جمہوریت بیگم

2,531

جمہوریت بیگم پیروں میں گھنگھرو باندھ کر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ اصغری بائی کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ اصغری بائی نے جمہوریت کی طرف ہاتھ بڑھا کر بلائیں لیتے ہوئے کہا،

“چندے آفتاب، چندے ماہ تاب، میں صدقے، میں واری۔ اللہ نظرِ بد سے بچائے۔۔۔ چل شاباش۔۔۔ تیار ہو جا۔۔۔۔ میری رانی۔ مرزا صاحب۔ راؤ صاحب، مخدوم صاحب، خان صاحب، شیخ صاحب، صاحبزادے، نواب۔۔”

اصغری بائی کا جملہ ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ جمہوریت بیگم نے اصغری بیگم کا جملہ اچکتے ہوئے گرہ لگائی، “اور کئی حرام۔۔۔”

“نہ نہ، ایسا نہیں کہتے۔ ہمارے لئے تو سب ہی معتبر ہیں۔”

“معتبر یا تماشبین؟”

جمہوریت بیگم نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔

“چل چھوڑ! تو کہاں اس بحث میں الجھ رہی ہے۔ میری رانی۔”

جمہوریت بیگم نے کہا۔ “اماں ہر دفعہ یہ ہی لوگ چنے جاتے ہیں۔ کیا ملک سنوارنے کا ٹھیکہ ان ہی لوگوں نے لے رکھا ہے اور پھر دولت کے انبار بھی یہ ہی لگا لیتے ہیں۔ جمہور بے چارہ اس کے سر میں تو ان کی گزرنے والی گاڑیوں کی دھول ہی پڑتی ہے۔ وہ قاضی صاحب! ایک زمانہ ان کی شرافت کی قسم کھاتا ہے۔ وہ تو کبھی منتخب نہیں ہوئے۔ ایسا کیوں ہے اماں؟”

“میری کٹو رانی! تیری سمجھ میں نہیں آئے گی یہ بات۔ جنہیں تو نےاتنی موٹی سی گالی دے ڈالی۔ معاشرہ انہیں اشرافیہ کہتا ہے اور حق بھی ان ہی کا ہے۔ پولیس، کوتوالی، وزیر، سفیر ہر جگہ ان ہی کی چلے۔ یہ جب چاہیں سیاہ کو سفید، سفید کو سیاہ کر ڈالیں۔ کون جانے قاضی صاحب کو۔ پلے نہیں دھیلہ۔ کرتے پھریں میلہ میلہ۔ میری کٹو رانی، یہ باتیں تیرے سوچنے کی نہیں۔”

“تو اماں کیا میں یونہی ناچتی رہوں گی۔ اب، تو ناچ، ناچ کر پیروں میں بھی چھالے پڑ گئے ہیں۔”

“ہڈیاں چٹخنے لگی ہیں، ہمت جواب دے گئی ہے۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ کوتوالی میں کوئی نہیں سنتا۔ پولیس ان کی زر خرید غلام، قانون گھر کی لونڈی، تقریریں کریں تو زمین آسمان کے قلابے ملا دیں۔ آج تک حالت نہیں بدلی جمہور کی اور یہ بڑے بڑے پیٹوں اور مکروہ چہروں والے جب نزدیک آتے ہیں تو ان کے منہ سے انسانی خون کی بو آتی ہے۔”

اصغری بائی کی ماں اکبری بائی نے جمہوریت کی باتیں سنیں تو اصغری بائی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ “چل ہٹ پیچھے، جمہوریت اب جوان ہو رہی ہے۔ کچھ بولنے کا حق تو اسے بھی ہونا چاہیے۔ اچھا بولے یا برا۔ حق تو ہے اسے بھی۔”

جمہوریت بیگم بڑی اماں کی اسی ایک بات پر پسیج گئی۔ جمہوریت نے بڑی اماں کی لچھے دار باتیں سن کر اپنی بانہیں اصغری بائی کے گلے میں ڈال دیں۔

“ام۔۔ ماں۔۔ اب تو۔ تو ناراض نہیں۔”

جمہوریت بیگم ایک بار پھر روشن کل کی آس لئے ناچنے کے لئے تیار ہے۔

چھن، چھن، چھن

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    Democracy of 21st century has so far played havoc with the champions of democracies. It has given birth to Modi, Tump and the brilliant brains Nawaz and. Zardari in Pakistan. If democracy fathers such children then political scientists have no choice but to seriously work to find an alternative for the survival of mankind and the lonely planet we live on!

  2. Shirazi کہتے ہیں

    Democracy of 21st century has so far played havoc with the champions of democracies. It has given birth to Modi, Tump and the brilliant brains Nawaz and. Zardari in Pakistan. If democracy fathers such children then political scientists have no choice but to seriously work to find an alternative for the survival of mankind and the lonely planet we live on!

تبصرے بند ہیں.