مختصر کہانی: شکیل اور اجی بھائی

1 210

اے سکیل بانکڑے کو کیلی مار۔ سالا! اس پہ بیٹھو تو چوں چوں کرتا ہے۔ ایک کیلی مار اس کو جما کر، اس کی چوں چوں تو بند ہووے۔ سالا! کچھ تو کام کر۔

اجی بھائی! یہ اب کسی کام کا نہیں۔ شکیل نے اجی بھائی سے کہا

دیکھ سکیل تو میرا منسی ہے کیا؟ مسیر نہیں۔ سالا سیٹھ اجی بھائی کو مسورہ دیتا ہے، بجنس مین ہوں کیا، کوئی چوپاٹی لکھنے والا نہیں۔

اجی بھائی دانا والا سفید پائجامے اور کرتے میں ملبوس اپنے کھوکے میں بیٹھا بار بار بیڑ ی سلگاتا،

اجی بھائی کے کرتےکے دامن پر پان کے بے شما ر داغ تھے۔ کرتے میں لگے سونے کے بٹن اجی بھائی کے آسودہ حال ہونے کی نشانی تھی۔

اجی بھائی کے سامنے پانچ چھ ٹیلی فون رکھے تھے۔ کبھی ایک اٹھاتا، کبھی دوسرا اور کبھی تیسرا۔ اجی بھائی یکدم چیخا۔

اے ہو گیا ہو گیا سودا ہو گیا۔ سکیل او سکیل۔

اجی بھائی دانا والا چلایا۔

سکیل اے کدھر مریلا ہے۔

شکیل ہاپنتا کانپتا آیا۔

ارے تو سنتا کائے کو نہیں سکیل۔ میں اتے جور سے چلا ئے جا رہا ہوں۔

جی عزیز بھائی! آپ نے بلایا؟ شکیل نے پو چھا۔

ہاں بلا یا۔ کیا اعتراج ہے تجھ کو۔

نہیں عزیز بھائی، میں نے تو آپ سے پوچھا ہے۔

جلدی کر، چوپاٹی لا اور اس میں لکھ، گھپار بھائی رنگون والا سے کجھوروں کا سودا ہو گیا. یا غوث عاجم بس یہ کھجوروں کا سپ پہنچ جاوے رمجان سے پہلے پہلے۔ اس دھپہ گیارہویں کی نیاج ایسی ہو گی اکھا کراچی دیکھے گا۔

اجی بھائی لکھ لیا چوپاٹی میں۔

سکیل اس دھپہ یہ رمجان لگ گیا تو سمجھ وارے نیارے۔

لیکن اجی بھائی ذخیرہ کرنے والوں کے لئے بڑی سخت سزا ہے اور آپ تو رمضان المبارک میں ذخیرہ کر رہے ہیں۔

سالا تو میرا منسی ہے۔ منسی ہی رہ۔ مفتی نہیں بننے کا۔ میرے کو تیرے سے پھتوا نہیں لینے کا اور پھر میں کوئی جکھیرہ تو نہیں کر رہا۔ سالا اتا بڑا سپ کبارڈ میں تو نہیں رکھ سکتا گو ڈآن میں ہی رکھوں گا نے. تو کائے کو اس کو جکھیرہ بولتا ہے۔ سالا چل میرے لئے چائے کا کوپ لا۔ کیا بولا جلدی کرنے کا ہے۔

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Excellent

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.