ کے مطابق 2018 میں اب تک سکول شوٹنگ کے 22 واقعات ہوئے ہیں جن میں 40 کے قریب بچے شکار بنے ہیں ـ یہ ظاہر ہے بہت تکلیف دہ اور افسوس ناک بات ہے کیوں کہ بچے کسی بھی ملک یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں وہ بچے ہی ہوتے ہیں ـ اللّہ ان بچوں کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے ـ خاص طور پہ جو ہماری پاکستانی بچی حالیہ واقعہ میں شہید ہوئی ہے اللہ اس کے درجات بلند
    فرمائےاور اسے جنت الفردوس کا مکین بنائے ـ ایک اور بات کہ ہمارے سارے لبرل بلاگر اس معاملے پر خاموش ہیں صرف آپ کو بلاگ لکھنے کا خیال آیا پر آپ تو خود “انتہاپسند” لگتے ہیں کیونکہ آپ کے نام میں حافظ آتا ہے ـاگر اللہ نہ کرے کہ اس طرح کا ایک آدھ واقعہ پاکستان میں ہو جائے تو پاکستان اور اسلام کو وہ باتیں سناتے ہیں لبرل کہ خدا کی پناہ لیکن کیا کریں کہ امریکہ تو ان کا قبلہ ہے تو اس کے خلاف بات کیسے کی جا سکتی ـ ویسے شرمین عبید رانگ فیملی فیم ان واقعات پر فلم بنا کر آسکر لے کر دکھائیں تو ان کو مانیں ـ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

    1. حافظ محمد زبیر کہتے ہیں

      عبد الباسط بھائی اپنے اپنی رائے کا اظہار کیا بہت شکریہ. اصل میں ان ممالک کی سوچ میں فرق ہے وہ یہ سوچ رکھتے ہیں اور یہ دوغلی پالیسی اپناتے ہیں کہ
      کوئی مسلمان کرے تو وہ دہشتگردی ہوتی ہے جبکہ کوئ نان مسلم
      کرے تو وہ زہنی مریض ہوتآ ہے.

تبصرے بند ہیں.