میاں صاحب الیکشن کی گھڑی آگئی 

2,209

کبھی نواز شریف سب کی آنکھ کا تارا ہوا کرتے تھے۔ پھر ڈان لیکس اور مزید ایک غداری بھرا انٹرویو نواز شریف کی مقبولیت کو نہ جانے کہاں سے کہاں لے گیا۔ کہتے ہیں ہر حکمران کے پیچھے اس کے مشیر ہوتے ہیں۔ ایسے ہی نواز شریف کے بھی اس مرتبہ نئے مشیر ہیں۔

زرداری حکومت میں چودھری نثار سے جو کام لینا تھا لیا جا چکا ہے۔ ان کی مزید ضرورت نہیں رہی۔ ہاں اگر کبھی پھر ایسا دور آگیا تو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ پھر سے ہمرکاب ہوں گے۔ وہ بھی ماضی سب بھول کر۔ یہی سیاست کے اصل رنگ ہیں۔

بات میاں صاحب کے مشیروں کی ہو رہی تھی۔ ان سے سب سے بنیادی مشیر تو پرویز رشید ہیں۔ دوسرے مشیر محمود اچکزئی ہیں۔ لیکن پرویز رشید بیان ناقابل یقین حد تک اپنی گرفت رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں جوں جوں ہم پڑھتے ہیں تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔ ان کے حوالے سے میں اپنے عظیم استاد ڈاکٹر توصیف احمد کی ایک تحریر کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ چونکہ ڈاکٹر توصیف خود بھی بائیں بازو کی طلبہ سیاست کا حصہ رہے ہیں تو ان سے بہتر پرویز رشید کو کون سمجھ سکتا ہے۔

دس مئی 2017 کو شائع شدہ اپنے کالم ”آزادی اظہار تاریخی پس منظر” میں ڈاکٹر توصیف احمد خان لکھتے ہیں ”پرویز رشید کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ وہ طالب علمی کے زمانے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوئے۔ کارل مارکس، لینن اور چیئرمین ماؤ کے نظریات کے اسیر ہوئے۔ ڈاکٹر رشید حسن خان اور معراج محمد خان کی قیادت میں قیدوبند کی صہوبتیں برداشت کیں۔ پھر بائیں بازو کی سیاست سے مایوس ہوئے اور میاں نواز کی شخصیت پر نثار ہوگئے۔ میاں نواز شریف نے دوسری بار حکومت بنائی تو پرویز رشید کو پاکستان ٹیلی وژن کا چیئرمین بنایا گیا۔ جب نناوے میں پی ٹی وی پر دھاوا بولا گیا تو پرویز رشید نے مزاحمت کی۔ پرویز رشید لاپتہ ہوئے، نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا اور تیسرے درجے کے تشدد کا نشان بنے۔ پرویز رشید کی تربیت بائیں بازو کے کلچر میں ہوئی تھی۔ جب ان پر تشدد ہو رہا تھا شاید ان کے ذہن میں حسن ناصر اور نذیر عباسی کی شخصیات ہونگی جو ساٹھ اور اسی کی دھائی میں بدترین تشدد کا شکار رہے مگر زبان نہیں کھولی۔ بہرحال پرویز رشید کو مہینوں نظربند رکھا گیا۔ وہ رہا ہوئے اور امریکہ چلے گئے جہاں ایک یہودی ڈاکٹر نے ان کا علاج کیا اور کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ اس ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس کے والد جرمنی میں نازی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اسی طرح کے تشدد کا شکار ہوئے تھے۔ انہیں ریاستی تشدد اور اس کے اثرات کا بخوبی اندازہ ہے۔ پرویز رشید نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں وزیر اطلاعات بنے۔ ”

اسی طرح پرویز رشید کے بارے میں عطا الحق قاسمی رقمطراز ہیں۔

اکتیس اکتوبر 2016 کو کالم ”پرویز رشید،ایک فقیر شخص” میں عطا الحق قاسمی لکھتے ہیں ”انہوں نے اپنا سارا وقت جلاوطنی نواز شریف کے ساتھ گزارا، جب پرویز مشرف کے دور میں واپس پاکستان آئے اور انہیں دوسرے طیارے ہی سے واپس بھیج دیا گیا۔ اس مشکل دور میں وہ نواز شریف کے ساتھ اور پھر ایک وقت آیا جب میاں صاحب دوبارہ پاکستان کیلئے روانہ ہوئے اب پرویز رشید کو برطانوی پاسپورٹ ملنے والا تھا مگر وہ انہوں نے وہیں پھینکا اور واپس اپنے لیڈر کے ساتھ پاکستان آگئے۔”

بہت کم لوگ پرویز رشید کے ماضی سے واقف ہوں گے۔ ان کے نرم لہجے میں چھپی تلخی کو وہی پہچان سکتا ہے جو کرب کے لمحات سے گزر چکا ہوں ورنہ آپ اسے یونہی سرسری انداز سے درگزر کر دیں گے۔

دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں نواز شریف اپنے مشیرخاص پرویز رشید کے مشوروں کے ساتھ اتریں گے۔ اپنے محدود آپشنز کے ساتھ الیکشن مہم چلانا مریم نواز کیلئے بھی یہ دشوار عمل ہوگا۔

ایک راستہ ابھی کھلا ہے وہ ہے اپنے جیدار وفادار سپاہیوں کا ساتھ جو انہیں ابھی بھی حاصل ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب الیکشن میں ٹکٹ تقسیم کئے جائیں گے۔ پی ایم ایل این کے سوشل میڈیا ونگ سے وابستہ شیح ریحان المعروف جیدار بڈھا پٹوری کہتے ہیں کہ اس مرتبہ میاں صاحب کو صرف پارٹی وفاداروں میں ہی ٹکٹ تقسیم کرنے ہوں گے ورنہ لوٹوں کو جگہ دی تو یہ آپ کو پھر سے دغا دے کر اپنا راستہ بدل جائیں گے۔

کچھ فیصلے کریں گے میاں صاحب اور ہوگا یوں مسلم لیگ کے مستقبل کا تعین۔ چلیں انتظار کرتے ہیں مگر جو بھی کریں میاں صاحب آپ کے پیچھے پوری پارٹی منتظر ہے۔ آپ کے مشیر خاص پرویز رشید کیا مشورے دیتے ہیں اور آپ کیا عمل کرتے ہیں۔ سوچئے گا ضرور۔

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    The man you are advising is a national criminal in dual way. The empire he built in five continents with embezzled funds thus deriving the nation which voted him in power, is an unforgivable an severely punishable crime. His second crime is his statement against the security of 220 million souls that exactly equates to treason. Turning guns toward armed forces means trying to kill 220 millions people , this unforgivable crime. Millions are waiting desperately to see him facing the harshest consequences for his past three decades perpetual betrayals.

تبصرے بند ہیں.