نواز شریف کے انجام کا آغاز

5,394

شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کہ ایک گدھ اور چیل کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ دونوں میں کس کی نگاہ زیادہ تیز ہے۔ گدھ نے بلندی سے زمین پر دیکھتے ہوئے کہا کہ میں زمین پر گندم کا ایک دانہ پڑا ہوا صاف دیکھ رہا ہوں۔ چیل بولی نیچے چل کر دیکھتے ہیں اگر تمہاری بات درست ثابت ہوئی تو تم جیت گئے اور میں ہارگئی۔ پھر دونوں نے غوطہ لگایا اور جب زمین پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں واقعی گندم کا ایک دانہ موجود تھا مگر اس دانے کی وہاں موجودگی بے سبب نہ تھی بلکہ وہاں ایک شکاری نے جال لگا رکھا تھا جو پرندوں کو پھانسنے کے لئے تھا۔ گدھ نے زمین پر اتر کر گندم کا وہ دانہ اٹھانا چا ہا تو جال میں پھنس گیا۔ چیل نے جب یہ دیکھا تو حیرانگی سے بولی کہ تو نے اتنی بلندی سے گندم کا ایک دانہ تو دیکھ لیا مگر شکاری کا جال تجھے نظر نہ آیا۔ گدھ افسردہ ہو کر بولا کہ تقدیر کا فیصلہ آنے پر عقل جاتی رہتی ہے اور جب قضا اپنا حربہ استعمال کرتی ہے تو تیز نگاہ رکھنے والوں کی بھی نگاہ جواب دے جاتی ہے۔

روزہ افطار کرنے کی تیاریاں تھیں کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ دیکھا تو سامنے ناہنجار بھولا خبری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے زرد دانت نکالے مسکرا رہا تھا۔ خود ہی راقم کا ہاتھ پکڑا اور زبردستی گلے مل کر سلام دعا کی۔ اور بولا آج تو افطاری آپ کے ساتھ ہی کرنی ہے۔ افطاری اور نماز سے فراغت کے بعد چائے کی فرمائش کر ڈالی۔ اس دوران سیاسی مخبریوں کا آغاز بھی کر دیا۔ گرم گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بھولے سے راقم نے پوچھا کہ کیا خبریں ہیں آج کل تیرے پاس۔ تو جھٹ سے صوفے سے اٹھ کر برابر والی نشست پر بیٹھ گیا۔ اور پھر اپنی ڈیڑھ سالہ پرانی پیش گوئیوں کے درست ہونے کا قصہ چھیڑ دیا۔ راقم نے جان چھڑانے کیلئے اس کی ہاں میں ہاں ملائی کہ تم نے سہی کہا تھا نواز شریف کی کرسی بھی گئی، پارٹی صدارت بھی گئی، نواز شریف کے خاندان کیخلاف گھیرا بھی تنگ ہو گیا۔ نواز شریف کی کچن کیبنٹ میں موجود رہنے والے سیاسی رہنماؤں کے گرد بھی شکنجہ تیار ہو گیا۔ مگر اچانک سے یہ کارروائیاں اتنی آہستہ کیوں ہو گئی ہیں۔

بھولے خبری نے اپنی شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ایک اور چسکی لگائی اور چائے پیتے ہوئے کہا نواز فیملی کیخلاف اتنی آہستہ کارروائی کے دو مقاصد ہیں۔ اول تو یہ کہ کیسز کے تمام پہلو اور الزامات پر بحث کھل کر عوام کے سامنے آجائے۔ ایک ایک بات عوام کی نظروں میں آجائے تاکہ عوام کے دلوں میں سے ان کیلئے ہمدردیاں ختم ہو جائیں۔ اور اگر ان پر الزامات ثابت ہو جائیں اور سزائیں ہو جائیں تو عوام کوئی بڑا ردعمل نہ د ے۔ دوئم مقصد نواز شریف کو اندر سے توڑنا اور تھکا دینا ہے۔ اور اب تک یہ دونوں مقاصد بھرپور طریقے سے پور ے ہو رہے ہیں۔ راقم نے پوچھا کہ وہ کس طرح؟ بھولے خبری نے کہا کہ نواز شریف نے 37 سال کسی نہ کسی طریقے سے سیاست کی اور 5 بار صوبائی اور وفاقی سطح پر اقتدار میں رہے۔ لیکن ان 37 سال میں ان کی دو تین باتیں کبھی نہ بدلیں جس کی وجہ سے وہ ہر بار گہری کھائی میں جاگرے۔ ایک بات تو نااہل خوشامدیوں کی باتوں میں آکر ہمیشہ ایسے فیصلے کیے جو ان کے گلے کی ہڈی بن کر رہ گئے۔ دوسری بات یہ کہ نواز شریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں اپنے محسنوں اور خیر خواہوں کو کھڈے لائن لگا دیتے ہیں۔ تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف دیگر بڑے اداروں میں اپنی غیر ضروری مداخلت کرتے ہیں اور ان پر ‘قبضہ کی کوشش کرتے ہیں۔

بھولے خبری کی باتوں میں تو حقیقت بھی تھی اور وزن بھی تھا۔ اس کے مطابق اب اسٹیبلشمنٹ بھی نواز شریف اور ان کے رویہ سے تنگ آ چکی تھی جس کی وجہ سے ان پر ‘مائنس ‘ کا ٹیگ لگا نے کا عمل جاری ہے۔ بھولے خبری نے ایک بار پھر اپنی ایک سال پرانی بات دہرائی کہ نواز شریف فیملی کا نام پاکستانی سیاست میں قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا۔ جبکہ شہباز شریف کیلئے ابھی بھی اسٹیبلشمنٹ نرم گوشہ رکھتی ہے۔

بھولے نے اپنی کہی ہوئی ایک اور پرانی پیش گوئی راقم کو یاد کرائی جس میں کہا تھا کہ اب بات بھائیوں کی نہیں بلکہ ان کے بچوں کی ہے۔ میاں شریف مرحوم کے ہوتے ہوئے دونوں بھائیوں میں کبھی کوئی دو رائے نہیں رہیں۔ لیکن اب دونوں اپنی اولاد کی وجہ سے فاصلوں میں بٹ گئے ہیں۔ بھولے خبری نے بتایا کہ اس نے پہلے ہی کہا تھا کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان سرد جنگ ہے اور یہ مستقبل میں مزید شدت اختیار کرے گی۔ اور اب شہباز شریف بھی نواز شریف کا ساتھ اس طرح نہیں دینگے جیسے ماضی میں دیتے تھے۔ شریف خاندان جتنی مرضی وضاحتیں کرے لیکن اندر سب اچھا نہیں۔

بھولے خبری نے ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلائی کہ اس وقت ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ارکان تیزی سے پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتوں میں جا رہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ اگلی ممکنہ حکومت پی ٹی آئی کی ہونا ہے۔ لیکن اس صورتحال میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن سے پہلے ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ بات کہہ کر بھولا خبری رک گیا اور معنی خیز ہنسی ہنسنے لگا۔ راقم نے پوچھا تو بھولے نے ایک اور انکشاف کیا۔ اس نے بتایا کہ یہ ‘چند’ لوگ ن لیگ میں ‘لائے’ گئے ہیں۔ تاکہ نواز شریف کو جلد از جلد بند گلی میں دھکیل دیں اور ان کے سیاسی کیریئر کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں۔ راقم نے نام پوچھنا چاہا تو بھولے نے خود ہی بتا دیا کہ صاحب دیکھ لیں کونسے کچھ بڑے نام نواز شریف کے بڑے سیاسی مخالفین اور مشرف کے ساتھ کھڑے رہے تھے اور اب خاموشی سے نواز شریف سے مل چکے ہیں۔ یہ کسی جماعت کے بندے نہیں ہوتے بلکہ یہ ‘ان ‘ کے بندے ہوتے ہیں۔

بھولے خبری نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ خود نواز شریف کے ساتھ کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ان پر جو کرپشن کے الزامات ہیں ان پر مقدمات بنے ہیں اور عدالتیں شفاف کارروائی کے بعد ان کا فیصلہ کریں۔ اور قومی امکان تھا کہ نوازشریف پر جرم ثابت ہوتا اور یہ اپنے خاندان کے بعض ارکان اور قریبی ساتھیوں سمیت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ لیکن نواز شریف اپنے خلاف صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی اداروں اور ملکی حساس معاملات پر لب کشائی کر چکے ہیں۔ جو انہوں نے اپنے پاؤں پر نہیں بلکہ گردن پر کلہاڑی ماری ہے۔ بھولے نے بتایا کہ ممبئی حملوں سے متعلق بیان کا مقصد امریکا اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دینے کے مترادف تھا کہ پاکستانی معاملات میں مداخلت کریں۔ اس کے بدلے نوازشریف امریکا اور دیگر ممالک کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ ان کیلئے بہترین انتخاب ہیں اور اب تمام ممالک ملکر ان کو اس مشکل گھڑی سے نکالیں۔ مگر اس بیان کو سیکورٹی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سیکورٹی اداروں نے دو ٹوک الفاظ میں وزیراعظم شاہد خاقان کو پیغام دیا کہ وہ نواز شریف کو ایسی حرکات سے روکیں۔ مگر شاہد خاقان بھی اس وقت دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ وہ نواز شریف سے وفا نبھا رہے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے ایسے ردعمل کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ اور سیکورٹی اداروں نے ایک اور فیصلہ کر لیا ہے۔ 28 جولائی 2017 کے بعد نواز شریف قومی اداروں کیخلاف مسلسل لب کشائی کر رہے ہیں اور اب تک قومی سلامتی ادارے خاموشی سے سن رہے تھے۔ لیکن اب ان کی جانب سے نہ صرف نواز شریف کو براہ راست ‘شٹ اپ ‘ کال دی جائے گی۔ بلکہ ان کیخلاف عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ بھولے نے بتایا کہ نواز شریف نے قومی سیکورٹی اداروں کیخلاف بول کر اپنے انجام کو اور قریب کر لیا ہے۔

راقم نے بھولے سے پوچھا کہ عدالتی کیسز کا فیصلہ کب تک متوقع ہے۔ تو بھولے نے پھر اپنی ایک سال پرانی بات راقم کو یاد کرائی۔ بھولے نے گزشتہ سال کہا تھا کہ نواز شریف اور ان کے بچے ایک سال بعد گرمیوں میں سزا یافتہ ہوکر سزائیں بھگت رہے ہوں گے۔ مگر اس بار بھولا خبری بولا کہ 20 جون سے 30 جولائی تک نوازشریف اور ان کے بچوں کیخلاف معاملہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔ اور عید کے بعد نواز شریف کسی بھی بدترین صورتحال کیلئے تیار رہیں۔ تاہم بھولے خبری نے ایک اور بات کا انکشاف بھی کیا ہے کہ نواز شریف کے پاس ان سزاؤں سے بچنے کیلئے بیرون ملک جانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ اور امکان قوی ہے کہ وہ عید سے قبل پرواز کر جائیں۔

بھولا خبری آج بہت اہم خبریں دے رہا تھا لیکن عشاء اور تراویح کا وقت ہو رہا تھا۔ اس لیے اس کو اٹھا کر مسجد کیلئے لیجانے لگا۔ اور راستے میں نواز شریف کی موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے شیخ سعدی کی حکایات سوچ رہا تھا کہ کہ تقدیر کا فیصلہ آنے پر عقل جاتی رہتی ہے اور جب قضا اپنا حربہ استعمال کرتی ہے تو شاطر سے شاطر دماغ بھی مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

16 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    Looks like you are blaming establishment for all ongoing saga against Sharif and his family which is totally incorrect. Financial crimes, frauds, lies and their nepotism are not mentioned in your articles which are the actual reason behind his dismissal. From theft to treason the story of NS is the real cause of the consequences he is facing today. As a sincere Pakistani no one should, I think, make it a comedy. The future 220 millions people today is in doldrums because of this family, particularly NS.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      shirazi sab 220 million r nothing .they even dont know their fundamental rights.they only cast vote .its establishment who drives country.NS is so strong that common person cant remove him.a strong is always removed by a stronger.and this time Establishment is doing what people want

  2. نعمان یاور کہتے ہیں

    بہت خوب تجزیہ کیا۔دراصل میاں صاحب کا مزاج ہی جمہوری نہیں جس وجہ سے انہیں اپنے لیے حالات خراب نظر آئے لیکن وہ بہت خوش قسمت ہیں، جنہیں اپنی بساط سے زیادہ ملا مگر انہوں نے شکر کم اداکیا، گلے زیادہ کئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اورپوری قوم کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      نعمان یاور صاحب سو فیصد اتفاق ہے آپ کی رائے سے .اور ہر صبح کی شام ہوتی ہے .نواز شریف کی 37 سالہ صبح کا سورج بس غروب ہونے کو ہے

  3. Athar کہتے ہیں

    Apki ki gai paisgoi tuuu pori hoti nazar aaa rhi hy…. Insan jitna marzi par phela ly lekin jbb Allah ki trf sy uski rassi khichti hy tuuu anjam aa jata hy abb Nawaz Family k sath bhi yehi ho rha….

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Athar Sab shukriya .ji Han gharoor ka Anjam zilat r ruswai k siwa kch ni .mian sab idaron pe qabza krna chte the ab anjam dekh lain

  4. Sharif Chaudhry کہتے ہیں

    Wow! What were WhatsApp messages? What were the charges? What was the decision under which constitutional article? Why were a defendant asked to defend? Do you know ABC of justice system?

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Sharif Ch Sab could you explain your main point what u wanted to ask plz

  5. Shirazi کہتے ہیں

    The article you wrote in language of comedy is the tragic story of past and its implications on future. Funds in billions diverted to personal accounts from various welfare and other projects left the poor hardworking nation in miserable state. Last four decades are nothing but a huge loss for an extremely hard earned Pakistan, the reason of the loss are still at large. We need to try our best to awake sleeping people who still for the sake of their vested interest are supporting looters of this nation. National interests are far more superior to personal.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Shirazi sab this can happen if you share this in your whatapp n FB groups.
      if you click my Name at the top of column you can find the different columns of mine ,written jn past .thx a lot

  6. Anwat کہتے ہیں

    Log kahtay han jiska khao uskay geet gaoo…

    Hum awaam sheeps and dogs han,hamari koi hesiat ni…hum to sirf vote caste krnay kay liya han,mulk kay faislay na janay kon karta ha…
    Nawaz shareef jinkay kandhay par beth kar iktidaar ma aye thay unkay he khilaaf ho gaye…
    Sab say barh kar jis dharti nay unko pala tha usi say ghadari kay murtakib howay…
    Unka yah haal to hona he tha.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Anwat Ji Ap ne thk kaha hai . Magr awam ka b qasoor hai . wo apne haqooq se ghafil hai . r Nawaz sharif to hamesha se hi irdaron ke apni muthi me krne k aadi hain jis ki waja se har bar subki uthaty hain

  7. Naveed Ijaz کہتے ہیں

    Very poorly written article. Could not read more than a few lines because of lack of any structure or coherence. Having said that, it’s incredible how anti-democratic and anti-people this writer appears from his comments. May be the love for being enslaved by the powerful is in some people’s genes.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Naveed Ijaz Sab , what do you mean by Structure .it will be my pleasure if you will define it . and secondly , you meant to say that any Anti Nawaz thing will be called Anti democratic & Anti People ?

  8. Naveed Ijaz کہتے ہیں

    Very poorly written article. Could not read more than a few lines because of lack of any structure or coherence. Having said that, it’s incredible how anti-democratic and anti-people this writer appears from his comments. May be the love for being enslaved by the powerful is in some people’s genes.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Naveed Ijaz Plz define structure , and what do you mean that any thing against NS is anti democratic ?

تبصرے بند ہیں.