فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکیوں اور اسرائیلیوں کا رقص

1,494

14 مئی کو یروشلم میں جب فلسطینیوں اور دنیا بھر کے آزادی پسند عوام کے شدید احتجاج کو ٹھکراتے ہوئے امریکی سفارت خانہ کے افتتاح کی رسم ادا کی جارہی تھی تو 75 کلو میٹر دور، محصور غزہ میں اپنے چھنے ہوئے وطن کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے فلطینیوں پر اسرائیلی فوج اندھا دھند فائرنگ کر رہی تھی۔ ایک شام میں اسرائیلی فوج نے 59 نہتے فلسطینیوں کو ڈھیر کر دیا جن میں چند ماہ کا بچہ بھی شامل ہے جو اشک آور گیس سے دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگیا۔

عین اس وقت جب غزہ میں فلسطینیوں کی لاشیں گر رہی تھیں، امریکی صدر ٹرمپ کا یہودی داماد کوشنر کہہ رہا تھا ’’ مجھے فخر ہے کہ میں یہودیوں کے ابدی دل یروشلم میں موجود ہوں۔ ہم۔ ۔ امریکا اور اسرائیل شانہ بشانہ کھڑے ہیں کیوں کہ ہم آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت کا دفاع ہمارا ادرش ہے۔ ‘‘

trump's son in law speaking at us embassy opening in jerusalem

israeli pm at the opening ceremony of us embassy in jerusalem

پھر 75 کلومیٹر دور غزہ میں اپنی آزادی کے لئے جان دینے والے فلسطینیوں کے بارے میں ٹرمپ کے داماد کوشنر نے کہا کہ ’’ یہ لوگ جو تشدد بھڑکا رہے ہیں مسئلہ کا حل نہیں بلکہ مسئلہ کی وجہ ہیں۔ ‘‘

ٹرمپ کے داماد کے یہ کلمات در حقیقت فلسطینیوں کی لاشوں پر رقص کرنے کے مانند تھے۔ محصور غزہ میں زخمی فلسطینی بے بسی کے عالم میں خار دار تاروں کی باڑھ میں ٹنگے ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کی اتنی شدید فائرنگ ہورہی تھی کہ ان کے پاس کوئی نہیں پہنچ پا رہا تھا اور کوئی ایمبولنس تک نہیں پہنچ سکی تھی۔


یہاں پڑھیں: بے اماں فلسطینیوں پر عذاب کے70 سال


شمالی غزہ میں انڈونیشیا ہسپتال کا مردہ خانہ، فلسطینیوں کی لاشوں سے بھر رہا تھا اور یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کے افتتاح کی تقریب میں خوشی سے پھولے نہ سمائے اسرائیلی وزیر اعظم نیتھن یاہو امریکا اور امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔ ’’دوستو، کیا شاندار دن ہے آج کا۔ آج تاریخ رقم کی جارہی ہے۔ مسٹر ٹرمپ، آپ تاریخ تسلیم کرتے ہوئے تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ‘‘

یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج بری طرح سے زدو کوب کر کے پیچھے دھکیل رہی تھی اس موقعہ پر خوشی سے رقص کرنے والے یہودیوں کا مجمع نعرے لگا رہا تھا’’ آگ لگا دو انہیں، گولی ماردو انہیں، ہلاک کر دو انہیں۔ ‘‘

Mourners carry the body of a Palestinian, who was killed during a protest at the Israel-Gaza border, during his funeral in Khan Younis in the southern Gaza Strip

یہ سب اس روز ہورہا تھا جب اسرائیل کے قیام کو ستر سال مکمل ہو گئے تھے اور فلسطینی تباہی اور بربادی کا وہ دن منا رہے تھے جب ستر سال قبل لاکھوں فلطینیوں کو ان کے گھروں سے اور ان کے وطن کی سرزمین سے جبراً نکال کر صدیوں سے ان کے آبائو اجداد کی سر زمین، یورپ کے یہودیوں کے حوالہ کر دی گئی تھی۔

ستر سال پہلے بھی مغربی طاقتیں خاموشی سے اس عذاب کو دیکھتی رہیں تھیں جو فلسطینیوں پر ٹوٹ رہا تھا۔ اور ستر سال بعد بھی دنیا خاموشی سے فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکیوں اور اسرائیلوں کا رقص دیکھتی رہی۔

PALESTINIAN-ISRAEL-CONFLICT

عالم اسلام میں واحد ملک ترکی نے اس ظلم کے خلاف بطور احتجاج اپنا سفیر امریکا سے واپس بلا لیا اور اس کے ساتھ جنوبی افریقہ نے بھی اپنے سفیر امریکا اور اسرائیل سے واپس بلا لئے۔

اپنے آپ کو اسلامی جمہوری کہلانے والا پاکستان ’’ خوابِ مصلحت ‘‘میں سویا رہا۔ بلکہ اس روز امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسلام آباد میں امریکی فوجی اتاشی کرنل جوزف کو امریکی فوج کے حوالہ کردیا، جس نے 7 اپریل کو اسلام آباد میں ٹریفک کا اشارہ توڑ کر ایک نوجوان پاکستانی طالب علم کو ہلاک کردیا تھا۔ اس بار تو ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی طرح دیت کا ڈرامہ بھی نہیں کھیلا گیا۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. TAYYABA کہتے ہیں

    on 14 May both CNN and BBC USA gave the news of 58 Palastinian dead in Gaza PROTEST. None of the two mentioned that it had happened in one day Monday. ON Tuesday BBC ADDED Monday in this report. Pl publish the map of Jerusalem showing holy land marks of Muslims, Christian and Jews. Interviews with scholars and make a justifiable solution of this conflict.Israil had no civilized, dignified response of 7 weeks of protest for 2 state solution.Israil can be recognized with what conditions. PRINT IT EVERY WHERE AND HELP THEM TO GET THEIR GOAL PEACEFULLY.AQSA MOSQUE IS not just a Mosque it is First QIBLA as well. So all Muslims minds should combine to get the favor of Israil.No double standard for human lives should be tolerated. Christian Pastors should also educate about Jihad written in Last holy book of same God WHO SEND THE Torah and BIBLES. When GOD WILL TRY TO END THE BIG BAN IT CAN DO IT IN MINUTES. But man made disasters can not be coved by religious versis.God had also given message of Peace and LIVE AND LET OTHER LIVES IN PEACE.AMEEN
    5/15/2015
    TKS

  2. Usman کہتے ہیں

    آپ نے بجا فرمایا۔ صرف ترکی ہی واحد ملک ہے جس نے سفارتی طور پر کچھ مزاحمت دکھائی ہے۔ پاکستانی جو اپنے سوا سب ترکی جیسے ملکوں کو لبرل سمجھتے ہیں میں کہتا ہوں ان کے دین ایمان سے وہ سیکولر ملک بہتر ہے۔ اور مجھکو اب لگتا ہے کہ ترکی کو ہمت کر کے مسلمان ملکوں کو لیڈ کرنا چاہیئے۔ سعودی معودی اب سینما اور ریسلنگ کروانے میں مصروف ہیں۔

تبصرے بند ہیں.