چھوڑ امریکا کے لئے رقصِ بدن کے خم و پیچ

1,349

پاکستان کے لئے اس سے زیادہ شرم کی بات نہیں ہو سکتی کہ 14 مئی کو عین اس روز جب فلسطین پر اسرائیل کے تسلط کے ستر سال مکمل ہوئے تھے، امریکی سفارت خانہ، یروشلم منتقل ہورہا تھا اور محصور غزہ میں اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنا رہی تھی، پاکستان نہ صرف مصلحت کی چادر اوڑھ کر خاموش بیٹھا تھا بلکہ امریکا کی خوشنودی کے لئے اسلام آباد میں ایک پاکستانی نوجوان کی جان لینے والے امریکی فوجی اتاشی کرنل جوزف کو اسلام آباد میں فضائیہ کے ہوائی اڈہ پر امریکی فوج کے حوالہ کر رہا تھا۔ کرنل جوزف کو امریکا کے حوالے کرنے کے موقع پر دیت کا وہ ڈرامہ بھی نہیں کھیلا گیا تھا جو ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالہ کرنے کے لئے کھیلا گیا تھا۔

پاکستان کے لئے انتہائی شرم کی بات ہے کہ ترکی واحد مسلم ملک ہے جس نے امریکی سفارت خانہ یورشلم منتقلی اور غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 60 فلسطینیوں کی ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج امریکا سے اپنا سفیر واپس بلانے اور ترکی سے امریکی سفیر کو نکالنے کا اعلان کیا۔ غزہ کے قتلِ عام کے دوسرے روز لندن میں وزیر اعظم ٹریسا مے کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں صدر اردوان نے کھلم کھلا اسرائیلی فوج کی بر بریت کی شدید مذمت کی۔

غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر لندن سے لے کر نیویارک تک ساری دنیا میں صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے لیکن پاکستان میں مجرمانہ خاموشی کا کوئی جواز نظر نہیں آتا، سوائے امریکا کے خوف یا حکمرانوں کے امریکا سے وابستہ مفادات کے۔

ان حالات میں پاکستان کے عوام کی توجہ 1937ء میں لکھنو کی مسلم لیگ کی کانفرنس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تقریر کی طرف مبذول کرانا بے سود ہے، جس میں انہوں نے فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ بر صغیر کے مسلمان، ارض فلسطین پر کسی بیرونی طاقت کا تسلط برداشت نہیں کریں گے۔ پھر 1945ء میں بمبئی میں ایک جلسہ عام میں قائد اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان، فلسطین کے مسئلہ پر عربوں کے ساتھ ہیں۔ فلسطین پر دراصل برطانیہ کی بندوقوں اور امریکا کی دولت کی مدد سے یہودی ارض فلسطین کو فتح کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے دو ہزار سال قبل گنوا دی تھی۔

پاکستانی قوم اپنے قائد کے اور کن اقوال کا احترام کرتی ہے کہ اس سے یہ امید کی جائے کہ وہ فلسطین کے مسئلہ کے بارے میں بانی پاکستان کے جذبات کا احترام کرے۔

کس قدر فرق ہے 1920ء سے جب بر صغیر کے مسلمان خلافت عثمانیہ کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور تحریک خلافت کے پرچم تلے، مسلح جدو جہد کا عزم کر کے برطانوی راج کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اُس وقت بر صغیر کے مسلمان، انگریزوں کی غلامی کے طوق میں بندھے ہوئے تھے لیکن آج پاکستان کے عوام، آزاد ہیں لیکن انداز غلامی کے دور سے بھی بد تر ہے۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر۔ ۔ مرداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. M Moaz Malik کہتے ہیں

    Jnaab to Pakistan only atomic power hy muslim world me iska kia faida?Hmmari army bhi unky agay bik gayi jab Joseph ka plane civil airport p land hua to khaali haath gya isky barakas airbase p land hua to le k chla gya is tarhan to kch nhi hoga hm qarzay le k kabhi America kabhi China se ghualm bne huay hain

  2. وقار کہتے ہیں

    مرد ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
    تصیح فرما لیں

  3. Ilyas Khan, London کہتے ہیں

    Asif Jeelani sahib. You refer to the Khalifat Movement of subcontinental Muslims in support of the Ottoman Empire in 1920s. As a seasoned journalist you should have also informed the present generation readers as to where the Arabs, and the people of Palestine stood then? Of course they were back-stabbing the same Caliphate by terrorist action as directed by Col Lawrence of Arabia, and Col Gertrude Bell, the Mama of present day Saudi Arabia and Iraq. To top it all, the British General Allenby who took the surrender of Jerusalem from Ottoman Garrison was wildly welcomed by the Palestinians chanting, “Al-Nabi”! Al-Nabi !” Shafiq ur Rehman in his epic reportage “Dijla” writes about it. Surely you have read it. So? With all sympathy for present people, that historic “ghaddari” has meant that the Arabs have seen no peace since then.

تبصرے بند ہیں.